بھارتی حکومت نے کشمیر میںگرفتار رہنماؤںکی مشروط رہائی کےلئے حلف نامہ تیار کر لیا ہے جس پر جبری طور پر دستخط کروانے کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے. انسانی حقوق کی تنظیمیں مذکورہ حلف نامے پر دستخط کروانے کے عمل کو آئین کے تحت ملے حقوق کی کھلے عام خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے. حلف نامے میںرہائی کےلئے یہ شرط عائد کی گئی ہے ہ رہائی پانے والا شخص ارٹیکل 370 سمیت کشمیر کے حالیہ حالات پر کوئی تبصرہ اور سرگرمی نہیںکرے گا.
مقامی میڈیاکی رپورٹس کے مطابق حال میں رہا کی گئی دو خواتین سے دفعہ 107 کے ترمیم شدہ حلف نامہ پر دستخط کروائے گئے۔ اس کا عام طور پر ان معاملوں میں استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی ضلع مجسٹریٹ اپنی انتظامی طاقتوں کا استعمال مجرمانہ عمل کے تحت کسی کوحفاظتی وجوہات کے تحت حراست میں لینے کے لئے کرتا ہے۔ اقرارنامہ کی عام شرطوں کے تحت ممکنہ طور پر مسئلہ پیدا کرنے والوں کوامن کی خلاف ورزی نہیں کرنے یا کسی بھی ایسے کام کو انجام نہیں دینے کا وعدہ کرناپڑتا ہے جو شاید امن کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ اس وعدے کی کوئی بھی خلاف ورزی کرنےپر حراست میں لئے گئے شخص کو ریاستی حکومت کو جرمانہ دینا ہوتا ہے۔
حال ہی میںجاری ہونے والے حلف نامہ میںدو ترامیم کی گئی ہیں. پہلی ترمیم شدہ شرط یہ ہے کہ دستخط کرنے والے کو یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے حالیہ واقعات پر نہ تو کوئی تبصرہ کرےگا، نہ تو کوئی بیان جاری کرےگا، نہ تو کوئی عوامی تقریر کرےگا اور نہ ہی کسی عوامی جلسہ میں حصہ لےگاکیونکہ اس سے ایک سال کی مدت کے لئے ریاست میں امن اور نظم و نسق کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت ہے۔یہاں حالیہ واقعات کے تناظر میں آرٹیکل 370 یا جموں کشمیر کو دو یونین ٹریٹری میں منقسم کرنے اور جموں کشمیر کی ریاست کا درجہ ختم کرنے سے ہے۔
دوسری ترمیم شدہ شرط یہ ہے کہ ان کو مچلکے کے طور پر 10000 روپے جمع کرنے ہوںگے اور اقرارنامہ کی کسی بھی خلاف ورزی کے لئے40000 روپے ضمانت کے طور پر چکانےہوںگے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے پر ان کو پھر سے حراست میں لیا جا سکتا ہے۔
قانون کے ماہرین اور کارکنوں کا ماننا ہے کہ یہ نئی شرطیں مسئلہ پیداکرنے والی اور غیر آئینی ہیں۔ آئینی معاملوں پر لکھنے والے وکیل گوتم بھاٹیا نے دی وائر کو بتایا، ‘ آئین کے آرٹیکل 19 (2) کے تحت تشدد کے لئے اکسانے پر اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے بار بار کہا ہے کہ جب تک کوئی تشدد کو اکساتا نہیں ہے تب تک انقلابی خیالات کی بھی آزادی ہے۔ اس لئے سی آر پی سی کی دفعہ 107 کا استعمال اس طرح سے نہیں کیا جا سکتا ہے، جس سے کسی شخص کی نج آزادی پر غیر آئینی پابندی لگا دی جائے۔ ‘

یہ واضح نہیں ہے کہ ترمیم شدہ دفعہ 107 اقرارنامہ پر کتنے لوگوں نےدستخط کیا ہے لیکن دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کہتی ہے کہ کئی لوگوں کو اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جبکہ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی جیسے کئی رہنماؤں نے مبینہ طور پر اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
پچھلے دو ہفتوں میں کئی دیگر رپورٹوں نے اشارہ دیا ہے کہ تمام سیاسی بندیوں کو اپنی رہائی کی شرط کے طور پر ایک بانڈ پر دستخط کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ کیا ان رہائی سمجھوتہ میں نئی پابندی شامل تھی۔ جب دی ٹیلی گراف نے ریاست کے سرکاری وکیل ڈی سی رینا سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات سے انکار کر دیا کہ انہوں نے نیا بانڈ دیکھا ہے لیکن پھر بھی اس کوبالکل قانونی بتایا۔












17 تبصرے “اسیر کشمیری رہنمائوں کی رہائی کےلئے حلف ناموں پر جبری دستخط کروانے کا سلسلہ شروع”