پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قائم سرکاری بینک ”بینک آف آزاد جموں کشمیر “کے صدر کی تعیناتی کےلئے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے ایک غیر ریاستی شخص کا نام فائنل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بینک کے غیر ریاستی صدر کے ساتھ جو معاہدہ جات کئے گئے تھے ان پر پورا اترے بغیر ہی وہ اپنا کنٹریکٹ پورا کر کے سندھ بینک میں تعینات ہو چکے ہیں۔ لیکن اب ایک مرتبہ پھر ”بینک آف آزاد جموں کشمیر “کے صدر کےلئے پاکستان سے قاضی نوید نامی غیر ریاستی شخص کی تعیناتی کےلئے اقدامات کر لئے گئے ہیں۔
گزشتہ صدر کو بھاری مراعات اور تنخواہوں پر بینک میں لانے کےلئے کنٹریکٹ میں شامل کیا گیا تھا کہ وہ تین سالہ مدت کے اندر بینک کو شیڈیولڈ بینکوں کی فہرست میں لا کھڑا کریں گے۔ لیکن اقرباءپروروی، پسند و ناپسند اور کرپشن اور جعل سازی جیسے اقدامات کے ذریعے بینک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے علاوہ کوئی بھی تعمیراتی کام کئے بغیر سابق صدر اپنے کنٹریکٹ کی مدت پوری کر کے جا چکے ہیں۔ جبکہ ایک مرتبہ پھر غیر ریاستی شخص کو بینک میں بطور صدر لائے جانے کی تمام تر تیاریاں بھی مکمل کی جا چکی ہیں۔
اس سلسلہ میں مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے بینک آف آزاد جموں کشمیر کے ایک سابق ملازم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ریاستی صدر کو بھاری مراعات پر لانے کا حکومت کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب کو بینک میں تعینات کروالیتے ہیں اور اسی طرح دیگر مفادات بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن ایک پیشہ ور آدمی کی تعیناتی کو سامنے رکھ کر ان پر زیادہ الزامات نہیں لگتے۔
اسی طرح انکا کہنا تھا کہ بینک کے اتنے بڑے عہدے پر جب باہر سے کوئی شخص آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ دیگر سٹاف بھی بھاری مراعات کے عوض اٹھا لاتا ہے، جبکہ پہلے سے موجود بینک سٹاف کو کوئی سہولیات فراہم کرنےکی بجائے، اپنے من پسند لوگوں کو اہم عہدوں پر بھاری مراعات کےساتھ تعینات کر لیتا ہے جس کی وجہ سے بینک کے مستقل ملازمین کی کام میں دلچسپی ختم ہو رہی ہے اور بینک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
مظفرآباد سے ہی تعلق رکھنے والے ایک بینک ملازم نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بینک کے مستقل ملازمین انتہائی کسمپرسی اور قلیل تنخواہوں پر گزارہ کر رہے ہیں، گزشتہ بینک صدر نے بھی انکے ساتھ شدید نا انصافیاں کی ہیں اور بینک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، آئندہ آنیوالے بینک صدر کو بھی اسی طریقہ سے لایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں بھی متعدد ایسے افراد موجود ہیں جو بینک کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات کئے جا سکتے ہیں اور وہ اسے اپنا بینک سمجھ کر اسے اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کےلئے نا صرف بہتر اقدامات کر سکتے ہیں بلکہ اس بینک کو بہت جلد شیڈیولڈ بینکوں کی صف میں کھڑا کر سکتے ہیں۔ لیکن حکمران اپنے ذاتی فائدے کےلئے ایک قومی ادارے کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس طرح حکمرانوں کے چند نااہل رشتے دار بینک میں ضرور بھرتی ہو سکتے ہیں لیکن بینک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔
تاہم شہریوں اور تاجروں نے بھی حکومت سے کہا ہے کہ غیر ریاستی افراد کو بینک کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے کی بجائے مقامی قابل لوگوں کو تعینات کیا جائے تاکہ وہ نہ صرف بینک کو ترقی دے سکیں بلکہ مقامی لوگوں کو سہولیات بھی فراہم کر سکیں۔












9 تبصرے “”بینک آف آزاد جموں کشمیر“ میں ایک مرتبہ پھر غیر ریاستی صدر کی تقرری کےلئے تیاریاں مکمل، بینک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا”