مذاکرات پھر ناکام: #فریڈم_مارچ دھرنا بدستور جاری، کل دس بجے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرینگے، توقیر گیلانی

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین ملک) کے زیر اہتمام بھمبر سے شروع ہونے والے فریڈم مارچ کے شرکاء چار روز سے مظفرآباد سرینگر روڈ پر چناری سے ایک کلومیٹر آگے جسکول کے مقام پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

دھرنا کے قائدین ڈاکٹر توقیر گیلانی اور دیگر کے ساتھ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس اور وزیر تعلیم پرمشتمل وفد نے ایک بار پھر مذاکرات کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ پانچویں کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ دھرنا قائدین نے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نامزد کردہ نمائندہ سے مذاکرات کروائے جائیں، یا پھر رکاوٹیں ہٹائی جائیں تاکہ ہم دونوں افواج کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھیں، ایک سازش کے تحت مقامی پولیس کے ساتھ ہمیں لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے۔

توقیر گیلانی نے کہا ہے کہ کل دس اکتوبر کو دھرنا قائدین پریس کانفرنس کے ذریعے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

دھرنا میں ہزاروں شرکاء بدستور موجود ہیں، جبکہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تمام اضلاع سے خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر دھرنا میں شرکت کرنے اور اظہار یکجہتی کیلئے جا رہی ہے۔

مقامی آبادی سے خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان بھی دھرنا میں شرکاء کے حوصلے بلند کرنے وقتاً فوقتاً آرہے ہیں۔

دھرنا کے شرکاء سے جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں، ٹریڈ یونینز کے رہنماؤں اور قائدین نے بھی یکجہتی کی، جبکہ متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے دھرنا کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب کیا۔

نصف درجن کے قریب خواتین بھی طاہرہ توقیر اور نصرت قریشی کی قیادت میں دھرنا میں چار روز سے شریک ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: