مسئلہ کشمیر اور کشمیری قوم پرستی

تحریر: التمش تصدق (ایڈیٹر عزم این ایس ایف)

جہاں غلامی موجود ہوتی ہے محکموں میں آزادی کی تڑپ فطری طور پر پائی جاتی ہے، چاہے غلامی کی کوئی بھی شکل ہو اس کے خلاف لازمی بغاوتیں ابھرتی ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ محض غلامی سے نفرت کرنے سے اور بغاوت کے ذریعے غلامی سے نجات مل جائے. کہیں بغاوتیں کامیابی کی صورت میں سماج کو تبدیل کرتی ہیں اور آزادی کے حصول میں کامیاب ہو کر سماج کو آگے بڑھاتی ہیں وہاں پسپائی اور ناکامی کی صورت میں بربادی انسانی معاشرے کا مقدر بن جاتی ہے.

قومی آزادی کی تحریک ہو یا مزدوروں کی بغاوت اس کی کامیابی یا ناکامی میں فیصلہ کن کردار درست نظریات اور درست حکمت عملی پر کاربند انقلابی پارٹی کا رہا ہے.جہاں درست نظریات سے لیس انقلابی پارٹی کا فقدان رہا ہے، وہاں سامراجیوں نے تحریکوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور ان کو ناکام بنایا ہے. جس کی ایک مثال ہمارے سامنے مسئلہ کشمیر سے منسلک خطوں کی صورت میں موجود ہے.جہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی شخصی غلامی کے خلاف ابھرنے والی تحریک کی ناکامی کا انجام مسئلہ کشمیر کی صورت میں سامنے آیا.

اس کے بعد بھی اس مسئلہ سے جڑی اقوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کے بجائے اسلامی کشمیری قوم پرستی کے ذریعے اس خطے میں سامراجی تسلط اور تقسیم کے خلاف ابھرنے والی تحریکوں کو بهارتی زیر انتظام کشمیر تک محدود کیا گیا اور قومی آزادی کی لڑائی کو پراکسی وار میں بدل کر وادی کشمیر کو بار بار تاراج کیا گیا.

کشمیر قوم پرستی کا یہ المیہ رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سے منسلک خطوں کو کشمیر کا حصہ سمجھتے ہیں.مسئلہ کشمیر کو محض کشمیر کا مسئلہ تصور کیا جاتا ہے. برطانوی سامراج کے آشیرباد سے قائم ہونے والی ڈوگرہ غلاب سنگھ کی بادشاہی ریاست میں موجود تمام قومیتوں کو کشمیری قوم اور علاقوں کو کشمیر کا جغرافیہ سمجھا جاتا ہے.لیکن حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں 1947 سے پہلے کی ریاست نہ ہی کشمیری قوم پر مشتمل تھی نہ ہی مسئلہ کشمیر محض کشمیریوں کا مسئلہ ہے.

سچ تو یہ ہے جموں، کشمیر،لداخ ، پونچھ ، گلگت اور بلتستان میں مختلف قوموں ثقافتوں،زبانوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں.ان میں کچھ علاقوں کو بادشاہوں نے خرید کر ریاست کا حصہ بنایا کچھ کو فتح کیا.

اگرچہ ان قومیتوں کا کشمیری قوم سے قومی رشتہ نہیں ہے لیکن لمبے عرصے تک ایک انتظامی ڈھانچے میں رہنے کے باعث سیاسی رشتہ رہا ہے. اس کے علاوہ جغرافیائی اعتبار سے جڑے ہوئے لوگوں میں تجارتی تعلقات جنم لیتے ہیں، جو ہزاروں سالوں سے قائم رہے ہیں.آج بھی مسئلہ کشمیر سے ان سب اقوام کا ایک جیسا تعلق ہے اور اس مسئلے سے جڑے ہونے کی وجہ سے ان کا مستقبل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا کشمیری قوم پرستی کی بنیاد پر مختلف قومیتوں کے مستقبل کی لڑائی لڑی جا سکتی ہے.؟

کشمیری قوم پرستانہ رویہ مسئلہ کشمیر سے جڑی دیگر قومیتوں میں نفرت کا سبب نہیں بنتا، بالخصوص گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ.؟

گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دینا سامراجی عزائم ہیں یا کشمیری قوم پرستوں کی ان کے لیے محبت ہے؟

گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ اتحاد کی خواہش یا ان سے مل کر مسئلہ کشمیر کے حل کی جدوجہد کرنا یا پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے وسائل پر قابض قوت کے خلاف مشترکہ طور پر لڑائی لڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے. لیکن ان لوگوں پر کشمیری پہچان مسلط کرنا نفرت کو فروغ دینے کے مترادف ہے. جس نفرت کو پاکستانی ریاست مسلسل استعمال کرتی ہے.

کشمیری قوم پرستوں کا گلگت کو صوبہ بنانے کی مخالفت کا یقینی طور پر یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا ہے کہ وہاں کے عوام کو سہولیات نہ ملیں یا وہاں کے لوگوں کو حقوق سے محروم رکھا جائے بلکہ صوبے کی مخالفت کا مقصد گلگت بلتستان کے وسائل اور عوام پر پاکستانی ریاست کے قبضے کی مخالفت ہوتا ہے.لیکن کم علمی کے باعث جب کشمیری قوم پرست یہ نعرے لگاتے ہیں کہ ”بچہ بچہ کٹ مرے گا، گلگت صوبہ نہیں بنے گا”، تو اس سے تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ گلگت کی عوام کہ حقوق کے خلاف ہیں.اس سے پاکستانی حکمران طبقہ اور گلگت بلتستان کی سیاسی اشرفیہ وہاں کی عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان تو آپ کو حقوق دینا چاہتا ہے لیکن کشمیری اس میں رکاوٹ بن جاتے ہیں.

یوں پاکستانی ریاست کی طرف سے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کے خلاف پیدا ہونے والی نفرت کا رخ کشمیر کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جن کی خود نوآبادیاتی حیثیت ہے.اس کام کی مخالفت بذات خود حماقت ہے جو کام ہو ہی نہیں سکتا ہے. مسئلہ کشمیر سے متعلقہ کوئی بھی علاقہ اس نظام کے عالمی قوانین کے تحت قانوناً ان ریاستوں کا حصہ یا صوبہ اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک اس مسئلے کا کوئی حل نہ ہو. جو کام ہو نہیں سکتا اس میں کشمیر کے لوگ رکاوٹ کیسے بن سکتے ہیں جب خود ان کے پاس اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق موجود نہیں ہے.

اگر پاکستانی زیر انتطام کشمیر اور گلگت بلتستان کو صوبائی اختیارات دے دیے جائیں تو یہ کسی مراعات سے کم نہیں ہے.کیونکہ یہاں کی حکومتوں کے اختیار لوکل گورنمنٹ سے زیادہ نہیں ہیں.ان کا بجٹ پاکستان کے ایک شہر کے برابر ہے. وزیراعظم پاکستان جو ان علاقوں کے لیے کوئی بھی حکم نامہ جاری کر سکتا ہے، کسی بھی قانون کو منسوخ کر سکتا ہے، اور کبھی بھی ان اسمبلیوں کو تحلیل کر کے ایمرجینسی کا اعلان کر سکتا ہے، وزیراعظم پاکستان کے انتخاب میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کا کوئی عمل دخل نہیں ہے.پاکستانی آئین کا نفاذ بھی ان علاقوں میں کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ان علاقوں کا ایک بهی نمائندہ موجود نہیں ہے. ان علاقوں کی حالت تاج برطانیہ کے زیر اثر ہندوستان کی صورتحال سے بد تر ہے.

تنازعہ کشمیر نے دو کروڑ انسانوں کو گزشتہ بہتر سالوں سے انتہائی پسماندگی میں رکھا ہوا ہے.قدرتی وسائل کی لوٹ مار کے وقت یہ علاقے اٹوٹ انگ اور شہ رگ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں.حق مانگنے پر متنازعہ حیثیت اختیار کر لیتے ہیں.تنازعہ کشمیر سے جڑی ان قوموں کو غلامی، پسماندگی اور محرومیوں سے نجات کے لیے کشمیری قوم پرستی کی بنیاد پر جدوجہد کی بات کو کشمیری قوم پرستی کی معصومیت سمجھا جائے، لا علمی ، جہالت یا پھر سامراجی طاقتوں کے خلاف قوم بننے کی خواہش……..؟

جیسے برصغیر میں برطانوی قبضے کے خلاف نفرت نے یہاں کی مختلف قومیتوں میں ہندوستانی قوم ہونے کا شعور پیدا کیا.کشمیر میں بھی ایک حد تک ایسا ہوا ہے. غیر ملکی قبضے کے خلاف جدوجہد کے لیے مختلف قوموں نے اپنی قومی پہچان پر سمجھوتہ کر کے کشمیریت کی بنیاد پر آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا ہے. خاص طور پر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام کی اکثریت کا کشمیری قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ اپنی قومی شناخت کو کشمیری ظاہر کرتے ہیں، جو کشمیری ثقافت اور زبان سے ناآشنا ہیں.اس کے باوجود کشمیری قوم پرست تحریک بھارتی زیر انتظام کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر تک محدود ہے. جس کی جڑیں جموں، لداخ، گلگت، بلتستان ، بھارتی پونچھ تک نہیں پھیل سکیں، اور نہ ہی کشمیریت کی بنیاد پر ایسا ممکن ہے. کشمیری قوم پرست تحریک کا سب سے مقبول نعرہ “کشمیر بنے گا خودمختار” ہے. جو کشمیری قوم تک درست بھی ہے کیونکہ ہر قوم کو خود مختار رہنے کا حق ہے، اسے اپنے وسائل پر اور اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہونا چاہیے. پاکستانی زیر انتظام کشمیر تک بھی درست مان لیا جا سکتا ہے لیکن ”کشمیر بنے گا خود مختار” کے نعرے اور خواہش کے تحت 84471 مربع میل ریاست کو بحال کرنا دیوانے کا خواب ہے.

کشمیر تو خود مختار بنے گا یا پاکستان بنے گا باقی اور قومیں کیا بنیں گی جو مسئلہ کشمیر سے جڑی ہوئی ہیں……..؟ کشمیر بنے گا خود مختار کے نعرے کے گرد بہت زور دار تحریک نے بھی جنم لیا، جس نے سامراجی تسلط کے خلاف بھرپور مزاحمت کی.اس تحریک میں لاکھوں نوجوانوں نے شرکت کی اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا گیا. لیکن ان جذبات اور قربانیوں کے باوجود مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا.

1980 میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جاری قوم پرست مسلح تحریک کو پاکستان نے ہتھیار فراہم کیے، جب تحریک نے زور پکڑ لیا تو پھر انکی امداد بند کر دی گئی.اگرچہ لبریشن فرنٹ کی تمام تر مسلح جدوجہد بھارتی زیر انتظام کشمیر تک محدود رہی، جس کو پاکستانی حمایت حاصل تھی لیکن تقریروں اور نعروں کی حد تک یہ پاکستان سے آزادی کی بات بھی کرتے تھے. یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ریاست نے اس کی حمایت ختم کر کے کشمیری قوم پرستی کی آڑ میں پاکستانی حمایتی مذہبی بنیاد پرست جماعتوں کے ذریعے دراندازی کرنا شروع کی.

برصغیر کے خونی بٹوارے کے دوران جب ہر طرف مذہب کی بنیاد پر معصوم انسانوں کا خون بہایا جارہا تھا، وادی کشمیر کے لوگوں نے اس خونی کھیل کے خلاف مزاحمت کی اور نیشنل کانفرنس کے کارکنوں نے پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے مذہبی جنونیوں کو وادی میں داخل ہو کر قتل و غارت کرنے سے روکنے کی کوشش کی. لیکن اسّی کی دہائی میں پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے مذہبی جنونیوں کی طرف سے ہندو پنڈتوں کو نشانہ بنایا گیا ان کو گھروں سے بے دخل کر کے ہجرت پر مجبور کیا گیا.پہلے سے تنگ نظر نقطہ نظر کشمیریت کی بنیاد پر چلنے والی تحریک مزید محدود ہو گئی.ان مذہبی گروہوں نے ہندو مسلم تفریق کے علاوہ شیعہ سنی فسادات اور نفرتوں کو فروغ دیا اور دیگر قومیتوں اور مذاہب کے افراد میں تحریک کے خلاف نفرت کو جنم دیا گیا.

کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک مختلف اوقات میں نظر آتی ہے جو آج بھی جاری ہے.آزادی کی اس لڑائی میں لاکھوں جوان شہید ہو چکے ہیں. بدترین ریاستی جبر بھی کشمیری عوام کے آزادی کے جذبات کو دبانے میں ناکام رہا ہے. جس کی مثال حالیہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جاری تحریک ہے. بھارتی فوج کے بدترین ظلم و ستم بغاوت کو کچلنے کے بجائے اسے مزید مشتعل کر رہا ہے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آزادی اور انقلاب کی فتح محض جذبوں اور قربانیوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے درست نظریات اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے، جو اجتماعی قیادت پر مشتمل انقلابی پارٹی فراہم کر سکتی ہے.

بھارتی کشمیر میں 80 کی دہائی میں سامراجی طاقتوں کی طرف سے مسلط کردہ قیادت کو میڈیا کے ذریعے ہر تحریک کی قیادت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے. جو کشمیری قوم پرستی اور مذہبی بنیاد پرستی پر مشتمل ملغوبہ حریت کانفرنس کی شکل میں موجود ہے. جس کے پاس مستقبل کا نہ کوئی پروگرام اور نہ ہی حکمت عملی ہے. کشمیر میں وقتاً فوقتاً ابھرنے والی خود رو بغاوت کو وادی تک محدود کرنے میں اور بھارتی ریاست کو اسے کچلنے کے لیے جواز مہیا کرنے میں اس قیادت کا بہت اہم کردار ہے. اب تک کے حریت کانفرنس کے کردار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں ریاستوں کے تنخواہ دار ہیں، جن کا مقصد تحریک کو زائل کرنے میں ان ریاستوں کے معاون کا کردار ادا کرنا ہے. تحریک میں پاکستانی پرچم لہرانے کا کام حریت کانفرنس کے ذریعے کیا جاتا ہے جس سے نہ صرف بھارت کو تشدد کا جواز ملتا ہے بلکہ دیگر مذاہب اور قومیتوں میں حمایت ختم کی جاتی ہے. کشمیری نوجوان کی لاشوں پر سیاسی دکانیں چلائی جاتی ہیں.کشمیری نوجوانوں کے خلاف بھارتی میڈیا کے زیریلے پروپیگنڈہ سے جو نفرت پیدا نہیں ہوتی، وہ سید علی گیلانی کے ایک بیان سے اس سے کہیں گناہ زیادہ جنم لیتی ہے.حریت قیادت تحریک کے لیے دیگر علاقوں میں حمایت پیدا کرنے کے بجائے مخالفت پیدا کرتی ہے. یہی وہ بنیادی کمزوری ہے جس کی وجہ سے آزادی کے اس سفر میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جا سکا ہے. اس خامی کو ختم کیے بغیر اور لاکھوں نوجوانوں کو شہید کر دیا جائے پھر بھی حالات ویسے ہی رہیں گےجیسے آج ہیں اور ماضی میں تھے.

مسئلہ کشمیر سے متعلقہ تمام قومیتوں کے آزادی پسندوں اور انقلابیوں کو ماضی میں موجود تحریکوں اور نظریات کا جائزہ لینا ہوگا، اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی کہ وہ کون کون سی وجوہات ہیں جو شکست کا سبب بنتی رہی ہیں. ان غلطیوں کی نشاندہی کی جائے، ان کو تسلیم کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دی جائے. جس کے لیے مذہبی بنیاد پرستی اور تنگ نظر قوم پرستی کے دائرے سے باہر نکل کر سوچنا پڑے گا.تمام قوموں کی برابر حیثیت کو اور حق خودارادیت کو تسلیم کرنا پڑے گا، انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دینا ہوگا . اسی بنیاد پر وہ سیاسی اور نظریاتی تعلق قائم ہو سکتا ہے جس کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جا سکتی ہے.اسی بنیاد پر قابض قوتوں سے آزادی اور تمام غصب شدہ حقوق کی بازیابی اور رضاکارانہ فیڈریشن کا قیام ممکن ہے.

یہ لڑائی محض بیرونی قابضین کے خلاف نہیں ہے بلکہ تمام قوموں سے تعلق رکھنے والی اشرافیہ کے خلاف بھی ہے جو ایجنٹ ہے ان سامراجی ریاستوں کی.اس کے ساتھ ساتھ اس لڑائی کو پاکستان اور بھارت سمیت ساری دنیا کے محنت کشوں اور مظلوموں سے طبقاتی بنیادوں پر جوڑنے کی ضرورت ہے. مسئلہ کشمیر اسی سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کا پیدا کردہ مسئلہ ہے، جو نظام دنیا کے پچانوے فیصد محنت کشوں کی محنت کا استحصال کرتا ہے. مسئلہ کشمیر برطانوی سامراج نے برصغیر کی تقسیم کے جواز کو برقرار رکھنے کے لیے پیدا کیا،تاکہ ہندو، مسلم بنیاد پرستی کے فروغ کی مادی وجوہات قائم رہیں، جس سے مصنوعی دشمنی کو بنیاد بنا کر اسلحہ ساز کمپنیوں کا اسلحہ بکتا رہے، مقامی دلال کمشن کھاتے رہیں.اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر نہ صرف آج تک اس مسئلے سے جڑے دو کروڑ انسانوں کو بنیادی انسانی، سیاسی اور معاشی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ اس کی بنیاد پر ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر خوف کی بنیاد پر بدترین استحصال کیا گیا ہے.

اس لیے یہ مسئلہ جہاں سیاسی مسئلہ ہے وہیں یہ کروڑوں لوگوں کا معاشی مسئلہ ہے، جن کے خون پسینے سے پیدا کردہ دولت کو اسلحہ کی خریداری میں صرف کیا جاتا ہے.جس نظام نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے، اس کے خاتمے کیلئے لیے انقلابی سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر ہی درست سمت میں جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ،جو نظریات تمام محکوم قوموں کے غیر مشروط حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور تمام قوموں کی خودمختاری کو قائم رکھتے ہوئے رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی بات کرتے ہیں.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: