وادی لیپہ میں پاک بھارت افواج کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک طالبعلم ہلاک، ایک زخمی جبکہ آٹھ مکانات جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر وادی لیپہ سے ملحقہ بازار اور تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں، جبکہ علاقہ مکین مورچوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، فائرنگ کی وجہ سے علاقہ میں شدید خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
چناری سے تعلق رکھنے والے صحافی اعجاز میر کے مطابق وادی لیپہ میں آبادی شدید برفباری کی وجہ سے پہلے ہی محصور ہو کر رہ گئی تھی، جبکہ پیر کی صبح آٹھ بجے کے قریب وادی لیپہ کے دیہاتوں منڈا کلی، چننیاں اور نوکوٹ پر چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ جس کے نتیجہ میں جماعت دہم کا طالبعلم سولہ سالہ جواد ولد محمد اشتیاق سکنہ منڈا کلی ہلاک ہو گیا، بھارتی فائرنگ کی زد میں آکر گیارہ سالہ طالبعلم احسن ولد لیاقت زخمی ہو گیا جسے نزدیکی ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔
بھارتی گولہ باری کے نتیجہ میں آٹھ رہائشی مکانات بھی جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔
گولہ باری کے باعث یونین کونسل نوکوٹ کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے، چننیاں، نوکوٹ اور کیسرکوٹ کے بازار بند کر دیئے گئے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے پیر کا روز مورچوں کے اندر محصور ہو کر گزارا۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جب شدید برفباری کے موسم میں سول آبادی پر بھارتی فوجی کی جانب سے گولہ باری کی گئی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق پاک فوج نے بھارتی افواج کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔ تاہم دونوں افواج کی جانب سے تاحال فائرنگ سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔












20 تبصرے “وادی لیپہ میں بھارتی فوج کی فائرن سے ایک طالبعلم ہلاک، ایک زخمی، آٹھ مکانات کو نقصان”