لبریشن فرنٹ کا دسمبر سے مارچ تک عوامی رابطہ مہم اور ریاست گیر جلسوں‌کا اعلان

جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ نے ریاست جموں‌کشمیر کی وحدت ، چار اور چوبیس اکتوبر کی حکومت کی اعلامیہ کے مطابق بحالی، تعلیم، صحت اور دیگر شعبہ جات کی نجکاری کے خاتمے اور دیگر عوامی مسائل کے حل کےلئے عوامی رابطہ مہم اور ریاست گیر جلسوں کا اعلان کر دیا ہے جن کے اختتام پر اسلام آباد میں‌ممبران پارلیمنٹ کو یادداشت پیش کی جائیگی. یہ جلسے دس دسمبر کو میرپور میں‌پہلے جلسہ سے شروع ہونگے، جبکہ تیس مارچ کو مظفرآباد میں‌اختتامی جلسہ کی صورت اختتام پذیر ہونگے، اس دوران پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے تمام اضلاع اور چند تحصیل ہیڈکوارٹرز میں‌جلسوں‌کی تاریخوں‌کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے.جبکہ اٹھائیس اپریل کو اسلام آباد کی طرف بھرپور عوامی قوت کے ساتھ جاتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ کو مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے.

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سردار عثمان چغتاہی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ کی مرکزی کمیٹی اور پی او کے جی بی زون کے عہدیداران کا اجلاس باغ میں‌چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا. اجلاس میں سینئر وائس چیئرمین راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ،سیکریٹری جنرل شیعب خان، پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان زون کے صدر سردار انصار احمد، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سردار عثمان خان چغتاہی، زون کے جنرل سیکرٹری احمد جان بٹ ،عرفان عباسی ،راحیل بیگ ،شاہد شریف، جاوید عباسی،SLF کے سیکرٹری جنرل دانش گلفراز کے علاوہ دیگر رہنماوں نے شرکت کی.

پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں تحریک اور تاریخ جموں کشمیر کی صورت حال کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا. جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ JKLF بھارت اور پاکستان کی طرف سے تقسیم جموں کشمیر کی ہر سازش کے خلاف ہمیشہ کی طرح اس بار بھی عوامی طاقت کی بنیاد پہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے گا ۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کے ظلم جبراور تشددکی بنیاد پہ کسی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائیگا، اس ظلم کے خلاف عوام کو منظم کرنے کے لئے JKLF پہلے مرحلے میں میرپور سے عوامی رابطہ مہم اور جلسوں کا آغاز کرے گا، جس کا مقصد عوام کو جموں کشمیر کے حال اور مستقبل کی صورت حال سے آگاہ کرنے کے علاوہ عوام کو تعلیم، صحت اور دیگر شعبہ جات کی نجکاری اور دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان کے خلاف منظم کرکرنا ہوگا ۔

اجلاس میں عوامی رابطہ مہم اور جلسوں‌کا شیڈول مرتب کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پہلا جلسہ میرپور میں 10 دسمبر کو منقعد ہو گا، اس کے بعد بھمبر 13 دسمبر، حویلی 20 دسمبر، سدھنوتی 27 دسمبر، ہجیرہ 11 جنوری، کوٹلی 27 جنوری جبکہ 11فروری یوم شہادت بابائے قوم مقبول بٹ شہید تمام ضلعی اورتحصیل ہیڈ کوارٹرزسمت بیرون ملک بھر پور طریقہ سے منایا جائے گا. اس کے بعد 18 فروری کوباغ میں جلسہ منقعد ہو گا، دھیرکوٹ میں‌7 مارچ جبکہ نیلم میں 20 مارچ کو جلسہ منعقد کیا جائیگا، عوامی رابطہ مہم کا آخری جلسہ مظفرآباد میں 30 مارچ کو منقعد ہو گا.

پریس ریلیز کے مطابق جے کے ایل ایف عوامی رابطہ مہم اور ریاست گیر جلسوں‌کے بعد بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرے کرتے ہوئے اسلام آباد پارلمینٹ کے ممبران کو یادداشت پیش کرنے کے لیے 28 اپریل کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا۔

اسلام آبادمیں‌ممبران پارلیمنٹ کو یاداشت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان پہ مشتمل انقلابی حکومت کو 4 اور 24 اکتوبر کے اعلامیہ کے مطابق تسلیم کیا جائےتاکہ ریاست کی وحدت، تاریخ، ثقافت کو بچاتے ہوئے ہم جموں کشمیر کی عوام اپنی آزادی کی جنگ خود لڑ سکیں۔

چیئرمین JKLF سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تاریخ کے اس بدترین دور سے گزرہے ہیں جہاں بے نام موت مرنے سے بہتر ہے ہم تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے آخری حد تک لڑیں، ہمیں پورا یقین ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی وحدت اور ریاست جموں کشمیر کے عوام کی عزت نفس پر یقین رکھنے والے عوام ہمارا ساتھ دیں گے اور ہمیشہ کی طرح بھرپور قوت کے ساتھ ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے لئے ہونے والی گھناؤنی سازشوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ۔

انہوں نے کہا ہمیں یقین ہے ہم صبح آزادی کو عوامی طاقت اور اللہ کی مدد سے طلوع ہونے پہ مجبور کریں گے ۔اور ہر دو اطراف کی غاصب قوتوں کو ہماری دھرتی بالآخر ریاست جموں کشمیر کے عوام کے حوالے کرنی ہوگی، جو اس کے وارث ہیں.

اجلاس میں لاطینی امریکہ میں سامراجیت کے خلاف چلنے والی عوامی حقوق اور انسانی آزادیوں کی تحریکوں کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے اپنے اس عزم کو دہرایا گیا کہ پوری دنیا کے مظلوم عوام ایک ہی طرح کے جبر کا شکار ہیں. اس لئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پوری دنیا کے مظلوم عوام کی آزادی کا خواہاں ہے اور یہی توقع ہم پوری دنیا کے آزادی پسند عوام سے بھی کرتے ہیں کہ وہ ہماری آزادی کی جنگ میں ہماری حمایت کریں گے۔