پبلک سروس کمیشن میں ٹمپرنگ، دو لسٹیں‌ جاری: میرٹ پر آنیوالا غریب نوجوان لسٹ سے خارج

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے پبلک سروس کمیشن نے سترہویں سکیل کی کامرس انسٹرکٹر کی آسامی پر میرٹ لسٹ میں‌ مبینہ طور پر ٹمپرنگ کے ذریعے غریب نوجوان کو روزگار سے محروم کر دیا ہے.

پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ پر رواں‌ماہ کی آٹھ تاریخ کو میرٹ لسٹ اپ لوڈ کی گئی، جس میں‌پونچھ کے کوٹے سے عامر نذیرولد نذیر حسین رولنمبر 4456 دوسرے نمبر پرموجود تھے. جبکہ میرٹ لسٹ کے مطابق کامیاب امیدواران کو چودہ نومبر کو انٹرویو کےلئے مظفرآباد طلب کیا گیا تھا.

اگلے ہی روز پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ پر وہی میرٹ لسٹ دوبارہ اپ لوڈ کی گئی اور پرانی میرٹ لسٹ کو تبدیل کر دیا. ایک ہی دستخط، ریفرنس نمبر اور تاریخ کی اس دوسری میرٹ لسٹ پر پونچھ کے کوٹے سے دوسرے نمبر پر آنیوالے امیدوار کا نام ٹمپرنگ کے ذریعے تبدیل کر دیا گیاتھا جبکہ باقی نام اسی طرح‌سے موجود تھے. عامر نذیرولد نذیر حسین کی جگہ ٹمپرنگ کے ذریعے راشد یونس ولد محمد یونس رولنمبر 4503 کا نام شامل کیا گیا تھا.

دوسری اپ لوڈ کردہ میرٹ لسٹ میں‌ ٹمپرنگ واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے. ایک نام بڑے اوربولڈ حروف میں‌لکھا گیا ہے جبکہ دیگر ناموں‌ اور رولنمبرز کا فانٹ اور سائز ایک جیسا ہے.

چودہ نومبر کو انٹرویو کے بعد کامیاب امیدواران کی جو فہرست بذریعہ پریس ریلیز جاری کی گئی اس میں‌ بھی حریت انگیز طور پر دوسرے نمبر پر ٹمپرنگ کے ذریعے میرٹ لسٹ پر شامل کئے گئے امیدوار کو ہی کامیاب قرار دیا گیا. پہلے نمبر پر موجود احمد انور بھی کامیاب نہیں‌ہو سکے.

ٹمپرنگ کے ذریعے جس امیدوارکا نام لسٹ سے نکالا گیا اس نے روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے. ریاست کے سب سے بااعتماد سمجھے جانے والے ادارے نے انتہائی گھٹیا انداز میں‌ٹمپرنگ کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کو میرٹ لسٹ پر دوسرے نمبر پر شامل کر دیا جس نے مذکورہ آسامی کےلئے ٹیسٹ ہی نہیں‌دیاتھا.

ذرائع کے مطابق میرٹ لسٹ میں‌ٹمپرنگ کے ذریعے جس نوجوان کو شامل کر کے منتخب کیا گیا اس نے مذکورہ آسامی کےلئے امتحان ہی نہیں‌دیا تھا، خصوصی سفارش کی بنیاد پر اسکے امتحانی پرچہ اور فارم میں‌بھی ٹمپرنگ کرتے ہوئے سترہویں‌سکیل کی مذکورہ بالا آسامی کو بھی شامل کیا گیا.

جعلسازی کے ذریعے حق سے محروم کئے گئے عامر نذیر کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے. عدالتوں میں‌جانے کےلئے اس کے پاس مطلوبہ رقم نہیں‌ہے. قرض ادھار کر کے تعلیمی اخراجات پورے کئے اور اب نوکری کے حصول کےلئے دھکے کھا رہا ہوں. پبلک سروس کمیشن میں‌میرٹ پر آنے کے باوجودموجودہ کرپٹ نظام نے مجھے روزگار کے اس حق سے بھی محروم کر دیا ہے.

عامر نذیر نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ اس جعلسازی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور اسے اس کا حق دلایا جائے.