حویلی: زیرحراست ملزم کی ہلاکت، ایس ایچ او بابر رفیق سمیت 6 اہلکاران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے ضلع حویلی کے صدر مقام کہوٹہ کے مرکزی تھانہ پولیس میں زیر حراست ملزم کی ہلاکت کے واقعہ میں‌ایس ایچ او تھانہ پولیس کہوٹہ، سب انسپکٹر سمیت چھ اہلکاران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.

نوجوان تیمور خان راٹھور ولد محمد حنیف سکنہ ممتاز آباد کو کہوٹہ پولیس نے ایک ڈکیتی کے الزام میں‌گرفتار کیا تھا، جبکہ بدھ کے روز مبینہ طور پر پولیس تشدد کی وجہ سے ملزم کی موت واقع ہو گئی. جسے پولیس نے خودکشی ظاہر کرنیکی کوشش کی لیکن عوامی علاقہ نے شدید احتجاج شروع کر دیا. جس کے بعد پولیس نے ہلاک ہونے والے ملزم کے والد کی مدعیت میں‌مقدمہ درج کر لیا ہے. تاہم احتجاج کا سلسلہ تاحال جاری ہے. عوام علاقہ پولیس ملزمان کی فوری گرفتاری اور ایس پی حویلی کی معطلی کا مطالبہ کر رہے ہیں.

تھانہ پولیس کہوٹہ میں زیر دفعہ 302/34 درج ایف آئی آر نمبر 100/19 ہلاکت ہونے والے ملزم تیمور راٹھور کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے. ایف آئی آر میں‌ایس ایچ او تھانہ پولیس کہوٹہ بابر رفیق، سرفراز حسین شاہ سب انسپکٹر، محمد منشاء خان کنسٹیبل، محمد آفتاب کنسٹیبل، عدنان برکت کنسٹیبل اور کنسٹیبل کلیم کو نامزد کیا گیا ہے.

والد مبینہ مقتول کے مطابق ایس ایچ او بابر رفیق نے انہیں بھی گرفتار کیا اور بیس ہزار روپے رشوت لیکر تشدد کرنے کے بعد رہا کیا گیا، بعد ازاں تیس ہزار روپے مزید رشوت مانگی گئی، لیکن وہ دینے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے ایس ایچ او نے پہلے خواتین کو گرفتار کرنے کی دھمکی دی پھر بیٹے کو گرفتار کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا.

والد مقتول کے مطابق جب پولیس اہلکاران تیمور پر تشدد کر رہے تھے تو انکا بڑا بیٹا تھانہ کے باہر موجود تھا، جس نے تھانے میں‌جانے کی کوشش کی لیکن اسے اندر نہیں‌جانے دیا گیا. وہ گھر اطلاع کرنے آیا کہ اس پر بہت تشدد کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ہم سب تھانے پہنچے تو پولیس نے بتایا کہ اسکی موت واقع ہو چکی ہے.

دوسری جانب مقتول تیمور راٹھور کی نماز جنازہ ممتاز آباد نکر میں‌ادا کرنے کے بعد میت سپرد خاک کر دی گئی، جس میں‌سیکڑوں افراد نے شرکت کی.

نماز جنازہ کے موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سفاکانہ تشدد اور قتل کی نظیر حویلی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی، مقررین نے انتظامیہ حویلی کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزمان چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار نہ ہوئے تو راست اقدام اٹھانے پہ مجبور ہوں گے جسکی تمام تر ذمہ داری حویلی کہوٹہ کی انتظامیہ پہ ہوگی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس پی حویلی کہوٹہ شوکت مرزا کو معطل کرکے جوڈیشل انکوائری کروائی جائے.

مقامی صحافی ثاقب راٹھور کے مطابق مقتول کے والد نے نماز جنازہ کے موقع پر اپنی گفتگو میں‌کہا کہ اس سے قبل گرفتار شدہ کئی بے گناہ نوجوانوں‌کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بیس بیس ہزار فی کس لینے کے بعد انہیں‌رہا کیا گیا. مذکورہ نوجوانوں‌میں شہباز،منظر،تیمور،شعیب،طاہر،طارق،ندیم،عتیق،حیدر وغیرہ شامل ہیں.

واضح رہے کہ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خود کشی کا واقعہ ظاہر کیا تھا، پولیس نے موقف اپنایا تھا کہ ملزم نے حوالات کے واش روم کی کھڑکی سے رسی باندھ کر اپنی جان لے لی ہے. لیکن جائے وقوعہ کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کا دعویٰ بری طرح سے بے نقاب ہو گیا. جائے وقوعہ کی سوشل میڈیاپر آنے والی تصاویر میں‌ رسی تو کھڑکی سے باندھی نظر آرہی ہے لیکن عین رسی کے نیچے ہینگر اور واش بیسن بھی موجود ہیں. جن میں‌سے ہر ایک چیز اپنی جگہ پر موجود ہے. جبکہ رسی بھی جس اونچائی پر باندھی گئی تھی وہ انسان کو لٹکانے کےلئے کافی نظر نہیں‌آرہی تھی.

مذکورہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور مقامی افراد کے احتجاج کے بعد پولیس نے دوسرے روز واقعہ کی ایف آر درج کرلی ہے. تاہم ابھی تک کوئی ملزم گرفتار نہیں‌کیا گیا ہے.