تنخواہوں‌کی عدم ادائیگی پر ہڑتال: اپوزیشن لیڈر کے اخبار کی اشاعت تیسرے روز بھی معطل

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے اپوزیشن لیڈر کا اخبار مسلسل تیسرے روز بھی شائع نہیں‌ہو سکا ہے. یہ اشاعت سٹاف کی ہڑتال کے باعث ممکن نہ ہو سکی، تیرہ رکنی سٹاف کی تنخواہ تین ماہ سے ادا نہیں‌کی جا سکی ہے، جبکہ مالی بحران کے باعث اخبار کے ایڈیٹرنے بھی گزشتہ ماہ استعفیٰ‌دیدیا تھا.

پیپلزپارٹی کے کشمیر شاخ کے مرکزی رہنما اور اسمبلی میں‌اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین کا یہ اخبار ریاست کے اس حصے کے بڑے جریدوں‌میں شمار کیا جاتا ہے، اسلام آباد سے پرنٹ ہونے کے بعد یہ اخبار ریاست کے قریب سارے ہی اضلاع میں‌تقسیم ہوتا ہے، اس کے علاوہ راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں‌بھی یہ اخبار میڈیا لسٹ پر موجود ہے.

آٹھ صفحات پرمشتمل روزنامہ کشمیر ٹائمز کے نام سے شائع ہونے والے اس اخبار کی سربراہی بطور چیف ایڈیٹر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر اور اسلام آباد میں صحافیوں کے اہم رہنماؤں‌میں شامل افضل بٹ کر رہے ہیں. جبکہ چوہدری محمد یاسین کے صاحبزادے اخبار سمیت دیگر کاروبار کی نگرانی کرتے ہیں.

لاکھوں روپے کے بقایات جات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سٹاف نے پہلے احتجاج کی ڈیڈ لائن دے رکھی تھی، اسی اثناء میں‌ایڈیٹر نے استعفی دے دیا، لیکن مالکان نے سٹاف کی تنخواہوں کی ادائیگی کرنے کی بجائے نئے ایڈیٹر کو تعینات کر دیا. لیکن سٹاف نے ہفتہ کے روز ہڑتال کر دی، جس کے باعث اتوار، پیر اور منگل کے شمارے شائع نہیں‌ہو سکے.

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر میں چالیس سے زائد اخبارات شائع ہورہے ہیں، جن کی اکثریت شدید مالی بحران کا شکار ہے، اکثریتی اخبارات عامل صحافیوں نے خود شروع کر رکھے ہیں، جبکہ چند ایک اخبارات بڑے بزنس ٹائیکونز کی ملکیت میں‌ہیں، اس کے علاوہ پاکستان کے بڑے قومی جرائد کے کشمیر ایڈیشن بھی شائع ہوتے ہیں.

محکمہ تعلقات عامہ نے اخبارات کو مالی وسائل فراہم کرنے کےلئے ترقیاتی بجٹ کا ایک فیصد بطور اشتہارات اخبارات کو ادا کرنے کا اعلان تو کر رکھا ہے، لیکن اشتہارات کی فراہمی، بلات کی ادائیگی سمیت دیگر عمل انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث مہینوں‌تک بلات کی ادائیگی ممکن نہیں‌ہوپاتی، بلکہ محکمہ تعلقات عامہ کے ذمہ داران، شعبہ اشتہارات کے ملازمین وغیرہ اشتہارات کی اجرائیگی میں‌بھاری کمیشن لینے سمیت پسند و ناپسند کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں جس کے خلاف صحافی آواز اٹھانے سے گریزاں ہیں.

دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات سے صحافیوں کو نا ہونے کے برابر تنخواہوں پر منسلک کیا جاتا ہے، ننانوے فیصد صحافی بلا تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں. جس کی وجہ سے اخبارات خبروں کے معیار پر دھیان دینے کی بجائے اخراجات پورے کرنے کی دوڑ میں‌مصروف نظر آتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ریاست میں کوئی بھی اخبار تین ہزار سے زائد سرکولیشن بنانے میں کامیاب نہیں‌ہو سکا. چالیس لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی اور پورے پاکستان میں سب سے زیادہ شرح خواندگی ہونے کے باوجود اس علاقے میں اخبارات کی اتنی کم سرکولیشن بھی تشویش ناک ہے.

دوسری طرف اگر بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات کو دیکھا جائے تو بڑے اخبارات چالیس سے پچاس ہزار سے زائد کی سرکولیشن کر رہے ہیں.

صحافتی تنظیموں‌کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس سلسلہ میں‌ایک جامع پالیسی ترتیب نہ دی تو جس کیفیت میں صحافتی ادارے موجود ہیں، اس سے بھی مزید گراوٹ کی طرف جائیں گے، ایسے حالات میں‌بہتری کی گنجائش ناممکن نظر آتی ہے، پرائیویٹ شعبہ بھی یہاں‌اس کیفیت میں‌موجود نہیں‌ہے، نجی بینک اور ملٹی نیشنل ادارے بھی کشمیر میں کسی قسم کی سرمایہ کاری کرنے یا اشتہارات دینے کے پابند نہیں‌ہیں. اس سلسلہ میں‌جب تک حکومت جامع منصوبہ بندی نہیں‌کرتی، آزادانہ طور پر اخبارات کے معیار اور مقدار کو بڑھایا نہیں‌جا سکتا.