بھارت کی سفارتی کامیابی:‌سلامتی کونسل کا کشمیر پر اجلاس منسوخ کر دیاگیا

سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی)کے مستقل ممبروں کا خصوصی اجلاس منسوخ کر دیا گیا ہے۔

فرانس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ممبروں نے منگل کے روز چین کی جانب سے کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے سلامتی کونسل کے بلائے گئے اجلاس کو منسوخ کردیا۔

فرانس اور سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ممبران نے چین کو آگاہ کیا کہ یہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کے لئے مناسب فورم نہیں ہے ، کونسل کے غیر مستقل ممبران جیسے جرمنی اور پولینڈ نے بھی مسئلہ کشمیر پر بحث کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق چین نے اس کے بعد مسئلہ کشمیر سے متعلق اجلاس کے مطالبے کااپنا نوٹ واپس لے لیا۔

سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی خبر منظر پر آنے کے بعد بھارت کی اپوزیشن جماعتوں‌نے اسے مودی حکومت کی سفارتی ناکامی قرار دیا تھا، اور مودی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ دوست ممالک کے ذریعے اس اجلاس کو رکوایا جائے. اس سلسلے میں‌بھارت کی جانب سے فرانس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے سفارتی کوششیں‌شروع کر رکھیں تھی.

اقوام متحدہ میں ساؤتھ ایشین وائر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پیشرفت سے واقف افراد کا کہنا تھا کہ خطے میں سلامتی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی رابطے کے بلیک آؤٹ پر مغربی اور یورپ کے ممالک کی طرف سے تنقید کے بعد چین سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کی حمایت کرنے پرآمادہ ہوا تھا۔

اس ملاقات میں چین کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ہندوستان کے فیصلے پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔

ایک فرانسیسی سفارتی ذریعہ نے بتایاکہ ہماری پوزیشن بہت واضح رہی ہے۔ کشمیر بھارت اور پاکستان کے مابین دو طرفہ مسئلہ ہے۔

چین کا یہ اقدام سرحدی معاملے پر تبادلہ خیال کے لئے ہندوستان اور چین کے خصوصی نمائندوں کے مابین متوقع ملاقات سے پہلے سامنے آیا ہے۔

12 دسمبر کو سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں ، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشیدگی کے ممکنہ مزید اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کونسل کے ممبروں کو ایک نوٹ میں اقوام متحدہ کے مشن نے لکھا تھاکہ صورتحال کی سنگینی اور مزید بڑھنے کے خطرے کے پیش نظر چین پاکستان کی درخواست پرجموں و کشمیر کی صورتحال پر کونسل کی بریفنگ کی درخواست کرے گا۔

سلامتی کونسل نے 1948 میں اور 1950 کی دہائی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطے کے تنازعہ پر متعدد قراردادیں منظور کیں ، جس میں ایک ایسی رائے بھی شامل ہے جس میں مسلم کشمیر کے مستقبل کا تعین کرنے کے لئے رائے شماری کی قرارداد پیش کی گئی تھی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: