حکومت کی طرف سے نافذ کردہ ٹیکسز کے خلاف پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں 28اور 29اکتوبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی

ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر انتیس اور تیس اکتوبر کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بھر میں تاجران شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں گے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں مرکزی انجمن تاجران کے صدرسردار افتخار فیروز نے کہا ہے کہ تاجران پورے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تمام اضلاع اور تحصیل ہیڈکوارٹرز میں شٹرڈاؤن ہڑتال کریں گے۔پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، تاجران وفاق کی طرف سے مسلط کردہ ٹیکسز کسی صورت ادا نہیں کریں گے۔

راولاکوٹ سمیت پونچھ ڈویژن میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کیلئے بھرپور رابطہ مہم جاری ہے، تاجران اپنے حقوق کیلئے باہر نکلیں اور مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہوئے حکمرانوں کو یہ پیغام دیں کہ انہیں کسی صورت جبر کے ذریعہ سے دبایا نہیں جا سکتا ہے۔ وہ انجمن تاجران راولاکوٹ کے عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

اس اجلاس سے صدر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی مرکزی انجمن تاجران و صدر انجمن تاجران راولاکوٹ سردار افتخار فیروز کے علاوہ جنرل سیکرٹری حاجی سردار اعجاز حنیف، سینئر نائب صدر تنویر خالق، ڈپٹی جنرل سیکرٹری طاہر فاروق، چیف آرگنائزرعرفان اشتیاق، سیکرٹری مالیات آصف اشرف، قاضی کامران اور دیگر عہدیداران نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ تاجران ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن پہلے ریاست وہ سہولیات تاجروں کوفراہم کرے جو ٹیکس دینے والے شہریوں کو دنیا بھر میں حاصل ہوتی ہیں۔ دہرے اور تہرے ٹیکس کسی صورت ادا نہیں کئے جائیں گے، فکسڈ ٹیکس کا نظام اگر متعارف کروایا جاتا تب بھی تاجران ٹیکس دینے کو تیار تھے لیکن جو رویہ حکمرانوں نے روا رکھا ہوا ہے وہ تاجروں کے معاشی اور سماجی قتل کا رویہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر بھرکے تاجران متحد اور یک زبان ہیں، ہم کسی صورت اپنے حقوق پر کمپرومائزنہیں کریں گے۔

انتیس اور تیس اکتوبر کو پورے آزادکشمیر میں بھرپورشٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائیگی اور اگر تاجروں کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو ہم ماضی کی تاریخ دہرانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔