انڈیا میں‌گہرا ہوتا اقتصادی بحران: مینوفیکچرنگ سیکٹر میں‌5.2 فیصد کمی

بھارت میں معاشی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ مینو فیکچرنگ سیکٹر میں پیداوار کے متعلق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ستمبر میں 5.2 فیصد کی کمی ریکارڈکی گئی ۔جو اگست میں 0.5 فیصد تھی۔

مینو فیکچرنگ سیکٹر کے انڈیکس میں کمی کوئلے کی کان کنی میں کمی کی وجہ سے آئی ہے۔ کوئلے کی کان کنی میں پیداوار منفی سطح تک جا پہنچی ہے اس سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی مندی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

گذشتہ برس ستمبر میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیداوار میں 4.3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ جبکہ اپریل سے ستمبر 2019 میں یہ کمی 1.3 فیصد ریکارڈگئی تھی۔

کوئلے کی کان کنی میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق گذشتہ برس ستمبر 2018 میں کوئلے کی کان کنی میں منفی 8.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔ جبکہ رواں برس ستمبر میں یہ کم ہو کر منفی 20.5 فیصد ہوگئی تھی۔

اسی طرح گذشتہ برس ستمبر میں قدرتی گیس کی مصنوعات کی پیداوار میں منفی 3.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی اور اب یہ مزید کم ہوکر منفی 4.9 فیصد ہوگئی ہے۔ تاہم ریفائنری اور اسٹیل کے سیکٹر میں گذشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے۔

مینو فیکچرنگ میں کمی کی وجہ سے صنعتی پیداوار میں بھی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لہذا صنعتی پیداوار میں تیزی لانے کے لیے آر بی آئی کی جانب سے ایک اور ریپور ریٹ میں کمی کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اگست سے اب تک آر بی آئی ریپو ریٹ میں 135 بنیادی پوائنٹس کی کمی کر چکی ہے۔ در اصل جی ڈی پی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ آر بی آئی نے بھی سنہ 2019۔ 20 کے مالی برس کے لیے اپنی جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 6.9 فیصد سے کم کرکے 6.1 فیصد کردیا ہے’۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: