کسی کے فیصلوں کے پابند نہیں، اندرون و بیرون ریاست اپنی سرگرمیاں کرینگے، این ایس ایف

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی مرکزی کمیٹی و کابینہ نے کہا ہے کہ طلبہ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے پاکستان، کشمیر اور گلگت بلتستان بھر میں طلبہ یکجہتی مارچ کے کامیاب انعقاد کے بعد طلبہ حقوق کی اس جدوجہدکو جاری و ساری رکھا جائے گا۔یوم مقبول بٹ شہید اور یوم شہدائے چکوٹھی کے موقع پر تقریبات اور جلسے، جلوس منعقد کئے جائیں گے، کنٹرول لائن پر جاری فائرنگ اور کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج منعقد کئے جائیں گے۔

اس کے علاوہ جموں کشمیر کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے محنت کشوں اور نوجوانوں کو نظریات سے لیس کر کے انقلابی پارٹی کی تعمیر اور تحریک کو منظم کرنے کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔

طلبہ یونین کشمیر میں بحال کرنے کانوٹیفکیشن جاری کرکے حکمران اشرافیہ کو بری الزمہ نہیں ہونے دینگے، جب تک طلبہ یونین کے الیکشن کا انعقاد نہیں کیا جاتا اس جدوجہد کو جاری و ساری رکھا جائیگا، تعلیمی اداروں کی نجکاری سمیت طلبہ کو درپیش مسائل کے خاتمے تک این ایس ایف ہر تعلیمی ادارے اور گلی کوچے میں احتجاج منظم کریگی۔

یہ بات جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی اجلاس کے بعد متفقہ طور پر ہونے والے فیصلوں کے بعد مرکزی صدر ابرار لطیف کی قیادت میں عہدیداران نے راولپنڈی میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی، اس موقع پر جموں کشمیر کے مرکزی صدر ابرار لطیف، سیکرٹری جنرل یاسر حنیف، چیف آرگنائزر تیمور سلیم، ایڈیٹر عزم التمش تصدق، ممبر ان سنٹرل کمیٹی عروبہ ممتاز، بشریٰ عزیز،خلیل بابر، ڈپٹی سیکرٹری مالیات ارسلان شانی سمیت دیگر رہنماء موجود تھے۔

مرکزی صدر این ایس ایف ابرار لطیف نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ کسی تنظیم کے پروگرامات کے انعقاد کے حوالے سے فیصلہ سازی کرے، جے کے این ایس ایف اپنے فیصلے خود کرتی ہے، کم از کم مشترکہ نکات پر ہم آہنگی کی صورت ہم مختلف الائنسز کا حصہ بھی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کسی الائنس کے پابند ہیں، جے کے این ایس ایف اپنی کابینہ کے فیصلہ کی بنیادی پر قومی اور علاقائی سطح کی سرگرمیاں منظم کریگی۔

ریاست بھر میں تقریبات منعقد کی جائیں گی، جبکہ بیرون ریاست آر ایس ایف، بی این ٹی اور دیگر ترقی پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی، اس کے علاوہ طلبہ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے طلبہ حقوق کی بازیابی کی جدوجہد بھی مل کر لڑی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامیاں اور نامرادیاں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ حکمران طبقات کوئی ایک بھی بنیادی مسئلہ حل کرنے کے قابل نہیں ہیں، پاکستان اور بھارت کے حکمران طبقات محنت کشوں کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کیلئے قومی، مذہبی، علاقائی تعصبات کو استعمال کرتے ہوئے محنت کشوں کی طاقت کو تقسیم کر کے حکمرانی جاری رکھنے کے عمل میں مصروف ہیں۔

جے کے این ایس ایف اور دیگر ترقی پسند رجحانات سائنسی سوشلزم کے نظریات پر محنت کشوں اور نوجوانوں کو اس نظام کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنے میں مصروف جہد ہے، کشمیر میں لگنے والے آزادی کے نعرے اب بھارت اور پاکستان کے گلی کوچوں میں لگ رہے ہیں، ہمارے مسائل مشترک ہیں، ہمارے حقوق کے غاصب مشترک ہیں، اس لئے ہماری جدوجہد بھی مشترک ہے، ہم پاک بھارت کے مظلوم و محکوم طبقات کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جڑت کو یقینی بناتے ہوئے اس کرہ ارض سے نہ صرف قومی غلامی بلکہ ہر طرح کے سرمایہ دارانہ استحصال کے خاتمے اور ایک سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: