بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں کے مختلف علاقوں میں بیروزگاری ، بھارتی پابندیوں اور مہنگائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔
جموں کے ہیرانگر کے سرحدی علاقے میں کسانوں اور نوجوانوں نے سماجی انصاف منچ کی سربراہی میں 10 کلومیٹر طویل مارچ کیا۔
جموں کے سرحدی علاقے کے کسانوں اور نوجوانوں نے احتجاجی مارچ کا آغاز کیا۔مظاہرین اپنے مطالبات کے لیے گلے میں بینرز اور پوسٹر لگائے ہوئے تھے ۔
خبر رساںادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق احتجاجی افراد کا کہنا تھا کہ ہمارے چار اہم مطالبات ہیں پہلا یہ کہ حالیہ بارش اور وقفے وقفے سے کسانوں کو معاوضہ فراہم کیا جانا چاہئے۔دوسرا ، انٹرنیٹ خدمات کو بحال کرنا چاہئے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائے۔ چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ تمام بے روزگار افراد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔ ایک کاشتکار گووند رام نے بتایا کہ بنیادی طور پر کسانوں کی دو فصلیں تباہ ہوگئی ہیں ایک گندم اور دوسرا دھان لیکن کسانوں کو ابھی تک معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔
رام نے مزید کہا کہ حکومت ہمیں کسانوں اور زراعت کو زندہ رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے۔ زراعت کو منی انڈسٹری کا درجہ دیا جائے ، اسی بنا پر کسانوں کو سبسڈی بھی فراہم کی جانی چاہئے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق مقامی لوگوں کے مطابق سرحدی علاقے کے نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ سرحدی علاقے کے رہائشیوں نے یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم دلانے کے لیے بہت جدوجہد کی ہے۔سرحدی نوجوانوں کو ریزرویشن ہونے کے باوجود بھی کوئی فوائد فراہم نہیں کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ جلد از جلد ان مسائل کو حل کریں تاکہ سرحدی علاقوں پر رہائش پزیر لوگوں کو زندگی گزرانے میں آسان ہو جائے۔
مرکز کے زیر انتطام جموں کشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں میں ‘شیوسینا ڈوگرہ فرنٹ’ اور خواتین نے ایک منفرد انداز میں مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ایل پی جی گیس کی قیمت میں ہونے والے ضافے کے خلاف جموں کے رانی پارک میں خواتین اور ڈوگرہ فرنٹ کے کارکنوں نے مٹی کا چولہا جلا کر احتجاج درج کیا۔
ڈوگرہ فرنٹ کے سربراہ اشوک گپتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام بڑھتی مہنگائی سے تنگ آچکی ہیں اور اگر حکومت نے جلد سے جلد مہنگائی پر قابوں نہیں پایا تو لوگ مٹی کے چولہیں جلانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے انڈین آیل اور ہندوستان پٹرولیم پر من مانی کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا دونوں کمپنیاں من مانی کر کے عوام سے منہ مانگے دام وصول کرتی ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
مرکز کے زیر انتظام جموں میں سنٹرل آف انڈین ٹریڈ یونین کے ملازموں نے بانی ہال ریلوے پر کام کررہے مزدوروں کو رہا کرنے کے حق میں احتجاج کیا۔
ان مزدوروں کو گذشتہ روز پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رام بن کھڑی کنڈن میں اس وقت پولیس نے لاٹھی چارج کیا جب علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ریلوے مزدور کے حق میں احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران لاٹھی چارج میں ایک مزدور زخمی ہوگیا جس کو کھڑی ہسپتال پہنچایا گیا، وہیں پولیس نے چند مزدوروں کو حراست میں لیا۔
آل انڈیا سنٹرل آف انڈین ٹریڈ یونین کے سکریٹری اوم پرکاش نے کہا کہ ریلوے ٹریک پر کچھ مزدوروں نے کل اپنے مطالبے کو لیکر احتجاج کیا لیکن پولیس نے مزدوروں کو زدو کوب کیا اور دو مزدوروں کو تھانے میں بند کر دیا۔جس کے خلاف ہم آج جموں میں احتجاج کر رہے ہیں ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ مزدوروں کو اپنا حق ملے اور مزدوروں کے بنائے ہوئے قانون کو لاگو کرو۔












14 تبصرے “جموں:بھارتی پابندیوںاور معاشی مسائل کے خلاف احتجاجی مظاہرے”