گزشتہ ہفتے راولا کوٹ میں صحافیوں کے ساتھ لمبی نشستیں

احمد آفتاب
۹ اکتوبر ۲۰۱۹ء

آپ کو علم ہے کہ میں گزشتہ تین سال سے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) کے ساتھ بطور ٹرینر مختلف نوعیت کی ورکشاپس کرتا آرہا ہوں، جن میں سے ایک مقامی صحافیوں کی ورکشاپس بھی ہیں۔

اب تک میں آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنوں اور تمام دس اضلاع میں موجود سینئیر اور جونئیر صحافیوں کے ساتھ چھ ٹریننگ ورکشاپس کرچکا ہوں جہاں میری ملاقات آزاد کشمیر کے کم و بیش ڈھائی سو سے زیادہ مالکان اخبارات و ذرائع ابلاغ، صحافیوں، مدیران، کالم نگاروں، رپورٹرز، ٹی وی اور ریڈیو براڈ کاسٹرز، ویب سائٹ ایڈمنسٹریٹرز اور بلاگرز یا ولاگرز سے ہوچکی ہے۔

ورکشاپس کا یہ تجربہ، میرے لیے یہ زندگی کا منفرد ثابت ہوا ہے جب میں نے کسی ایک خطے کے صحافیوں اور قلم کاروں کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگیوں کو قریب سے جانا ہے اور گزرتے دنوں کے ساتھ، ان کی امنگوں، خوابوں، دشواریوں اور جذبوں کو قریب سے محسوس کیا ہے۔

گزشتہ تین برس کے اس سفر کا ماحصل یہی تفہیم ہے جس کی بنیاد پراب میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آزاد کشمیر میں صحافت کا مستقبل تابناک ہے۔

ہوسکتا ہے میری خوش گمانی کچھ دوستوں کو بے محل لگے۔

خاص طور پر صحافت کی ابتلا کے موجودہ دور میں جب اخبارات بند ہورہے ہیں اور آئے دن سیکڑوں کی تعداد میں کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کیا جارہا ہے۔ روزگار کٹھن ہے اور معاشی مشکلات کے باعث عامل صحافیوں کے لیے زندگی آزمائش سے کم نہیں ہے۔ ان تمام عوامل کے باوجود کچھ مثبت نشانیاں ہیں جن کی بنا پر میری رائے میں خطہ جنت نظیر کا شجرِ صحافت جاوداں بہار کے امکانات سے لدا ہوا ہے۔

یہ شجرِ صحافت جس زمین سے اپنی نمو کشید کررہا ہے وہ تہذیب، اخلاص، وفا اور شجاعت جیسی اقدار میں گنُدھی ہوئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کا صحافی اپنی فکری آزادی، قلم کی حُرمت، وقار اور سماجی و سیاسی ذمے داری سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ میں تربیتی نشستوں کے دوران جن صحافیوں سے بھی ملا ہوں، چاہے وہ دشتِ صحافت کے قدیم مسافر ہوں یا نوآموز، ہر ایک کے سینے میں شمعِ حریت بھرپور فروزاں ہے۔ مثال کے طور پر یہاں میری ملاقات حارث قدیر سے ہوئی۔ آتش قلم مگر انتہائی خوش اخلاق نوجوان حارث کے بالوں میں مجھے پچھلی ملاقات سے زیادہ چاندی چمکتی نظر آئی جو چومُکھی لڑنے والوں کی دستار کی شان ہے۔ حارث کے اخبار ‘مجادلہ’ کا دفتر ایک بار پھر ڈیکلریشن منسوخ ہونے کے باعث، مقفل ہے۔ جس ٹیم نے مجادلہ کا اجراء کیا تھا، وہ بے روزگاری کے مصائب کی شکار ہے۔ حارث کو جابجا یہ پیش کشیں مل رہی ہیں کہ مزاحمت ترک کرو اور ہمارے ساتھ آملو۔ اپنا جوشِ قلم ہمارے اقتدار و اختیار کو مستحکم کرنے میں دکھائو اور منہ مانگے دام وصول کرو۔ مگر اقدار پرست یہ نوجوان مصلحت کوشی پر آمادہ نہیں۔ یہی تو وہ دیوانے ہیں جو تاریک راہوں میں چراغ جلاتے ہیں۔ انہی کے دم سے تو بزمِ عاشقاں میں راگِ سرمستی گونج رہا ہے۔

راولا کوٹ میں ٹریننگ کے دوران، سائرہ یوسف چغتائی سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ چھوٹی سی عمر میں ہی وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی صحافت کا منفرد اعزاز حاصل کرچکی ہیں، جس پر مقامی صحافت کو ناز ہونا چاہیے۔ سائرہ یوسف، آزاد کشمیر اور شاید پاکستان کی بھی، پہلی خاتون صحافی ہیں جنہیں پریس کلب کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ آپ کا تعلق عباس پوُر سے ہے۔ کم از کم میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے کسی پریس کلب سے واقف نہیں ہوں، جس کی صدارت خاتون کے پاس ہو۔ درحقیقت یہی وہ تبدیلی ہے جو میری نظر میں آمدِ بہار کا پتا دے رہی ہے۔ خواتین کی شمولیت اور پھر مختصر مدت میں قایدت کا سفر، نہایت خوش گوار پیش رفت ہے، جو صحافت کے موجودہ تاریک دنوں میں امید کے چراغ روشن کررہی ہے۔ آزاد کشمیر میں عباس پُور کا چھوٹا سا شہر، سارے پاکستان اور آزاد کشمیر کے لیے قابلِ تقلید مثال قائم کرگیا ہے۔

دوسری طرف، ہم جانتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا سیاسی و انتظامی ماحول اظہارِ رائے کے لیے آئیڈیل نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ چند برس کے دوران صحافیوں نے اپنی جدوجہد اور اخلاقی قوت کی بدولت، سخت انتظامی ڈھانچے میں اپنے لیے اعتماد اور قبولیت پیدا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دھائی قبل اگر آزاد کشمیر سے شائع ہونے والے مقامی اخبارات کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی تو اب یہ بڑھ کر چالیس سے زیادہ اخبارات پر پہنچ چکی ہے۔ اب آزاد کشمیر کے صحافی، اظہار کی اگلی منزلوں کی جانب گام زن ہیں اور کئی ڈیجیٹل میڈیا گروپس سامنے آچکے ہیں جو ہر طرح کے مطبوعہ و برقی وسائل استعمال کررہے ہیں۔ متعدد نیوز ویب سائٹس کی مقبولیت اخبارات سے زیادہ ہے اور وہ دن بہ دن تعلیم، تربیت، تفریح اور توضیح کے میدانوں میں اپنے قارئین کی سوچ کو جِلا بخش رہے ہیں۔


میں ہر ٹریننگ میں اپنے شرکاء سے دو سوال ضرور پوچھتا ہوں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کبھی کوئی ایسا کام کیا ہے جس پر بہت فخر ہے اور جب بھی اس کام کے بارے میں سوچ ذہن میں آتی ہے تو سینہ فخر سے پُھول جاتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح، اس بار بھی صحافیوں کا ایک بڑا گروپ نکل کر سامنے آیا اور پھر انہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے مقامی سماج میں بکھِرنے والے رنگوں کی وہ تصویر بنائِ کہ ساری محفل بے ساختہ تالیاں بجانے پر مجبور ہوگئی۔ ان لوگوں پر بارہا مقدمات قائم ہوئے ہیں ۔ انہیں پولیس اور دیگر گروہوں کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ جیلوں میں بھی گئے ہیں اور ہسپتالوں میں بھی داخل رہے ہیں۔کنٹرول لائن پر بھارتی توپوں سے اگلتے بارود کا بھی سامنا کرچکے ہیں اور اپنی ہی پولیس کی لاٹھیاں بھی کھا چکے ہیں۔انہوں نے عشق کی راہ میں وفا کی ساری شرطیں پوری کی ہیں مگر کہیں بھی اپنے پائے استقامت میں لغزش کو گوارا نہیں کیا ہے۔مگر یہ طرہ صرف راولا کوٹ کو ہی حاصل نہیں۔ آزاد کشمیر کے ہر ہر گوشے میں، مجھے طاقت ور صحافت کی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملی ہیں کہ میں بلاشک و شبہ کہ سکتا ہوں کہ اس سماج اور شعبے کا مستقبل روشن ہے۔

میرا دوسرا سوال، پہلے سوال کے برعکس ہوتا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا کبھی کوئی ایسا کام بھی کیا ہے جس پر شرمساری ہو۔ ندامت ہو اور گمان ہو کہ اگر اب موقع ملے تو شاید کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔ یہ سوال آسان نہیں ہے۔ بھری محفل میں، جہاں دوست بھی ہوں اور استاد بھی، عزیز بھی ہوں اور رقیب بھی۔ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا بڑی اخلاقی جرات اور کردار کا متقاضی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں بھی اس سوال کا جواب دینے والے کئی لوگ موجود تھے۔ اس میں سب سے حیرت انگیز شخصیت راولا کوٹ پریس کلب کے صدر اعجاز قمر کی تھی جو آگے بڑھے اور انہوں نے ایک واقعہ سنایا جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ مجھ سے اوائل صحافت میں اندازے کی غلطی ہوئی اور آج طویل مدت بعد میں سوچتا ہوں کہ اگر آج میں وہی کام کرتا تو میرا اندازِ صحافت مختلف ہوتا۔ اپنے تمام ساتھیوں کے سامنے، اعجاز قمر کا یہ انکسار، تفکر اور جرات نہایت خوش آئند ہے۔ ورنہ ہمارے یہاں کون سا قائد خود اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے اور سرِ عام اس کا اعتراف کرتا ہے۔ درحقیقت سچائی، شفافیت اور اعتماد کا یہ وصف ہی آنے والی نسلوں کے لیے راہیں ہموار کرتا ہے اور میں دل سے اس جوہر کی قدر کرتا ہوں۔

یہی آزاد کشمیر کی صحافت کی تابندگی کی ضمانت ہے۔
یہی اس سماج کی جاودانی کا ثبوت ہے۔

(نوٹ: مذکورہ تحریر معروف ٹرینر آفتاب احمد نے اپنی فیس بک وال پر دوستوں سے شیئر کی جسے ہو بہو قارئین کےلئے پیش کیا جا رہا ہے.)

مجھے گزشتہ ہفتے راولا کوٹ میں صحافیوں کے ساتھ لمبی نشستوں کا موقع ملا۔آپ کو علم ہے کہ میں گزشتہ تین سال سے کشمیر انسٹی…

Posted by Aftab Iqbal on Wednesday, October 9, 2019

Leave a Reply

%d bloggers like this: