دریک راولاکوٹ: چھ سال پرانے مقدمہ قتل میں مجرم کی عمرقید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ

راولاکوٹ کے نواحی گاؤں دریک کے چھ سال پرانے مقدمہ قتل میں عدالت العالیہ نے ضلعی فوج داری عدالت کا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے فیصلہ کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔ بھیجتے کے ہاتھوں قتل ہونے والے تایا کہ مقدمے کا فیصلہ عدالت العالیہ (شریعت کورٹ) نے ساڑھے تین سال کی سماعت کے بعد سنایا۔

شریعت کورٹ اپیلنٹ بینچ نے مقدمہ معین نسیم بنام سرکار اور نعمان اجمل بنام معین نسیم میں ضلعی فوجداری عدالت پونچھ راولاکوٹ کا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے مجرم معین نسیم کو عمر قید کی سزا اور ضلعی فوجداری عدالت کی طرف سے دی گئی سزاؤں کو بحال رکھتے ہوئے نعمان اجمل کی اپیل جس میں اس نے عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی کو خارج کر دیا ہے۔

عدالت العالیہ کے شریعت اپیلانٹ بینچ جو جسٹس صداقت حسین راجہ، اور جسٹس رضاعلی خان پر مشتمل ہے نے متفقہ فیصلہ سنایا ہے۔
اس مقدمہ میں استغاثہ کی جانب سے سردا رجاوید ناز ایڈووکیٹ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور مستغیث مقدمہ کی جانب سے سردار افتخار احمد ایڈووکیٹ نے بحث کی جبکہ مجرم کی جانب سے راجہ آصف کیانی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

ضلعی فوجداری عدالت پونچھ کے فیصلہ اٹھائیس جنوری دو ہزار سولہ کے خلاف اپیل پچیس فروری دو ہزار سولہ کو دائر کی گئی تھی۔ اس طرح عدالت العالیہ کے شریعت بینچ نے پونے چار سال کے اندر مقدمہ کا فیصلہ سنا د یا ہے۔مجرم پہلے سے بند حوالات ہے۔

مجرم پر الزام تھا کہ اس نے آٹھ دسمبر دو ہزار تیرہ کو اپنے حقیقی تایہ محمد اجمل خان ساکن دریک کو گولیاں مارکر جب وہ اپنے گھر میں اکیلئے تھے قتل کر دیاتھا۔

مجرم بعد ازاں فرار ہو کر راولپنڈی چلا گیاتھا چونکہ مجرم نے اپنے تایا کے جنازے اور تدفین کے عمل میں شرکت نہیں کی تھی دوران تفتیش پولیس کو شک گزار جس پر مجرم معین نسیم کو راولپنڈی سے گرفتار کر کے لایاگیا۔

دوران تفتیش مجرم نے اپنے بیان میں جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔جبکہ عدالت میں آکر انکار ہو گیا تھا۔ ماتحت عدالت نے یہ مقدمہ تقریباًدو سال تک زیر سماعت رہا، اور وہاں سے فیصلہ آنے کے بعد اپیل کا فیصلہ پونے چار سال کے بعد کر دیاگیا ہے