راولاکوٹ کی ایک مقامی عدالت نے پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کی حفاظتی تحویل میںرکھنے کا حکم دے دیا ہے.
اکثریتی قبیلے کے افراد جوڈیشل کمپلیکس راولاکوٹ کے باہر کثیر تعداد میںموجود تھے، جو مذکورہ شادی سے نالاں لگ رہے تھے، کچھ افراد نے مذکورہ پسند کی شادی کو کسی صورت قبول نہ کرنے کے الفاظ کا با آواز بلند اظہار بھی کیا.
بدھ کے روز تھانہ پولیس داتوٹ میںایک لڑکی کے اغواء کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا. لیکن جمعرات کو ہی لڑکے اور لڑکی نے راولاکوٹ کی مقامی عدالت میںحاضر ہوتے ہوئے عبوری ضمانت اور زندگیوںکے تحفظ کی درخواست دائر کی.
عدالت نے فریقین کو سماعت کرتے ہوئے پسند کی شادی کرنے والے جوڑی کی درخواست ضمانت کو منظور کیا اور شادی شدہ جوڑے کو پولیس کی حفاظتی تحول میںدیئے جانے کا حکم بھی جاری کیا گیا.
واضح رہے کہ پسند کی شادی کرنے والے طالبلعم رہنما یاسر یونس کا تعلق راولاکوٹ کے نواحی علاقے پاچھیوٹ سے ہے.
پسند کی شادی کا یہ معاملہ اس وقت سنگین نوعیت اختیار کر گیا جب مذکورہ علاقہ میںاکثریتی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لڑکے کے ورثاء نے لڑکی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا. جس کے بعد لڑکی کے ورثاء کی جانب سے بھی اغواء کا مقدمہ درج کروا لیا تھا.
عدالت میں درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران عدالت کے باہر کثیر تعداد میںلوگ جمع تھے، جو مذکورہ شادی کے فیصلے کے خلاف تھے. تاہم پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی، تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے.
عدالت کے فیصلے کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی تحویل میں شادی شدہ جوڑے کو تھانہ پولیس راولاکوٹ منتقل کر دیا گیا. تھانہ پولیس راولاکوٹ کے ذرائع کے مطابق بعد ازاں لڑکے اور لڑکی کی مرضی کے مطابق محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا جائے گا.












17 تبصرے “راولاکوٹ: پسند کی شادی کرنیوالا طالبعلم رہنما اہلیہ کے ہمراہ پولیس کی حفاظتی تحویل میں”