پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تاجران نے کاروبار بند کرنے کاحکومتی فرمان تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت سے رینٹ اور ملازمین کی تنخواہوں کیلئے رقوم کی ادائیگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ بصورت دیگرحکومت سے کسی طرح کا تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مرکزی صدرانجمن تاجران سردار افتخار فیروزنے روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر بھر میں کاروبار، شادی ہال، ریسٹ ہاؤسز وغیرہ کو بند کرنے کے حوالے سے حکومت نے اپنے طور پر فیصلہ کر دیا ہے۔ لیکن تاجران اس طرح کا کوئی فیصلہ تسلیم نہیں کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے سارا بوجھ غریب عوام اورتاجروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر کاروبار، ٹرانسپورٹ سمیت ہر طرح کا نظام زندگی معطل کیا جا رہا ہے تو پہلے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ کرنے کی حکمت عملی وضع کی جائے اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے۔
ہزاروں کی تعداد میں ملازمین تاجروں کے پاس ملازمت کر رہے ہیں جن کے چولہے کاروبار کی روانی سے چلتے ہیں، کاروبار چلنے سے ہی عمارات کے کرایہ جات ادا کئے جاتے ہیں، دیہاڑی دار دکاندار دن بھر دکانداری کرتا ہے تو شام کو اسکا چولہا جلتا ہے۔ لیکن حکمران عام عوام کی مشکلات اور مصائب سے لاعلم کسی سیارے کی مخلوق لگ رہے ہیں جنہیں یہ تک احساس نہیں کے چالیس روز تک نظام زندگی کو معطل کرنے سے ان لاکھوں لوگوں کے گھروں کے چولہے کیسے جلیں گے، کورونا وائرس کی وباء سے بچنے کیلئے اکثریتی محنت کش طبقے کی زندگیوں سے کھلواڑ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دو روز کے اندر اندرحکومت اپنی پالیسی وضع کرے اورتاجروں کو اعتماد میں لے،دنیا ساری میں حکومتیں عوام کو گھروں تک محدود کر کے انہیں سوشل سکیورٹی (امدادی رقم) ادا کر رہی ہیں، صحت مفت سہولیات فراہم کر رہی ہیں، خوراک اور رہائش کی ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے، اسی لئے لوگ لاک ڈاؤن کو بھی قبول کر رہے ہیں۔ لیکن اس خطے کے حکمران عوام کو سہولیات، خوراک، رہائش، طبی سہولیات اور مالی امداد فراہم کرنے کی بجائے ان سے روٹی کا آخری ٹکڑا تک چھین کر انہیں گھروں میں مقید کرنے کی منصوبہ بندی اپنارہے ہیں۔ جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دو دن کے اندر ہمیں اعتماد میں نہ لیا گیا تو ہم ہر طرح کے شاہی فرمان کو جوتے کی نوک پر رکھیں گے، ہم اپنی پالیسی وضع کریں گے۔ غریب عوام کو مجبور نہ کیا جائے کہ حکمرانوں سے انکے اقتدارکوچھین کر وسائل کو اپنی اجتماعی تصرف پر لانے پرمجبورہوں۔
انکاکہناتھا کہ اگر حکمران وباء پر قابو پانے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں تو اس اقتدار کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں۔ اس خطے کے عوام اجتماعی طور پر نہ صرف وباؤں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے تمام لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ اور صحت مند رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیلنے کے بعد پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا ہے۔ جس کے بعدہر طرح کے عوامی اجتماعات، شادیوں اور تقاریب پر پابندی اور تعلیمی اداروں میں تعطیلات کر دی گئی تھیں۔ ہفتہ کے روز سے تمام انٹری پوائنٹس سے پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جبکہ حکومت کامنصوبہ ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی دکانوں اور میڈیکل سٹورز کے علاوہ دیگر ہر طرح کا کاروبار بھی وقتی طور پر بند کر دیا جائے۔ ہوٹلوں سے بھی صرف پیک شدہ کھانا گھر لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دیگر کاروبار کے چلنے سے ہی ہوٹلوں کا کاروبار بھی چلتا ہے۔ صنعتی سیکٹر نہ ہونے کی وجہ سے روزگار کا انحصار بھی نجی کاروبار اور نجی تعلیمی اداروں پرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے لوگ گھروں میں مقید تو ہو جائیں گے لیکن انہیں خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے تاحال دیہاڑی دار مزدوری کرنے والوں یا لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افراد کے مالی نقصانات کے ازالے اور خوراک کی قلت کے تدارک کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی ہے۔ جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں صحت کی سہولیات بھی انتہائی مخدوش ہیں۔ اگر وباء بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے تو بہت بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔












Thank you for your sharing. I am worried that I lack creative ideas. It is your article that makes me full of hope. Thank you. But, I have a question, can you help me? https://www.binance.info/futures/ref?code=QCGZMHR6