بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019کو استعمال کرتے ہوئے 37سال پرانے قانون کو ختم کردیا. مذکورہ قانون کے تحت 1947ء سے1954تک پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر اور پاکستان ہجرت کرنے والے بھارتی زیر انتظام جموں وکشمیر کے باشندوں کو واپس آنے کی اجازت تھی۔
جموں وکشمیر میں دوبارہ آباد ہونے یامستقل واپسی کے بارے میں 1982 ء کا ریاستی قانون ان 153ریاستی قوانین میں شامل تھا، جس کو جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کے ذریعے ختم کیا گیا۔
خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق یہ قانون یکم مارچ 1947ء سے 14مئی 1954ء تک پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر اور پاکستان ہجرت کرنے والے بھارتی زیر انتظام جموں وکشمیر کے باشندوں اور ان کی اولاد کے واپس آنے کو قانونی تحفظ فراہم کرتا تھا۔
جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کو بھارتی پارلیمنٹ نے 5اگست کو آئین کی دفعہ 370 ختم کرنے کے بعد منظورکیاتھا۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور ریاست کے سابق وزیر قانون عبدالرحیم راتھر نے کہاکہ جموں وکشمیر میں دوبارہ آباد ہونے یامستقل واپسی کے بارے میں 1982 ء کے ریاستی قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان سے کشمیر ی باشندوں کی واپسی کے دروازے بند ہوگئے ۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ باب بند ہوچکا ہے۔












17 تبصرے “بھارت نے مہاجرین جموںکشمیر کی آبائی علاقوںمیںواپسی کے دروازے بند کر دیئے”