ہپی ٹیچرز ڈے ابا: ”یو آر بیسٹ ٹیچر اراؤنڈ”

تحریر:‌نائلہ رفیق

پرانے زمانے میں یعنی ہمارے بچپن میں باپ ایک ایبسٹریکٹ کردار تھا اور بچوں کو ڈرانے کے کام آتا تھا. ایبسٹریکٹ یوں کہ صبح بچوں کے جاگنے سے پہلے اور رات بچوں کے سونے کے بعد بعد ہی باپ گھر پہ پایا جاتا تھا. تب جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی اسلیے ان کا جمعہ کا دن بھی مسجد اور رشتے داروں کے درمیان ختم ہو جاتا تھا.

دوسرا کلچر بیرونِ ملک ملازمتوں کا تھا. ہر دو صورت میں “آنے دو باپ کو” وہ ایٹم بم تھا جو دیکھا تو کم بچوں نے تھا مگر اس کی ہیبت نے بڑے بڑے غدر روکے رکھے اور جنہوں نے یہ ایٹم بم چلتے دیکھا ان میں سے زیادہ تر ناگاساکی ہو گئے.

ایسے زمانے میں ہم بہن بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شخصیت بطور والد عطا کی جو اپنے زمانے سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتے تھے. صبح ہمیں ناشتہ کرواتے سکول کے لیے تیار کرتے اور میری انگلی پکڑ کر چھوٹے بھائی کو گود میں اٹھا کر سکول لے جاتے. چار دیواری کی جگہ سکول کے باہر خاردار تار تھی. اس میں سے اندر بھیجنے سے پہلے جیبی کنگھی نکال کر ایک بار پھر ہمارے بال درست کرتے باری باری دونوں کا منہ چومتے اور اندر بھیج دیتے.

کبھی ہمیں بٹھا کر ‘چڑیا اڑی’ کی طرز پہ ‘جفت’ اور ‘طاق’ کھیلتے ‘ کبھی الفابٹس اور حروفِ تہجی کے بیچ انگلی اڑانے کا کھیل ہوتا. انسٹھ انہتر اناسی نواسی ننانوے لکھوانا انکا پسندیدہ کھیل تھا. جب ٹریکٹر کھیت میں ہل چلانے آتا تو ننھی سی شاخ پکڑا کر اعداد بولتے جاتے جو تازہ کھدی مٹی پہ سارے اعداد درست لکھ لیتا اسے ٹریکٹر پہ ایک چکر کھیت کا لگواتے.

کہانی کہنا اور کہانی پڑھنا انہوں نے ہی سکھایا.

فجر کی نماز کے بعد وہیں ‘چوکی’ بنا کے ہم دونوں کو آواز دیتے. گود میں بٹھا کر نظمیں کہانیاں پہاڑے اور نجانے کیا کیا سناتے. لکڑیوں کے چولہے کے ارد گرد طاق تھا جس میں خود اخبار بچھاتے جو ہم دونوں سے املاء کرواتے. میں نے پہلی پوری اور درست خبر اسی طاق میں بچھے اخبار سے پڑھی “اگر ملک میں مارشل لاء لگا تو ذمہ دار بینظیر ہونگی. نواز شریف”…. جب پڑھ لی تو اتنی بار پڑھی کہ آج تک یاد ہے.

سوا’ پونا اور ڈھائی کے پہاڑے یاد کروائے اور سرکاری سکول میں پڑھا کر انگریزی نظموں اور کہانیوں کی لت لگائے رکھی.

تقریر خود لکھ کر دیتے تھے. اپنے زمانے کے ‘جیالوں’ میں ممتاز مقام رکھتے تھے. لہٰذہ تقریر بھٹو کے ولولے سے لبریز ہوتی تھی. میری تقریروں میں ایسے شعر ڈالتے تھے کہ سننے والے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے. حالانکہ مجھے کبھی بات پوری سمجھ آتی کبھی آدھی. چَھٹی کلاس تک ایسے ہی رہا.

سرکاری سکول میں شاید وہ واحد والد تھے جو اپنے بچوں کی کارکردگی پوچھنے آتے. یہاں تک کہ جب میں نے ایف ایس سی کے بعد کچھ عرصہ دبستان (حال ریڈ فاؤنڈیشن) کھڑک میں پڑھایا تو بڑی بہن بھی وہیں تھیں. ابو دبئی سے آئے تو پرنسپل ( ریٹائرڈ آرمی آفیسر ‘ شیر افضل خان صاحب) سے ملنے آئے. پرنسپل صاحب نے کئی بار تذکرہ کیا کہ یہاں تو پڑھنے والوں کے والدین کبھی ملنے نہیں آتے وہ پڑھانے والوں کا پوچھنے آئے.

جب دبئی چلے گئے تو میں انہیں خط لکھا کرتی تھی جوابی خط میں املاء گرامر اور منظر نگاری سمیت ساری کجیاں مینشن کر کے بھیجتے. جزئیات نگاری کی مشق انہی کو خط لکھنے کی وجہ سے ہوئی. کہتے تھے پڑھنے والے کو بھی وہیں بیٹھا ہونا چاہیے جہاں لکھنے والا بیٹھا ہے. اسلیے موسم ، ماحول سب تحریر میں ہوتا تھا.
بڑے ہو کرمونٹیسوری اور کنڈر گارٹن سے شناسائی ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ تو وہی طریقہ ہے جس سے ابا پڑھاتے رہے اور سکول جانے سے بھی پہلے ریاضی اور زبان کی مشق کرواتے رہے.
اگر ایجوکیشنسٹ ہوتے تو کسقدر شاندار ہوتے مگر یہ پیٹ ……کہ زندگی صحراؤں میں مشینوں کی حدت میں پگھلا کے آئے.
آج استادوں کا دن ہے.
ہپی ٹیچرز ڈے ابا، یو آر بیسٹ ٹیچر اراؤنڈ

Leave a Reply

%d bloggers like this: