بھارتی زیر انتظام جموںکشمیرمیں علیحدگی پسند سمجھی جانیوالی تنظیموںکے اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے جعلی ٹویٹر ہینڈل کے ذریعے ٹویٹس تو سوشل میڈیا اورروایتی میڈیا میں کافی عرصہ سے منظر عام پر آرہی ہیں، لیکن اب ان کا جعلی پوتا بھی منظر عام پر آگیا ہے.
اتوار کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس نامی نومولود تنظیم کے زیر اہتمام پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کا پانچ کلومیٹر لمبا پرچم لہرانے کا عالمی ریکارڈ بنانے اور بھارتی فوجی جبر کے خلاف ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا.
مذکورہ مارچ کے انعقاد کےلئے پاکستان کے معروف اخبارات کے رنگین صفحات پر اشتہارات شائع کروائے گئے تھے. اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار میںسید علی گیلانی، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی کی تصاویر کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام جموںکمشیر کا پرچم اور کچھ احتجاجی مظاہروں کی تصاویر شامل کرتے ہوئے ایک مختصر تحریر میںلوگوں سے مارچ میںشرکت کی اپیل کی گئی تھی.
اشتہار میں لکھی گئی تحریر میںیہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملین مارچ کی قیادت سید علی گیلانی کا پوتا کرے گا. اشتہار میںلکھا گیا تھا کہ ”سید علی گیلانی کے پوتے ڈاکٹر مجاہد گیلانی کی زیر قیادت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی پانچ کلومیٹر طویل دنیا کے سب سے بڑے کشمیری پرچم لہرائیں گے اور اس آہنی عزم کو دہرائیں گے کہ اے اہل کشمیر. تم پاکست
انی ہو. پاکستان تمہارا ہے. آئیں! کشمیر ملین مارچ میںشریک ہو کر پوری دنیا کے اہل کشمیر سے یکجہتی کا پیغآم پہنچائیں.”
سید علی گیلانی جو سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر استعمال ہی نہیںکرتے اور گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصہ سے سید علی گیلانی سرینگر میں نظر بند ہیںجہاںانٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد ہے. اس سب کے باوجود سید علی گیلانی کے نام سے ٹویٹر ہینڈل کو استعمال کر کے سید علی گیلانی کے نام سے منسوب بیانات ٹویٹ کئے گئے اور وہی ٹویٹس پھر پاکستان کے قومی میڈیا پر بھی ہیڈلائنز کے طور پر شائع کئے جاتے رہے ہیں.
اب سید علی گیلانی کا جعلی پوتا بھی منظر پر آگیا ہے اور ملک کے معروف اخبارات نے پیسوں کے لالج میں یا کسی دباؤ کے تحت بغیر تصدیق کے اشتہارات شائع کئے ہیںجن میںڈاکٹر مجاہد گیلانی نام کے نوجوان کو سید علی گیلانی کا پوتا ظاہر کر کے سید علی گیلانی کا نام اور شہرت استعمال کر کے لوگوںکو مذکورہ ”ملین مارچ” میںجمع کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی.
واضح رہے کہ مذکورہ مارچ اسلام آباد میں منعقد کیاگیا جس میںخواتین اور بچوں سمیت مختلف مدرسوں کے بچوں کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم کشمیریوںاور پاکستانی شہریوں نے سینکڑوںکی تعداد میں شرکت کی اور مارچ کے شرکاء سے وزیرحکومت علی محمد خان کے علاوہ دیگر نے خطاب کیا.
یاد رہے کہ وفاقی وزیر حکومت علی محمد خان کا تعلق بھی ماضی میںجماعت اسلامی سے رہا ہے اور سید علی گیلانی بھی جماعت اسلامی ہی کے ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود وفاقی وزیر نے بھی یہ معلوم کرنا گوارہ نہ کیا کہ آیا ڈاکٹر مجاہد گیلانی ولد مشتاق گیلانی کس طرح رشتہ سے سید علی گیلانی کا پوتا ہے.
ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے کچھ لوگوںکے استفسار پر بیان تبدیل کرتے ہوئے اپنے آپ کو سید علی گیلانی کا دور کا نواسہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم ڈاکٹر مجاہد گیلانی سے اس سلسلہ میںموقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن بوجوہ ان سے رابطہ نہیںہو سکا.












12 تبصرے “علی گیلانی کے جعلی ٹویٹر کے بعد اب جعلی ”پوتا” بھی منظر عام پر آگیا”