زلزلہ متاثرہ شہروں کے تعمیراتی منصو بوں‌کےلئے وفاقی حکومت فنڈز فراہم کرنے سے گریزاں

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌چیئرمین وزیر اعظم معائنہ و عملدرآمد کمیشن زاہد امین نے کہا ہے کہ نامکمل تعمیر نو کی تکمیل کے لیے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ کے مکمل اربن افراسٹریکچر کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت نے فنڈز فراہم نہ کر کے تینوں شہروں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

تعلیم اور صحت کے سیکٹر میں سینکڑوں اداروں کی عمارات نامکمل اور ادھوری ہیں۔ متعدد پر کام ابھی شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ طلباء وطالبات کھلے آسمانوں تلے سخت سردی میں پڑھائی نہیں کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم فاروق حیدر ایراء کونسل کے اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان کو وفاقی ذمہ داری کی ادائیگی کی جانب متوجہ کریں گے۔

محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین وزیر ا عظم معائنہ و عملدرآمد کمیشن نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم فاروق حیدر سے ملاقات کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ مظفرآباد بوقت زلزلہ ساڑھے چار سو بیڈ کی صلاحیت پر مشتمل تھا۔ وفاقی تعمیر نو پروگرام کے تحت اسے تاحال صرف 250بیڈز تک ہی محدود رکھا گیا ہے۔ آبادی کا بے پناہ دباؤ سی ایم ایچ کو کم ازکم ساڑھے چار سو بیڈز پر واپس لے جانے کا جائزہ تقاضا کرتا ہے۔

چیئرمین وزیر اعظم معائنہ و عملدآمد کمیشن نے وزیر اعظم کو ایراء ہیڈ کوارٹرزمیں منعقدہ اجلاسوں کے دوران مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ کی ادھوری تعمیر نو کے حوالہ سے حکومت اور متاثرہ زلزہ کے موقف کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔