عوام انقلاب کی دہلیز پر ہوتی ہے، دہلیز پارکروانے کیلئے منظم محدود اقلیت کا فقدان ہے: سردار صغیر کا دھرنا سے خطاب

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ ہمیں ایسی آزادی سے کوئی غرض نہیں ہے جو ہندوستان اور پاکستان کو ملی،ایسی بورژوا جمہوری ریاست کا ہم نے اور جموں کشمیر کے عوام نے کیا کرنا جس میں پاکستان ہندوستان تو باہر نکل جائیں لیکن مقامی حکمران سامراج کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے یہاں کے باسیوں کا خون نچوڑیں۔ جب تک ظالم، مکار، قہارسرمایہ دارانہ نظام کیخلاف بغاوت نہیں ہوتی، قومی سوال کو طبقات سوال کے ساتھ جوڑتے ہوئے جدوجہد کو سائنسی خطوط پر استوار کرتے ہوئے آگے نہیں بڑھا جاتا جموں کشمیر کی آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام ہمیشہ انقلاب کی دہلیز پرہوتی ہے، اسے اس دہلیز سے پارلگانے کیلئے ایک محدود اقلیت کی ضرورت ہوتی ہے جو انتہائی منظم اور نظریات پر کاربند ہوتی ہے، اسی کو انقلاب پارٹی یا قیادت کہتے ہیں، بد قسمتی سے جموں کشمیر میں ہم وہ پارٹی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، آج عوام انقلاب کی دہلیز پر ہے لیکن ہم غیر منظم ہیں، آزادی اور انقلاب کا راستہ وہی راستہ ہے جو تمام معروف انقلابیوں نے وضع کیا، وہی شہیدکشمیر مقبول بٹ شہید نے بھی وضع کیا، وہ راستہ سیاسی جدوجہد، سفارتی جدوجہداور عوامی مسلح جدوجہد کا راستہ ہے جس چلتے ہوئے تمام قوموں اور طبقات نے آزادیاں حاصل کی ہیں۔

وہ جموں کشمیرلبریشن فرنٹ(یاسین) کے زیر اہتمام منعقدہ ”فریڈم مارچ“ کے شرکاء (جو جسکول چناری، سرینگر شاہراہ پرکنٹرول لائن کے نزدیک دھرنا پر بیٹھے ہیں) سے اظہار یکجہتی کیلئے قافلے کی شکل میں جانے کے بعد شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے شرکاء دھرنا کو مبارکباد باد دی اور کہا کہ جس منظم انداز سے انہوں نے ابتدائی مراحل میں مارچ کی رابطہ مہم، بھمبر سے مظفرآباد اور چناری تک مارچ کا انعقاد اورکامیاب دھرنا منظم کیا ہے اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، مارچ اور دھرنا میں شریک قائدین، کارکنان اور عام عوامی پرتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے جذبہ حریت، جذبہ حب الوطنی اور انقلابی جوش کو ہم جس قدر خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہے۔

انہو ں نے اپنے خطاب میں مزیدکہا کہ ہمیں تین نکات پر متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکمران طبقات اور افواج کے مظالم، سفاکیت اور بربریت کے خلاف یک آواز ہونا ہوگا۔ جموں کشمیر جس مختلف علاقوں، مذاہب، قومیتوں اور قبیلوں پر مشتمل ہے،کے مستقبل کے فیصلہ تک اس کی وحدت کی بحالی اور تقسیم کے خلاف ہم یک آواز ہوں اور جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اور صرف جموں کشمیر کے پونے دو کروڑعوام کو حاصل ہے۔ ہمیں ان تین نکات پر یکجا ہو کرمشترکہ جدوجہد شروع کرنا ہوگی۔

چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ جسکول چناری میں #فریڈم_مارچ اور دھرنا کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کے بعد خطاب کر رہے ہیں #DHQJiskool

Posted by Daily Mujadala on Wednesday, October 9, 2019

ہم نے آزاد، خودمختار اور استحصال سے پاک سماج کے قیام کیلئے اپنی ٹاپ لیڈر شپ اور کارکنان کو قربان کیا لیکن ہم بھی یہ اختیار عوام کو دینا چاہتے ہیں، اسی طرح کوئی اسلام آباد اور دہلی سے تنخواہ لیکر بھی عوام کے اس حق پر کسی طور بھی کوئی کشمیری عوام کے اس حق پر داداگیری نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہاکہ آزادنہیں بلکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے وزیراعظم بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مقید عوام تک خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء پہنچانے کیلئے لانگ مارچ کریں اور اشیاء اکٹھی کر کے عالمی اداروں کے ذریعے ان عوام تک پہنچائیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فاروق حیدر اگر اس خطے کو آزاد سمجھتے ہیں تو پھر چار اور چوبیس اکتوبر کی حکومت کو اسکے اعلامیہ کی روح کے مطابق بحال کرنے کا اعلان کریں اور ایکٹ چوہتر اور معاہدہ کراچی کو منسوخ کریں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے ثالثی کروانے والے بھی بدبخت لوگ ہیں جو سامراج سے ثالثی کے مطالبات کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی آزادی کی جدوجہد اپنے زور بازو پر لڑنی ہو گی، سامراجی ایماء پر جی ایچ کیو کی مدد سے آزادی کنٹرولڈ تحریک اور جہاد کے ذریعے آزادی کی تحریک نہیں منظم کی جاسکتی بلکہ وہ پراکسی وار ہوگی۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی تقریر کو توسیع پسندانہ عزام کا اظہار قرار دیا اور کہا کہ آرمی چیف نے بھی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیکر ایسے ہی توسیع پسندانہ عزائم کا اظہار کیا ہے، محمد علی جناح نے ایسا کوئی لفظ کبھی ادا نہیں کیا، اور اگر کہا بھی ہے تو وہ نہ تو پیغمبر تھے اور نہ ان پر وحی نازل ہوئی تھی، کنٹرول لائن پر جموں کشمیر کے عوام کو آر پار جانے کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں تحفظ دیتی ہیں لیکن معاہدہ شملہ کے ذریعے یہ حق چھینا گیا، آج جب مودی نے معاہدہ شملہ پر شب خون مارا لیکن پاکستان حکمران معاہدہ کی منسوخی کا اعلان اس لئے نہیں کر سکتے کہ سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کا خطرہ ہے۔
ہمیں آزادی کی تحریک کی لگام اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی، اگر ایسا نہیں کرتے تو ایک لاکھ کیا ایک کروڑ بھی قربان کر گئے تب بھی ہمیں آزادی نہیں ملنی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: