گورنمنٹ وی ٹی آئی کے زیر اہتمام ”صحت، حفاظت اور ماحول“ کے عنوان سے تین روزہ ورکشاپ

آزاد جموں کشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ تھارٹی (AJK TEVTA) کے زیر اہتمام چلنے والے ادارے گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ(VTI) کی طرف سے وی ٹی آئی کے مختلف شعبہ جات کے طلباء کے لئے ٹیوٹا کمپلیکس راولاکوٹ میں ”صحت،حفاظت اور ماحول“ کے عنوان سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں تمام شعبہ جات کے طالب علم اور انسٹرکٹرز شریک ہوئے جبکہ اویس احمدرفیق نے تربیت کار(Trainer) کی حیثیت سے حصہ لیتے ہوئے صحت حفاظت اور ماحول کے حوالہ سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ پرنسپل وی ٹی آئی راولاکوٹ اعجاز احمد رفیق کے مطابق ورکشاپ کا مقصد ہنر مند طالب علموں کو ملکی اورعالمی منڈی میں کام کے لئے ابھرنے والے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔پرنسپل کے مطابق اس سے قبل ابتدائی طبی امداد سمیت مختلف اہم تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جا چکا ہے جبکہ مستقبل میں مزید اہم امور پر اس طرح کی تربیتی نشستوں کاانعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ طلباء کو ہنر کے ساتھ ساتھ عالمی و ملکی معیارات پر کام کرنے میں مدد دی جا سکے۔

28,29,30اکتوبر کو راولاکوٹ ٹیوٹا کمپلیکس میں منعقد کی گئی ورکشاپ میں مکینیکل،آٹو الیکٹریشن،بلڈنگ الیکٹریشن، آر اے سی، ویلڈنگ اور دیگر شعبہ جات کے 70سے زائد طلباء اورسٹاف ممبران نے شرکت کی۔ تربیت کار اویس احمد نے شرکاء کوآگ کے اصول،آگ بجھانے کے طریقے،آگ بجھانے کے آلات،فائر ایمرجنسی پروسیجر،دھماکوں کی صورت میں حفاظتی تدابیر،قدرتی آفات سے نمٹنے کے طریقے،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ردّعمل،ابتدائی طبّی امداد،ٹُولز ہینڈلنگ،ہاؤس کیپنگ(صفائی ستھرائی)،ذاتی حفاظتی آلات(PPE’s)، بجلی کے کام،ویلڈنگ،اونچائی پر کام سمیت عام زندگی اور کام سے متعلق مختلف اہم امور پر تربیت دی۔ تربیت کار اویس احمد صحت،حفاظت اور ماحول کے حوالہ سے 20سے زائد عالمی اور ملکی اسناد کے ساتھ ملکی اور عالمی سطح پر مختلف کمپنیوں مثلاً ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی(ADNOC)، نیسلے(Nestle)،پیپسی کو(Pepsi Co.) اور مختلف پراجیکٹس پر کام کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا اور بالخصوص ہمارے معاشرے میں صحت،حفاظت اور ماحول جیسے مسائل اس وقت توجہ طلب مسائل ہیں جن کی عالمی معیارات پر آگاہی ہی وہ واحد راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو نہ صرف جدید دور کے تقاضے پورے کرنے میں مدد دے گا بلکہ اپنی صحت اور حفاظت کے ساتھ ساتھ،دوسرے لوگوں کی،پراپرٹی کی اور ماحول کی حفاظت سے وہ اپنا اخلاقی اور قانونی فرض نبھاتے ہوئے عالمی معاشرے کے مؤثر شہری بن کر مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ راولاکوٹ کے پرنسپل اعجاز رفیق نے ورکشاپ کے سلسلہ میں روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا وژنمعاشی ترقی کے حصول کے لئے افرادی قوت کو ہنر سے آراستہ کرنا، معاشرے کی بہتری کو مدّ نظر رکھتے ہوئے صنعتی تعلیم و تربیت کے فروغ اور مختلف فنون کے ذریعے ہنر مند افراد کی استعداد بڑھانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ادارہ میں جی سی ٹی کے شعبہ کی عارضی شفٹنگ سے جہاں نئے شعبہ جات کے آغاز میں مشکلات درپیش ہیں وہیں موجودہ شعبہ جات کی ورکشاپس اور لیبارٹریز کے لئے ناکافی جگہ بھی مسائل کو بڑھا رہی ہے۔تاہم محدود وسائل میں رہتے ہوئے اس طرح کی تربیتی ورکشاپس ہمارے وژن کو آگے بڑھانے کابہترین ذریعہ ہیں۔ تربیتی ورکشاپس کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نا صرف مزید قومی اور بین الاقوامی منڈی کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش جاری رکھیں گے بلکہ آنے والے دنوں میں وی ٹی آئی کے زیر اہتمام جدید تقاضوں کے تحت مزید شعبہ جات کا آغاز بھی کریں گے۔

اس سے قبل راولاکوٹ میں پونچھ میڈیکل کالج کی باقاعدہ منظوری کے بعد بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے اے جے کے ٹیوٹا کے ادارے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجیز(جی سی ٹی) کی بلڈنگ میں میڈیکل کالج (پی ایم سی) کا آغاز کیا گیا اور جی سی ٹی کے دو بڑے شعبوں سول ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سے سول ڈیپارٹمنٹکو گلیات ہائی سکول کی بلڈنگ جبکہ کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی(سی آ ئی ٹی)کو وی ٹی آئی راولاکوٹ کی بلڈنگ میں شفٹ کر دیا گیا جس کے بعد سے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ(وی ٹی آئی) راولاکوٹ کے اپنے شعبہ جات کی کلاسز،لیبارٹریز اور ورکشاپس کے لئے جگہنا کافی ہو جانے کے باعث وی ٹی آئی سمیت جی سی ٹی اور گلیات سکول بھی مشکلات کا شکار ہیں۔میڈیکل کالج کا آغاز جہاں ایک خوش آئند اور ترقی پسند اقدام تھا وہیں کئی سال گزرنے کے باوجود کالج کے لئے بلڈنگ تعمیر نا کر پانا ایک سوالیہ نشان ہے جسے حل کئے بغیر ایک ہی وقت میں تین و بڑے اہم ادارے تباہی کی طرف جا سکتے ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جہاں انڈسٹری،انفرا سٹرکچر اور سرمایہ کاری کے فقدان اور پسماندگی کی وجہ سے آبادی کی بڑی اکثریت کو روزگار مہیّا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے وہاں کشمیری نوجوان اروزگار کی عدم دستیابی یا کمیابی کی وجہ سے پہلی اور دوسری دنیا میں اپنی قوت محنت بیچنے پر مجبور ہیں۔اکثریتی کشمیری گلف اور عرب ممالک میں محنت کرنے جاتے ہیں جس سے زیادہ تر کشمیری گھروں کے چولہے جل رہے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ریونیو کا سب سے بڑا حصہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی محنت سے آتا ہے جبکہ غیر ہنر مند کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد ان ممالک میں انتہائی کم اجرت پر کام کرنے کے لئے مجبور ہے۔ایسے میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کشمیری نوجوانوں کے لئے ایک بہترین موقع ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر ہنر مند افراد پیدا کر کے اندرون اور بیرون ملک روزگار کے مواقع اور نسبتاً بہتر مراعات حاصل کرنے میں قدرے آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔حکومت وقت پر تمام تعلیمی اداروں بالخصوص فنی و صنعتی تعلیم کے اداروں کے مسائل حل کرنے کی فوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو کسی بھی دوسرے محکمہ سے کم اہمیت کے حامل نہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: