لبریشن فرنٹ کا ”فریڈم مارچ“ چھ اکتوبر صبح گڑھی دوپٹہ سے روانہ ہوگا، روکنے کی صورت دھرنا دینے کا اعلان

کشمیری قوم پرست تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک گروپ کے زیر اہتمام بھمبر تا سرینگر ”فریڈم مارچ“ کے شرکاء پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی نواحی تحصیل گڑھی دوپٹہ میں پہنچ گئے ہیں۔ قافلے گڑھی دوپٹہ سے چھ اکتوبر کی صبح چکوٹھی کی جانب پیدل روانہ ہونگے، لبریشن فرنٹ نے کنٹرول لائن کو پاؤں تلے روندتے ہوئے سرینگر تک مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ شرکاء مارچ نے ہفتہ کے روز مظفرآباد سے گڑھی دوپٹہ تک تیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا ہے، جبکہ شرکاء کی ایک بڑی تعداد گاڑیوں پر سوار ہو کر بھی گڑھی دوپٹہ پہنچی ہے، شرکاء مارچ گڑھی دوپٹہ ڈگری کالج کے گراؤنڈ میں رات بسر کرنے کیلئے بسیرا کر چکے ہیں۔

لبریشن فرنٹ کا #فریڈم_مارچ چکوٹھی کےلئے پیدل رواں دواں

Posted by Daily Mujadala on Saturday, October 5, 2019

دوسری جانب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ نے مارچ کے شرکاء کو روکنے کیلئے مظفرآباد سے قریباً اڑتالیس کلومیٹر دور چناری کے قریب جسکول نامی مقام پر کنٹینرز، مٹی اور پتھر وغیرہ رکھ کر مرکزی شاہراہ کو بلاک کر رکھا ہے، جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے، اس کے علاوہ مرکزی شاہراہ اور نزدیکی علاقہ کو خاردار تاریں لگا کر بھی روکا گیا ہے۔

فریڈم مارچ کے شرکاء گڑھی دوپٹہ کی جامب گامزن، چناری کے قریب پولیس کی نفری تعینات، کنٹینرز لگا کر مرکزی شاہرہ بند کر دی گئی

Posted by Daily Mujadala on Saturday, October 5, 2019

ڈاکٹر توقیر گیلانی کی میڈیا سے گفتگو
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبریشن فرنٹ کے کارکنان پر امن ہیں، انہیں پر امن رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ہم اپنے جائز مقاصد میں کامیاب ہونگے، ہمارا مقصد بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، کشمیریوں کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر کو روندنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اور انتظامیہ نے ہمیں روکنے کی کوشش کی تو ہم وہیں دھرنا دینگے اوروہ دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا لیکن ہمیں امید ہے کہ انتظامیہ اورپولیس ہمارے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ہم انہیں ایک بار پھر یہ کہنا چاہیں گے کہ پر امن مظاہرین کو بھارتی زیر انتظا م جموں کشمیر میں مقید اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے جانے سے روکنے کی بجائے انہیں جانے دیا جائے۔ انہوں نے گڑھی دوپٹہ، ہٹیاں اور دیگر نواحی علاقوں کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مارچ کا حصہ بنیں۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام فریڈم مارچ کے مناظر

Posted by Daily Mujadala on Saturday, October 5, 2019

عمران خان فریڈم مارچ کو بھارتی بیانیے کے حق میں قرار دیا
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے فریڈم مارچ سے متعلق دو ٹویٹ اردو میں جبکہ ایک انگریزی زبان میں کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر میں دو ماہ سے جاری غیر انسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے ”آزادکشمیر“ کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتے ہیں لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں انکی حمایت کی غرض سے جو بھی ”آزادکشمیر“ سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔ وہ بیانیہ جس کے ذریعے پاکستان پر ”اسلامی دہشت گردی“ کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کے خلاف اہل کشمیر کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ وادی میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور جنگ بندی لکیر کے اس پار حملہ کرنے کا جواز ملے گا۔

وزیراعظم پاکستان کے بیانات کے بعد پاکستانی میڈیا سے فریڈم مارچ کی کوریج کو محدود کر دیا گیا، جبکہ دوسری جانب پاکستانی صحافتی حلقوں، ترقی پسند رہنماؤں کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے مختلف ٹویٹر صارفین نے وزیراعظم پاکستان کے ٹویٹس پر انہیں سخت جواب دیئے ہیں اور وزیراعظم کے بیان کو اقوام متحدہ میں انکی تقریر سے متضاد قرار دیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ کی حکمت عملی
کمشنر مظفرآباد ڈویژن چوہدری امتیاز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر کسی بھی فرد کو ایل او سی کی جانب جانے کی اجازت دینا ممکن نہیں، اس لئے مارچ کے شرکاء کی جان و مال کی حفاظت کویقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے ایک سینئر پولیس افسر ارشد نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سکیورٹی تحفظات کے سبب کسی کو بھی کنٹرو ل لائن عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

مارچ کے شرکاء میں مسلح افراد کی شمولیت سے متعلق ایجنسیز کی رپورٹس
ضلع جہلم ویلی کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کمشنر مظفرآباد ڈویژن کو دو اکتوبر کے روز ایک خط تحریر کیا گیا تھا جس میں فریڈم مارچ سے متعلق سکیورٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایجنسیز کی رپورٹس کے مطابق مارچ کے شرکاء میں مسلح جہادی تنظیموں کے افراد بھی شامل ہونگے، جن کی وجہ سے شدید تصادم کا خطرہ ہے، لہٰذا شرکاء مارچ کو ضلع جہلم ویلی میں داخلے سے پہلے ہی روکنا مناسب ہے، خط میں ہوا کے مخالف سمت چلنے کی وجہ سے آنسو گیس کے کارآمد نہ ہونے سمیت دیگر خدشات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

بھمبر سے شروع ہونے والا مارچ دو دن بعد گڑھی دوپٹہ پہنچا
واضح رہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام فریڈم مارچ کا آغاز چار اکتوبر کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع بھمبر سے ہوا تھا، شرکاء مارچ گاڑیوں کے قافلے کی صورت بھمبر سے میرپور، کوٹلی، تتہ پانی، ہجیرہ، راولاکوٹ، باغ سے ہوتے ہوئے چار اکتوبر ہی کی شب مظفرآباد پہنچے تھے۔ شرکاء مارچ کا جگہ جگہ والہانہ استقبال کیا گیا، راستوں سے قافلے مارچ میں شامل ہوتے رہے، مارچ سیکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور بسوں و کوسٹروں پرمشتمل تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکاء جلوس کا استقبال کیا اور تمام چھوٹے بڑے شہروں سے شرکاء جلوس کو بڑی ریلیوں کی شکل میں خوش آمدید کہا گیا اور پیدل مارچ کرتے ہوئے شہر وں اور بازاروں سے شرکاء مارچ کو الوداع کیا گیا۔

پانچ اکتوبر کی صبح دس بجے مارچ کے شرکاء نے مظفرآباد سے چکوٹھی کی جانب پیدل مارچ کا آغاز کیا اور تیس کلومیٹر تک کا راستہ طے کرتے ہوئے دن سارا چلنے کے بعد مارچ کے شرکاء گڑھی دوپٹہ تک پہنچے جہاں رات کے پڑاؤ کا فیصلہ کیا گیا۔

شرکاء مارچ میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہے، مارچ کے شرکاء کی ایک بڑی اکثریت گاڑیوں میں سوار ہو کر پیدل شرکاء کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے گڑھی دوپٹہ تک پہنچی، چھ اکتوبر کی صبح پیدل مارچ چکوٹھی کی جانب روانہ ہوگا۔
گڑھی دوپٹہ سے چکوٹھی کا فاصلہ تقریباً چھبیس کلومیٹر ہے، جبکہ جس مقام پرشرکاء مارچ کو روکنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس مقام تک پہنچنے کیلئے شرکاء مارچ کو سترہ سے اٹھارہ کلومیٹر مزید سفر طے کرنا پڑے گا۔

قومی و بین الاقوامی میڈیا پر فریڈم مارچ کی گونج
پاکستان کے قومی و بین الاقوامی میڈیا پر لبریشن فرنٹ کے فریڈم مارچ کو بھرپور کوریج دی گئی ہے جبکہ بھارتی میڈیا نے اس مارچ کو انڈیا کے خلاف سازش قرار دیا ہے، تاہم وزیراعظم کے بیان کے بعد پاکستان کے قومی میڈیا سے مارچ کی کوریج کو محدود کر دیاگیا لیکن بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے مارچ کی بھرپور کوریج کی ہے۔ تاہم بھارتی میڈیا کاالزام ہے کہ مارچ کی آڑ میں پاکستانی فوج اور مسلح تنظیمیں بھارت کے ہاتھوں خون خرابہ کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ہی دوسرے گروپ(صغیرگروپ) کے زیر اہتمام سات ستمبر کو راولاکوٹ سے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف لانگ مارچ کیا گیا تھا جس میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں، سیاسی کارکنوں اور قوم پرست و ترقی پسند تنظیموں کے رہنماؤں و کارکنوں نے شرکت کی تھی، شرکاء مارچ ہجیرہ شہر سے پیدل تیتری نوٹ کی جانب روانہ ہوئے تھے، جن کو دوارندی کے مقام پر پولیس نے روک لیا تھا، جہاں کارکنوں اور پولیس کے مابین تصادم بھی ہوا تھا۔ جبکہ کوٹلی سے آنے والے ہزاروں کی تعداد پر مشتمل قافلے کو کوٹلی شہر کے نزدیک ہی روک دیا گیا تھا، لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام آزادی مارچ کے شرکاء نے تین روز تک تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر دھرنا بھی دیا تھا، جبکہ اڑتیس گرفتار رہنماؤں کی رہائی کیلئے بعد ازاں احتجاج کئے گئے تھے۔ پاکستان کے قومی میڈیا نے مذکورہ مارچ کا مکمل بلیک آؤٹ کیا تھا جبکہ بھارتی میڈیا نے مذکورہ مارچ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی بھرپورکوشش کی تھی، تاہم بین الاقوامی میڈیا نے مارچ کے شرکاء کے موقف کوبڑے پیمانے پر جگہ دی تھی۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر کو روندنے کیلئے متعدد بار کوششیں کی جا چکی ہیں، ابتدائی اعلان پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے بانی قائدین میں شامل چوہدری غلام عباس نے یہ کوشش 1957ء میں کی تھی، بعد ازاں بائیں بازوکی طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں نے 1990ء میں عملاً کنٹرول لائن کو پاؤں تلے روندتے ہوئے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے حصے پر تنظیمی پرچم لہرائے تھے، اس عمل میں تین نوجوانوں کی جانیں افواج کی فائرنگ سے ضائع ہوئیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے، بعد ازاں لبریشن فرنٹ نے 1992ء میں بھی چکوٹھی ہی کے مقام سے کنٹرول لائن کو روندنے کیلئے مارچ کیا جسے راستے میں روکا گیا، انتظامیہ، پولیس اور فوج کے اہلکاران کے ساتھ تصادم میں سات کارکنان کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، اس کے علاوہ بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے اعلانات اور مارچ کی کوششیں ہو چکی ہیں لیکن کنٹرول لائن کو روندنے میں کشمیریوں کو کامیابی نہیں مل سکی۔

لبریشن فرنٹ کا ”فریڈم مارچ“ چھ اکتوبر صبح گڑھی دوپٹہ سے روانہ ہوگا، روکنے کی صورت دھرنا دینے کا اعلان” ایک تبصرہ

Leave a Reply

%d bloggers like this: