پاکستانی زیرانتظام جموںکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میںمحکمہ تعلیم کو مرحلہ وار پرائیویٹائز کرنے کے سلسلہ میںبل پیش کے جانے پر سرکاری معلمین نے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے.
اساتذہ نے ایک پمفلٹ سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا ہے جس میںکہا گیا ہے کہ بنیادی تعلیمی اداروں (پرائمری سکولوں) اور بعد ازاں مڈل اور ہائی سکولوں کو بند کرنے اور نجی تحویل میںدیئے جانے کے منصوبے کو سامنے رکھتے ہوئے حکمرانوںنے بل تیار کیا ہے جسے اسمبلی سے منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے.
مذکورہ بل پر حکومتی اراکین کے علاوہ اپوزیشن اراکین اسمبلی بھی حکومت کے حق میںہیں. اساتذہ نے حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تعلیمی اداروںکو نجی تحویل میںدینے سے بیروزگاری میںاضافہ ہوا گا، اساتذہ کو نوکریوں سے بے دخل کیا جائے گا وہاںغریب عوام کی اولادوںکو تعلیم کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جائے گا.
اساتذہ نے مذکورہ پمفلٹ کے ذریعے تمام شہریوںسے اپیل کی ہے کہ وہ بھی حکومت کے اس منصوبہ کے خلاف احتجاج میںاساتذہ کا ساتھ دیں تاکہ تعلیم کے کاروبار کو فروغ دیئے جانے کی حکومتی منصوبہ بندی کو بے نقاب کیا جائے اور غریب عوام کےلئے تعلیم کا حق چھین کر لیا جا سکے.
اس سلسلہ میںپاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کی ٹیچرزآرگنائزیشن نے اپنے حقوق کی بحالی کیلئے 26 نومبر سے احتجاجی مظاہروں اور مظفرآباد میںاحتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے.
پریس ریلیز کے مطابق اساتذہ نے طویل عرصہ سے جھوٹے حکومتی وعدوں اپگریڈیشن، پرائمری کوٹہ نجکاری اورترقیابیوں پرحکومتی اور محکمانہ بے حسی ،مسلسل لیت ولعل اور اساتذہ مخالف پالیسیز بنانے پر حکومت کو ان مسائل کے حل کے لئے25 نومبر2019 تک کی ڈیڈ لائن دی ہے.
اس سلسلے میں ضلعی سطح کے ھنگامی پروگرامات ترتیب دیے گئے ہیں.
ضلع باغ اور تینوں تحصیلوں کاھنگامی اجلاس 16 نومبر 2019 گورنمنٹ پائیلٹ ہائی سکول باغ میں منعقد ہوا. جس میں مرکزی صدر ٹیچر آرگنائزیشن سردار سجاد، مرکزی رہنما سردار شفقت حیات، صدر راجہ محمد یسین خان، سیکرٹری جنرل عبدالمنان گوھر، راجہ سلیم چشتی سید محسن گردیزی،راجہ امتیازسروراور دیگر ضلعی اور تحصیلوں کے عہدیداران اوراساتذہ اکرام نے خطاب کیا. اور ٹیچرزآرگنائزیشن آزادکشمیر کی مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں اور چارٹر آف ڈیمانڈ کو سراہا.
ھنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا مظفرآباد 26 نومبر کا احتجاجی دھرنا اساتذہ کے حقوق کی بحالی کیلئے اھم سنگ میل ثابت ہوگا.
تمام اساتذہ کرام کشتیاں جلا کر جوق در جوق قافلہ در قافلہ 26 نومبر کے دھرنے میں شرکت یقینی بنا کرعلمی مذہبی بیداری اور ذمہ داری کا ثبوت دیں۔












18 تبصرے “تعلیمی اداروں کی نجکاری کا بل اسمبلی میںپیش، اساتذہ نے احتجاجی مظاہروںکا اعلان کردیا”