فلور ملز مالکان و محکمہ کی ملی بھگت:‌پونچھ ڈویژن میں‌سرکاری آٹے کا بحران، قیمتوں‌میں‌اضافہ ہوگیا

فلور ملز مالکان اور محکمہ خوراک کی مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے پونچھ ڈویژن میں‌سرکاری آتے کا بحران پیداہو گیا ہے. کورونا وائرس ہیلتھ ایمرجنسی کے سلسلہ میں‌لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب اور دیہاڑی دار افراد شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں. سرکاری آٹے کی قلت کی وجہ سے قیمتیں‌بھی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں. یہی صورتحال مزید دو روز تک رہی توآٹے کی قیمتوں‌میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے.

محکمہ کہ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پونچھ ڈویژن میں‌آٹے کی فراہمی کا ٹھیکہ سردار عزیز خان کی تین فلور ملز کے پاس ہے. لیکن ارجہ اور گوراہ کی فلور ملز کو بند کر کے صرف آزاد پتن فلور ملز کو چلایا جا رہا جس کی وجہ سے پونچھ ڈویژن میں آٹے کی ڈیمانڈ پوری نہیں‌ہو رہی اور قیمتوں‌میں‌اضافہ ہو رہا ہے. اس عمل میں‌محکمہ خوراک کے ذمہ داران اور ملز مالکان دونوں‌شامل ہیں. ایک طرف ملز مالکان دو فلور ملز کو بند کر کے بجلی، ٹرانسپورٹ اور لیبر کی تنخواہوں‌کے اخراجات کی بچت کر رہے ہیں، دوسری طرف آٹے کی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے قیمتیں‌زیادہ ہوتی ہیں جس سے دہرا فائدہ اٹھایا جاتا ہے.

آٹا ڈیلرز کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں ضرورت سے بہت کم آتا سپلائی کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے شہر کی ضروریات پوری نہیں‌ہو پا رہی ہیں. قلت کی وجہ سے قیمتوں میں‌بھی اضافہ ہو جاتا ہے. جس کی وجہ سے غریب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

ایک طرف کورونا وائرس کی وجہ سے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے کےلئے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف سرکاری محکمہ جات ہی لاک ڈاؤن سے متاثرہ عوام کے کندھوں‌پر مزید معاشی بوجھ لاد کر خود مفادات حاصل کرنے میں‌مصروف ہیں.

شہریوں‌نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حکومت اور انتظامیہ اس بحران کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف آٹے کی قلت کا خاتمہ کیا جائے بلکہ قیمتوں‌کو بھی کم کیا جائے تاکہ شہریوں‌کو ریلیف مل سکے.

سیاسی و سماجی رہنماؤں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ سرکاری سطح‌پر فراہم کردہ آٹے کی قیمتیں نصف کی جائیں‌تاکہ ہنگامی حالات میں‌غریب عوام کو ریلیف مل سکے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: