خواتین پر تشدد اور جنسی ہراس کے اعداد و شمار: خطرناک ممالک میں‌بھارت سرفہرست

25نومبر کو دنیا بھر میں خواتین پرتشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر نے پاکستان و بھارت میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی تعداد کا عمومی جائزہ لیا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق 2004 سے 2018تک جنسی تشدد کے 5634واقعات پیش آئے۔

ان واقعات میں غیرت کے نام پر متعلقہ جرائم (مردو خواتین)16222، جلانے کے واقعات 1635، خواتین کے خلاف گھریلو تشددکے 1943واقعات، خودکشی 36933واقعات اور خواتین کے اغواکے 5907 واقعات پیش آئے۔

پچھلے برس دنیا بھر سے خواتین پر تشدد اور ان کو جنسی طور پرہراساں کرنے کے متعدد کیس سامنے آئے۔2018 میں خواتین کے لیے خطرناک ترین ثابت ہونے والے ممالک کی فہرست میں بھارت سرفہرست ہے

بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جو کہ گزشتہ 7 برس سے 2018 تک خواتین کے لیے سب سے خطرناک ملک ثابت ہورہا ہے۔

تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کی طرف سے کئے جانے والے ایک سروے میں بتایا گیا کہ بھارت میں سب سے زیادہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں جس پر 2012 سے خواتین کے حقوق کیلئے احتجاج جاری ہے۔

اس فہرست میں افغانستان دوسرے نمبر پر ہے۔افغانستان میں خواتین کی صحت سے متعلق بدترین انتظامات، نظریوں کے تنازعات، گھریلو تشد، معاشی وسائل تک کمی اور عہدوں کے لیے خواتین و مرد میں تفریق کی وجہ سے خواتین سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ برائے ترقی پروگرام نے بتایا ہے کہ افغانستان 188 ممالک میں سے 171 نمبر پر ہے جہاں جنسی تفریق پائی جاتی ہے۔ شام کو تیسرے نمبر پر خواتین کے لیے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہاں پناہ گزینوں کی تعداد زیادہ ہے ان میں خواتین اور بچے سر فہرست ہیں۔ان کے پاس بنیادی ضروریات کی کمی بے حد پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے زچگی، حمل سمیت اور دیگر صحت کے مسائل ہیں جن سے خواتین کی شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

صومالیہ میں بھی خواتین کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے بدترین انتظامات، معاشی وسائل کی کمی اور خطرناک روایتی رسم و رواج کی بنا پر خواتین استحصال کا شکار ہیں جس کی وجہ سے یہ خواتین کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔

سعودی عرب پانچویں نمبر پر ہے جہاں خواتین کو جنسی تفریق کے مسائل درپیش ہیں۔سعودی عرب میں بھی خواتین معاشی وسائل کی کمی کا شکار ہیں جب کہ ساتھ ہی انہیں اعلی تعلیم اور عہدوں پر فائز ہونے میں دشواری کا سامنا ہے۔جب کہ گزشتہ برس سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

آر ٹی ایف 2018 کے لیے جاری کردہ فہرست میں خواتین کے لیے خطرناک ترین ثابت ہونے والے ممالک میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے ۔جس کی بنیادی وجوہات غیرت کے نام پر قتل، جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد، جنسی تفریق اور روایتی رسم و رواج ہیں۔

جمہوری ریپبلک کانگو ساتویں نمبر پر ہے جس کی اہم وجہ خواتین کے ساتھ جنسی تشدد ہے اور ساتھ ہی روایتی رسم و رواج کی پابندی اور صحت و، معاشی وسائل کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔

خواتین کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں یمن کا آٹھواں نمبر ہے۔جہاں خواتین بھی صحت و معاشی وسائل کی کمی سمیت روایتی رسم و رواج کی پابندی سے دوچار ہیں۔

افریقی ملک نائجیریا میں خواتین کو روایتی رسم و رواج کی خلاف ورزی کرنے پر سخت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ساتھ ہی ان خواتین کو ریپ اور جنسی تشدد بھی بنایا جاتا ہے، ان واقعات کی بنا پر نائجیریا کو اس فہرست میں نویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

خواتین کے لیے خطرناک ممالک میں امریکا بھی شامل ہے اور اس کا نمبر دسواں ہے۔امریکامیں خواتین کے لیے سب سے اہم مسئلہ زیادتی اور تشدد ہے جب کہ گھریلو تشدد اور کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ امریکا میں گزشتہ سال خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف می ٹو تحریک کا بھی آغاز کیا گیا تھا۔