سیاٹل کی پہلی سوشلسٹ کونسلر کو ہرانے کیلئے ایمازون نے 1.45 ملین ڈالر لگا دیے!

تحریر: فاروق سلہریا

چھ سال پہلے جب بھارتی نژاد امریکی مارکسٹ، کشاما سوانت، سیاٹل سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں تو دنیا بھر بالخصوص بھارت میں اس خبر کو دلچسپی سے پڑھا گیا۔

بھارت میں میڈیا کو صرف ان کی بھارتی شناخت سے دلچسپی تھی مگرامریکہ اور دنیا بھر کے بائیں بازوکے لئے یہ خبر اس لئے اہم تھی کہ تقریباََ ایک صدی کے بعد سیاٹل میں کوئی سوشلسٹ ایک سوشلسٹ جماعت کے ٹکٹ پر جیتا تھا۔ کشاما سوانت کا تعلق ”سوشلسٹ الٹر نیٹو“(Socialist Alternative) سے ہے۔

5 نومبر کو سیاٹل میں شہری حکومت کے انتخابات کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اپنے حلقے کی پرائمری میں کشاما سوانت نے واضح بر تری حاصل کی۔ غالباً ان کی اس برتری کے پیشِ نظر ایمازون نے سیاٹل کے انتخابات، بالخصوص کشاما سوانت کے مخالف امیدوار ایگن اورئین (Egan Orion) کی مدد کے لئے ایک ملین ڈالر کا مزید چندہ دیا ہے۔ ایمازون اب تک 1.45 ملین ڈالر سیاٹل کے انتخابات میں جھونک چکی ہے۔

ایمازون کے علاوہ مائیکروسافٹ اور بوئنگ جیسی کھرب پتی کارپوریشنز بھی کشاما سوانت کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن میں فنڈنگ کر رہی ہیں۔

کارپوریشنز کشاما سوانت کو کیوں ہرانا چاہتی ہیں؟

کشاما سوانت اس مہم کی قیادت کر رہی تھیں جس کے نتیجے میں یہ قانون بنایا گیا کہ سیاٹل میں کام کرنے والی ایسی کارپوریشنز جن کی آمدن 20 ملین ڈالر سے زیادہ ہے، ان پر ”ہیڈ ٹیکس“ لگایا جائے گا اور یہ ٹیکس بے گھر افراد کو چھت فراہم کرنے کے لئے استعمال ہو گا۔

قانون بن گیا تو ایمازون اور سٹار بکس (Starbucks) جیسی بڑی کارپوریشنز نے اس قانون کے خلاف لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے مہم شروع کراد ی جس کے بعد شہری حکومت نے یہ قانون ختم کر دیا۔ اس قانون کے حق میں کشاما سوانت سمیت صرف ایک اور کونسلر نے ووٹ دیا۔

اس مہم کی قیادت کی وجہ سے ہی کشاما سوانت بگ بزنس کی نظروں میں کھٹک رہی ہیں۔ کشاما سوانت نے معروف ترقی پسند امریکی جریدے ”دی نیشن“ کو ایک انٹرویو میں بتایا:”اس سال انتخابات میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ سیاٹل (کی شہری حکومت) کو محنت کش طبقے نے چلانا ہے کہ چیمبر آف کامرس اور ایمازون نے“۔ ماضی میں وہ ایمازون کے سی ای او جیف بیزوس کو کھل کر ”دشمن“ قرار دے چکی ہیں۔

کشاما سوانت کی ترقی پسند اور سوشلسٹ سیاست کو شکست دینے کے لئے ایک طرف اگر ارب پتی سرمایہ لگا رہے ہیں تو دوسری طرف عام شہری دل کھول کر کشاما سوانت کوانتخابی مہم چلانے کے لئے چندہ دے رہے ہیں۔ انہیں اب تک 380,000 ڈالر کا ڈونیشن مل چکا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: