بھارتی زیر انتظام کشمیر میں‌متعدد سوشل میڈیا صارفین کے خلاف مقدمہ درج

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سخت کارروائی کرتے ہوئے سائبر پولیس اسٹیشن کشمیر زون سرینگر نے مختلف سوشل میڈیا صارفین کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

پولیس کے مطابق ایف آئی آر ان افراد کے خلاف درج کی گئی ہے جنہوں نے حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کیا۔ یہ مقدمہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ ( یو اے پی اے) کے تحت درج کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں غلط معلومات / افواہوں کی تشہیر کے لیے شرپسند عناصر کے ذریعہ سائٹس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے تمام سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حکم نامے کے مطابق افواہوں کو روکنے، غلط اور جعلی خبروں کو پھیلانے پر روک لگانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق علیحدگی پسند نظریے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے شرپسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹس کے غلط استعمال کی اطلاعات آ رہی ہیں۔اس بارے میں ایف آئی آر اس وقت درج کی گئی جب حریت لیڈر سید علی گیلانی کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا اور اسے لوگ شئیر کرنے لگے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی کے باوجود بھی مختلف وی پی اینز کا استعمال کرکے شرپسند عناصر وادی کشمیر کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے بارے میں افواہیں پھیلا رہے ہیں۔

جموں وکشمیر میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگنے کے بعد لوگ پراکسی سرور کے ذریعہ اس کا استعمال کر رہے تھے۔ گیلانی کا ویڈیو ایسے ہی پراکسی سرور سے اپ لوڈ کیا گیا اور لوگوں نے اسے شئیر کرنا شروع کر دیا۔

حکام کی جانب سے اس کے نوٹیفکیشن کے بعد سائبر پولیس اسٹیشن کشمیر زون سرینگر میں پہلی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

یو اے پی اے دہشت گردی اور نکسل سے لڑنے کے لئے بنایا گیا سخت قانون ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شرارتی عناصر کے ذریعہ پراکسی سرور کا استعمال کر کے افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں۔ یہ وادی کشمیر کے موجودہ حالات کے لئے خطرناک ہے۔ ان افواہوں کی وجہ سے علیحدگی پسند نظریات والی طاقتوں کو مضبوطی ملے گی اور اس کے ذریعہ دہشت گردی کو فروغ دیا جائے گا۔

جموں وکشمیر میں 6 مہینے کی انٹرنیٹ پابندی کے بعد حکومت نے اس میں نرمی کی تھی۔ لیکن لوگ صرف کچھ ویب سائٹس کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی لگا رکھی ہے۔ 14 فروری کو اس بارے میں احکامات جاری کرتے ہوئے حکومت نے سبھی سوشل میڈیا سائٹوں پر پابندی لگا دی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ وادی میں سوشل میڈیا کے ذریعہ افواہ پھیلا کر علیحدگی پسند طاقتیں ماحول کو ٹھیک نہیں ہونے دینا چاہتی ہیں۔

یو اے پی اے قانون بھارت اور بھارت کے باہر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے والا سخت قانون ہے۔ 1967 کے اس قانون میں پچھلے سال حکومت نے کچھ ترمیم کر کے اسے اور سخت بنا دیا ہے۔ اس قانون کا اصل مقصد مرکز کی ایجنسیوں اور ریاستی حکومت کو دہشت گردی اور نکسل واڈیوں سے نمٹنے کے لئے اختیار دینا ہے۔ 2019 میں این ڈی اے کی حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اس قانون میں کچھ اور شقیں شامل کی گئی ہیں۔