انقلابی طلبہ محاذ کیجانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس سال طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد ملک گیر سطح پر 29 نومبر 2019ءکو کیا جائے گا۔ یہ مارچ پچھلے سال 30 نومبر کو ہونیوالے ”طلبہ یکجہتی مارچ“ ہی کا تسلسل ہے۔ لیکن اس سال کا مارچ پچھلے سال کے مارچ سے کئی حوالوں سے اہم ہے ۔ گزشتہ برس مختلف ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے پاکستان کے چند بڑے شہروں میں مارچ کا انعقاد کیا تھاجس کے بنیادی مطالبات طلبہ یونین پر پابندی اٹھانے اور فیسوں میں اضافے کے خاتمے پر مبنی تھے۔ لیکن اس سال کے مارچ کا انعقاد گزشتہ ہفتوں میں تخلیق پانے والی ”سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی “ (SAC) کر رہی ہے۔ اس ایکشن کمیٹی میں کشمیر و گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کی ترقی پسند طلبہ تنظیمیں شامل ہیں۔ یوں اس سال کے مارچ کی سب سے منفرد خصوصیت ہی یہی ہے کہ اس خطے کے طول و عرض سے بیس کے قریب ترقی پسند طلبہ تنظیموں کی منتخب کردہ ایک کمیٹی اس کو منظم کر رہی ہے۔
لیکن سب سے بڑھ کر معروضی حالات میں ایک اہم تبدیلی آرہی ہے۔ گزشتہ سال کے برعکس ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں خود رو پیمانے پر طلبہ تحریکیں سر اٹھا رہی ہیں۔ مظفرآباد سے حیدر آباد اور کراچی تک نوجوان اپنے حق کی خاطر سڑکوںپر نکلے ہیں، یونین سازی پر پابندی اور فیسوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج نظر آئے ہیں۔ اسلام آباد کی دو نجی یونیورسٹیوں میں انتظامیہ کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے دو جانیں چلی گئیں جس کے خلاف طلبہ نے بھر پورغصے کا اظہار کیا۔ بلوچستان میں تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی اور بے جا سکیورٹی مداخلت کے خلاف طالب علموں نے آواز بلند کی ۔ اس طرح سندھ کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ایک مسلسل ہلچل ابھی تک جاری ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ دنوں جمعیت کی غنڈہ گردی کے خلاف بے نظیر احتجاجی ریلی عام طلبہ نے نکالی۔ اس کے علاوہ پنجاب کے بیشتر دوسرے تعلیمی اداروں میں بھی ایک مسلسل بے چینی موجود ہے۔ ہرطرف نوجوان طلبا و طالبات اپنے غصے کا اظہار کررہے ہیں۔ ایسی کیفیت میں ایک اجتماعی قیادت کا مشترکہ لائحہ عمل پوری طلبہ تحریک کے کردار کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہی اس سال کے مارچ کا عزم بھی ہے اور فریضہ بھی !
انقلابی طلبہ محاذ (RSF) نے گزشتہ برس بھی بیشتر شہروں میں اپنی معاونت اور مداخلت سے طلبہ یکجہتی مارچ میں شمولیت بھی اختیار کی تھی اور کئی ایک جگہوں پر مارچ کا انعقاد بھی کیا تھا۔ اس سال بھی ’سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی‘ کا حصہ ہونے کے ناطے ’RSF‘ تمام شہروں میں اپنی تمام تر قوت اور توانائیوں کے ساتھ مارچ میں بھر پور شرکت کر ے گا۔ ایک ایسے وقت میں جہاں طلبہ تحریک لمبے عرصے کی خاموشی کے بعد ایک انگڑائی لے رہی ہو‘ کوئی انقلابی رجحان اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ہم اپنی ساتھی تنظیموں کے ساتھ اس مارچ میں شمولیت اختیار کرےں گے اور مستقبل کی عظیم طبقاتی لڑائی اور سوشلسٹ فتح کے لئے نوجوانوں کو متحرک اور منظم کرنے کا تاریخی فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے۔
اس سال ہونیوالے مارچ میں ’RSF‘ کراچی، حیدرآباد، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں بھرپور طاقت کے ساتھ شامل ہوگا۔ اسی طرح کوئٹہ، دادو اور نوابشاہ سمیت دیگر علاقوں میں بیروزگار نوجوان تحریک (BNT) کے ساتھیوں کے ہمراہ شمولیت اختیار کی جائے گی۔ کشمیر میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن(JKNSF) کے ساتھیوں کے ہمراہ کوٹلی، ہجیرہ، راولاکوٹ اور مظفرآباد میں تاریخ ساز طلبہ یکجہتی مارچ کیے جائیں گے۔












15 تبصرے “29 نومبر کو مظفرآباد سے کراچی تک طلبہ حقوق کےلئے سڑکوںپر نکلیںگے، آر ایس ایف”