#فریڈم_مارچ: دھرنا چھٹے روز بھی جاری رہا، چکوٹھی کی آبادی محصور، 12اکتوبر کو حتمی اعلان ہوگا

کشمیری قوم پرست تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین ملک گروپ) کی کال پر فریڈم مارچ کوآٹھ روز مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ شرکاء فریڈم مارچ چھ روز سے چناری اور چکوٹھی کے درمیان شاہراہ سرینگرپر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، حکومت نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کرتے ہوئے مرکزی مظفرآباد سرینگر شاہراہ کو کنٹینرز لگا کر بند کررکھا ہے۔دھرنے اور کنٹینرز کی وجہ سے چکوٹھی، وادی کھلانہ اور گردونواح کی آبادی کا راستہ بھی گزشتہ آٹھ روز سے بند ہے۔

چکوٹھی میں شہریوں نے مرکزی شاہراہ کی بندش پر انتظامیہ کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی اور حکومت اور انتظامیہ سے شاہراہ سے فوری طور پر کنٹینرز ہٹانے کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر ہفتہ کے روز تک کنٹینرز نہ ہٹائے گئے تو مقامی آبادی خود کنٹینرز ہٹا کر سڑک کو کھولنے پرمجبور ہو گی۔ اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ شاہراہ کی بندش کے باعث پچاس ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی کا مظفرآباد سے رابطہ منقطع ہے۔ لوگ مشکلات کا شار ہیں۔ غذائی قلت کے علاوہ مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر توقیر گیلانی کہا کہنا ہے کہ چکوٹھی اور گردونواح کے لوگوں نے ہماری بہت حمایت کی ہم نے چکوٹھی،وادی کھلانہ اور گردونواح کے عوام کا راستہ بند نہیں کیا، ہمارے یہاں پہنچنے سے قبل ہی ضلع جہلم ویلی کی انتظامیہ نے چکوٹھی اور گردونواح کا راستہ بند کر رکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا بھی مطالبہ ہے کہ حکومت چناری اور چکوٹھی کے درمیان کنٹینر ہٹائے، ہمیں بھی آگے جانے دے اور پچاس ہزار سے زائد مقامی عوام کو بھی آنے جانے کی اجازت دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز سپیکر شاہ غلام قادر،وزیر اطلاعات مشتاق منہاس اور وزیر خوارک شوکت علی شاہ کے ساتھ ہونے والے ہمارے مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رہا، ہم اپنے موقف پر قائم ہیں اور حکومتی وفد اپنے موقف پر قائم ہے۔ تاہم ہمارے مطالبات کے حوالہ سے حکومتی وفد نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ دھرنا کے حوالہ سے آج ہفتے کے روز سے نئی حکمت عملی طے کریں گے، نئی حکمت عملی طے کرنے کے بعد صحافیوں اور عوام کو آگاہ کیا جائیگا۔ ہمارا جائز مطالبہ ہے یا اقوام متحدہ کے نمائندے آکر ہمارے ساتھ مذاکرات کریں یا پھر حکومت ہمیں آگے جانے دے۔

اس سے قبل سپیکر قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر شاہ غلام قادر نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ لبریشن فرنٹ کا احتجاج دنیا نے دیکھ لیا اب انھیں پر امن طور پر دھر نا ختم کر دینا چاہیے۔ لبریشن فرنٹ کے مطالبات پورے کر نا حکومت آزاد کشمیر کے بس میں نہیں ہیں۔ جو ہمارے بس میں نہیں وہ ہم کیسے کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع اور مظفرآباد و ہٹیاں بالا کے نواحی علاقوں سے عوام، سیاسی کارکنان اور خواتین کی کثیر تعداد کاقافلوں کی شکل میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے دھرنا میں شرکت کیلئے آمد کا سلسلہ جمعہ کے روز بھی جاری رہا، خواتین اور بچوں و بزرگوں سمیت شرکاء دھرنا کثیر تعداد میں قیادت کی اگلی حکمت عملی کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ آنے والے وفود کا نعروں اور ترانوں سے استقبال کیا جا رہا ہے۔