پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے سرحدی ضلع حویلی میںپولیس حراست میںہلاک ہونے والے نوجوان کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات کرنے کےلئے جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کر دیا گیا ہے. جو اندر تیس ایام رپورٹ پیش کریگا.
محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن شعبہ انکوائری کی جانب سے چار دسمبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم نے متوفی تیمور ولد محمد حنیف ساکنہ نکر ڈاکخانہ و تحصیل ممتازآباد ضلع حویلی کی مورخہ 8 نومبر 2019ئ کو ہونیوالی ہلاکت کے حوالہ سے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کےلئے پاکستان کمیشنز آف انکوائری ایکٹ 1956 کی دفعہ 3(1) کے تحت سردار امجد اسحاق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سدھنوتی/پلندری کو کمیشن آف انکوائری مقرر کئے جانے کی منظوری دی ہے.
کمیشن آف انکوائری نوٹیفکیشن میںمتعین کردہ ٹی او آرز کے تحت معاملہ کی چھان بین کرتے ہوئے تین ایام کے اندر رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کرے گا.
ٹی او آرز مجموعی طورپر تین سوالات پر مبنی ہیںِ
1). مقدمہ علت نمبر 89/19بجرائم (3) EHA-17ملزم متوفی تیمور ولد محمد حنیف کی گرفتار کن شواہد پر ہوئی ہے؟
2). مذکور کی موت پولیس تشدد سے ہوئی یا مذکور نے خود کشی کی؟
3). اگر مذکور نے خودکشی کی تو اس کی وجوہات میںپولیس کے کردار، غفلت اور لاپرواہی کس قدر ہے اوراس کے ذمہ داران کون ہیں؟
نوٹیفکیشن کے مطابق چار جنوری سے قبل کمیشن مذکور رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کا پابند ہوگا.

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ آٹھ دسمبر کو تھانہ پولیس کہوٹہ حویلی میں ڈکیتی کے کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں حراست میںلئے گئے ملزم نوجوان ملزم تیمور ولد حنیف کی مبینہ طور پر پولیس تشدد کے باعث ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا تھا. پولیس نے اسے خودکشی ظاہر کیا، جبکہ ورثاء کا الزام تھا کہ اسکی ہلاکت پولیس تشدد کی وجہ سے ہوئی.
ورثاء نے پولیس ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاران پر بھاری رشوت لینے کے الزامات بھی عائد کئے تھے. جس کے بعد ایس ایچ او اور سب انسپکٹر سمیت پانچ اہلکاران کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی، تاہم ابھی تک کوئی بھی پولیس افسر یا اہلکار گرفتار نہیںکیا گیا.
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی تاحال نہیںآسکی، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعدہی اصل حقائق سامنے آسکیںگے.












14 تبصرے “حویلی تھانہ میںزیر حراست نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کردیاگیا”