سپین: کاتالونیہ خطے میں‌لاکھوں‌افراد کا احتجاج اور پولیس سے جھڑپیں جاری، اسیران کی رہائی کا مطالبہ

سپین کے کاتالونیہ خطے میں پانچویں روز بھی احتجاج جاری ہے جس کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

کاتالونیہ کے مختلف علاقوں میں جمعے کو لاکھوں افراد نے آزادی کے جھنڈے لہرائے اور ’سیاسی قیدیوں کے لیے آزادی‘ کے نعرے لگائے۔

سپین سے کاتالونیا کی آزادی کےلئے لاکھوں افراد کا بارسلونا میں احتجاج

Posted by Daily Mujadala on Friday, October 18, 2019

کاتالونیا میں جاری احتجاج کے باعث کم سے کم 96 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

کاتالونیہ سپین کے شمال مشرق میں ایک خودمختار علاقہ ہے اور وہاں یکم نومبر سنہ 2017 کو ایک ریفرینڈم میں کاتالونیہ کے 90 فیصد ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالے تاہم اس ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف 43 فیصد تھی۔

اس ریفرینڈم کو سپین کی آئینی عدالت غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

سپین کی سپریم کورٹ نے کاتالونیہ کے نو علیحدگی پسند رہنماؤں کو ریفرنڈم میں ان کے کردار پر بغاوت کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور انھیں نو سے 13 سال کے درمیان قید کی سزا سنائی تھی۔

ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا میں بارسلونا اور ریال میڈرڈ کلب کے مابین رواں ماہ ال کلاسیکو میچ کو سول بدامنی کے خدشے کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ میچ 26 اکتوبر کو کھیلا جانا تھا تاہم پیر کو کاتالونیہ کے نو علیحدگی پسند رہنماؤں کو جیل بھیجنے کے بعد سے بارسلونا میں احتجاج ہو رہا ہے۔

بارسلونا اور ریال میڈرڈ دونوں نے ہی اس میچ کو میڈرڈ منتقل کرنے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔

بارسلونا کے مینیجر ارنسٹو والورڈے نے کہا تھا کہ بارسلونا میچ کو میڈرڈ منتقل کرنے کے خلاف ہے کیونکہ وہ 23 اکتوبر کو چیمپیئنز لیگ میں سلاویہ پراگ کا دورہ کرنے والے ہیں جو کہ ال کلاسیکو میچ سے تین روز پہلے کھیلا جائے گا۔

لیگ لا لیگا نے اس میچ کو ملتوی کرنے کی درخواست اس وجہ سے کی کہ ’ہمارے اختیار سے باہر کے غیر معمولی حالات‘ کی وجہ سے کی کیونکہ میچ کے دن بارسلونا میں مزید احتجاج کی توقع ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: