موبائل ایپ کے ذریعے کوڑے کو ٹھکانے بھی لگائیں اور آمدنی میں‌بھی اضافہ کریں

نیکن پراستیوتی نے اپنے گھر کے صحن میں کوڑے کرکٹ کو آگ لگا کر اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی اپنی پرانی عادت کو ترک کر دیا ہے۔ گزشتہ ماہ پراستیوتی نے گھر کے کوڑے سے مختلف اشیا کو خود ہی الگ الگ کیا۔ انہوں نے پلاسٹک، کاغذ اور کین کے کوڑے کو علیحدہ علیحدہ اکٹھا کیا۔ آغاز میں پراستیوی کو الجھن ہوئی کہ کوڑے کو اس طرح الگ کرنا حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔

تاہم راپل نامی موبائل ایپ استعمال کرنے کے بعد ان کی رائے تبدیل ہو گئی۔ یہ ایپ صرف غیرنامیاتی کوڑے کو جمع کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کا استعمال انتہائی آسان ہے۔ کوڑے کو الگ کرنے کے بعد اس کی تصاویر لی جائیں اور بتایا جائے کہ کوڑا کس قسم کا ہے۔ ساتھ ہی اندازے کے مطابق اس کا وزن بھی بتا دیا جائے۔ جب یہ معلومات ارسال کی جائیں گی تو صارف کو اندازا بتا دیا جائے گا کہ اسے کتنی رقم ملے گی۔

خبر رساں‌ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق نیکن پراستیوتی نے بتایا، ”مالی لحاظ سے یہ ایک بہتر سروس ہے۔ مثال کے طور استعمال شدہ تیل ہم ایک ہزار روپے فی لٹر میں فروخت کرتے تھے جبکہ راپل فی لیٹر تیل کے لیے ہمیں دو ہزار روپے دیتا ہے۔ پہلے ہم خود ہی کوڑے کو الگ کرتے ہیں۔ شروع میں الجھن ہوتی تھی لیکن اب ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ تمام گھر اس کی اہمیت سے واقف ہو چکا ہے۔ میری دادی کے ہمسائے پہلے کوڑے دان استعمال کرتے تھے لیکن اب وہ بھی راپل کا استعمال کر رہے ہیں۔”

راپل ایپ سے کوڑا جمع کرنے والوں کی زندگی بھی آسان ہو گئی ہے۔ اب وہ اپنے سمارٹ فون پر دیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے کیسا کوڑا اٹھانا ہے۔ جیسے ہی انہیں پیغام موصول ہوتا ہے تو قریب ترین موجود گاربیج کلیکٹر جا کر کوڑا جمع کر لیتا ہے۔ وہ شخص کوڑے کو دیکھ کر بتاتا ہے کہ اس کوڑے کے عوض صارف کو حقیقی طور پر کتنی رقم موصول ہو گی۔

اس ایپ کے لیے کوڑا جمع کرنے والی اندری ہارسانتی کا کہنا ہے، ” موبائل کے ذریعے ہمیں جب بھی کوڑا اٹھانے کا پیغام موصول ہوتا ہے تو ہمیں بونس بھی ملتا ہے۔ اچھی سروس مہیا کرنے پر بھی بونس ہوتا ہے اور پروفائل اچھا ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے ہم اپنی خدمات بہتر بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ پہلے ہم گاربیج بینک کو ہر ماہ ایک مرتبہ ہی کوڑا فروخت کرتے تھے۔ راپل کی وجہ سے ہم نے یہ کام ہفتہ وار شروع کر دیا ہے اور کوڑا بھی زیادہ جمع کیا جا سکتا ہے۔”

اندری ایک گاربیج بینک کی منیجر بھی ہیں۔ اب انہیں کوڑا ڈھونڈنے کے لیے مختلف مقامات کے چکر نہیں لگانا پڑتے بلکہ انہیں راپل سے پیغامات مل جاتے ہیں۔ اب راپل کو کوڑا فروخت کرنے والے گھروں کی تعداد درجنوں تک پہنچ چکی ہے۔ یوگیا کارتا میں ویسٹ منیجمنٹ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس شہر کے علاوہ دو دیگر اضلاع کا کچرا جمع کرنے کی تنصیب بھی ایک ہی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں سالڈ ویسٹ کے لیے کوئی ٹیکنالوجی بھی دستیاب نہیں۔

نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق شہر کے لوگ کوڑ کرکٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی خاطر حکومتی قواعد و ضوابط کو اہم خیال نہیں کرتے ہیں۔ تاہم راپل کے متعارف کرائے جانے کے بعد صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے، جو لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی خاطر اپنے طور پر کوشش کی جائے۔ دارصل راپل مخفف ہے کہ شہری اپنے ماحول کا خیال خود بھی رکھیں۔
اس ایپ کے بانیوں میں سے ایک سیختی مولاٹش کا کہنا ہے، ”سن دو ہزار پندرہ میں ہم نے یوگیاکارتا میں ایک سروے کیا، جس میں ہمیں معلوم ہوا کہ لوگ اپنے طور پر کوڑے کو الگ کرتے ہیں اور پھر اسے کوڑے دانوں میں ڈالتے ہیں یا گاربیج سینٹرز تک پہنچاتے ہیں۔ تاہم پھر پتہ چلا کہ بعد ازاں یہ کوڑا پھر مکس ہو جاتا ہے۔ اس انکشاف پر شہری کافی پریشان ہوئے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق شہریوں نے کہا کہ کوڑا جمع کرنے کا ایک نیا نظام ہونا چاہیے، جہاں مختلف قسم کا کوڑا مکس نہ کیا جائے۔ تب ہم نے اس ایپ کو ڈئزائن کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ اب راپل کوڑا خریدتا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایسے صارفین جو اپنے گھروں میں مختلف قسم کا کوڑا کرکٹ الگ کرتے ہیں، انہیں دوبارہ مکس نہ ہونے دیا جائے اور وہ اپنی اس سرگرمی پر خوش رہیں۔ یوں یہ مہم اب تک کامیاب چل رہی ہے۔”

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ راپل کے دو ہزار سات سو رجسٹرڈ ممبران میں سے ایکٹیو صرف تین سو ہی ہیں۔ اس مہم کو زیادہ کامیاب بنانے کی خاطر حکومتی حمایت اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔ راپل نامی یہ ایپ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے لوگوں کی عادات بدل سکتا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: