بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیرمیں غیر مقامی ڈرائیورز نے ٹریفک حکام کی جانب سے انہیں تنگ کرنے اور ان سے جبرا پیسے وصول کرنے کا الزام عائد کیاہے۔
ضلع اننت ناگ کے ونپو کے مقام پر جموں ۔ سرینگر قومی شاہراہ پر ڈرائیوروں نے الزام عائد کیا ہے کہ جموں ادھمپور عبور کرنے کے بعد ٹریفک پولیس کی جبرأ وصولی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
ایک ڈرائیور نذیر احمد نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایاکہ ادھمپور سے سرینگر تک انہیں چیک پوسٹ کے نام پر تقریبا بیس بار روکا جاتا ہے اور فی گاڑی سے 100 روپئے وصول کئے جاتے ہیں، اور رقم وصول کرنے کے بعد رسید بھی نہیں دی جاتی ۔
ڈرائیورز کے مطابق تقاضا کرنے پر انہیں ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر چیک پوسٹ قائم کرنے اور گاڑیوں کو بلاوجہ روکنے کے نتیجے میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے جس کے سبب ڈرائیورز کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔












12 تبصرے “جموں کشمیر: غیر مقامی ڈرائیورزسے جبرأ بھتہ وصول کرنے کے الزامات”