جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا 14نومبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے اعلان کیا ہے کہ 14نومبر بروز جمعرات کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیاجائے گا اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے انتہائی پر امن دھرنا دیاجائے گا، یہ دھرنا ایک گھنٹے بھی جاری رہ سکتا ہے اور ایک سال تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔یہ دھرنا انتہائی پر امن ہو گا اور اگر دھرنے کے شرکاء کو کسی جگہ پرروکنے کی کوشش کی گئی تو جس جگہ دھرنا کے شرکاء کو روکا جائے گا اسی جگہ دھرنا دیاجائے گا۔اس دوران پارلیمنٹ کے اراکین تک کشمیری عوام کی آواز پہنچانے کی کوشش کی جائے گی اور انہیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ حکومت پاکستان کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ایک آزاد، جمہوری، انقلابی حکومت کے قیام پر زور دیں جو یہاں کے عوام کے مسائل اور مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کی بات کرے، یہی و ہ واحد حل ہے جس کے مطابق جموں کشمیر کے لوگ کھوئی ہوئی آزاد ی حاصل کر سکتے ہیں۔

جموں کشمیر کے عوام کی مرضی و منشاء کے بغیر اگر تقسیم کشمیر کا کوئی فارمولا زیر غور لایا گیا تو جموں کشمیر کے عوام اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔جموں کشمیر کے لوگ امریکہ کو بطور ثالث ہر گزقبول نہیں کریں گے کیونکہ ثالت تو دو فریقوں کے درمیان ہو سکتا ہے، ثالثی کا مطلب ہو گا کہ جموں کشمیر کو تقسیم کرنا، اور اس کی بند ر بانٹ کرنا،جموں کشمیر کے عوام کشمیر کی بند ر بانٹ کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، امریکہ ایک سامراجی ملک ہے اور ایسے ملک نے کبھی بھی ثالث کاکردار ادا نہیں کیا،یہ صرف دو ملکوں یا زمین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پونے دو ارب انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردا رمحمد صغیر خان نے غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ آزادکشمیر و گلگت بلتستان زون کے صدر انصار احمد، لبریشن فرنٹ کے سیکرٹری اطلاعات سردا رعثمان چغتائی، جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے جنرل سیکرٹری دانش گلفراز، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ گلف زون کے آرگنائزر ابرار نذیر اور دیگر موجود تھے۔

سردار محمد صغیر خان نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اقوام متحدہ میں ایک پرجوش تقریر کی تھی جس کے بعد پاکستان کا ایک حصہ پاکستان سے الگ ہوگیا تھا اور آج بھی پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے جو تقریر کی ہے اس سے بھی پاکستان کے ایک حصہ کے الگ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔تقریرکے ذریعے جنگی جنون پیداکرنے کی کوشش کی گئی، موجودہ وقت میں حالات کو اس طرف لے جایا جارہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھیڑی جائے اور اس کے نتیجہ میں امریکہ مداخلت کر کے تقسیم کشمیرکے فار مولے کو عملی جامہ پہنائے۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے 23اکتوبر کو مظفر آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر لبریشن فرنٹ نے اپنا ارادہ تبدیل کیا اور مارچ کو اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے کرنے کا فیصلہ کیا۔

سردار محمد صغیر خان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں ماحولیاتی آلودگی کا ذکر کیا لیکن انہوں نے ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والے اسباب کا ذکر نہیں کیا جن میں کارخانے، فیکڑیاں، اسلحہ سازی اور دیگر ایسے کارخانے شامل ہیں جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں، مظفر آباد میں نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کے ذریعے چھ لاکھ سے زاہد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے جبکہ آزاد پتن اور دیگر مقامات پر ڈیم بننے سے ماحولیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

انہوں نے وزیراعظم آزادکشمیر اور دیگرمتعلقہ حلقوں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں محصور کشمیری مسلمانوں کی مدد کرنے کیلئے اپنا کردار اد ا کریں، حلال احمر اور دیگر عالمی فلاحی تنظیموں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام تک ادویات، خوراک اور ضروریات زندگی پہنچانے کیلئے اپنا کردار اد ا کریں، کیونکہ گزشتہ دو ماہ سے جاری کر فیو کے بعد بھی حالات معمول پر آنے کے امکانات کم ہیں اور جنگ و جدل کا امکان ہے اس لیے فوری طور پر مظلوم کشمیر یوں کی مدد کیلئے پہنچا جائے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کے اس اقدام کا ہر شہری ساتھ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں بے گناہ کشمیر یوں پر کرفیو ختم کرنے اور لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کی تو بات کی لیکن 35اے اور 370اے کی بحالی پر بات نہیں کی جوکہ افسوس ناک ہے۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ ان کے چودہ نومبر کے ہونے والے لانگ مارچ کو پر امن رہنے دیاجائے، احتجاج کرنا ہر کشمیری اور ہر انسان کا بنیادی حق ہے، ہم نے ماضی میں بھی ہونے والے احتجاج میں پر امن رہنے کی کوشش کی اور اس بار بھی انتہائی پر امن رہنے کی کوشش کریں گے۔

انہو ں نے کشمیری عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیرکی تقسیم کے خلاف گھروں سے باہر نکلیں اور سب متحد ہو کر کشمیر کے خلاف ہونے والے تقسیم کی سازشوں کا مقابلہ کریں اور انہیں ناکام بنائیں۔

اس موقع پر راولاکوٹ کے معروف سیاسی وسماجی رہنماؤں عاصم افتخار گلیات، شازیب حبیب راولاکوٹ گلیات، ولید سلیم نے دیگر جماعتوں سے مستعفی ہو کر جموں کشمیر میں لبریشن فرنٹ میں شمولیت کا اعلان کیا۔انہوں نے باقی لوگو ں سے بھی کہ وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شامل ہوجائیں تاکہ کشمیری عوام کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑا جائے۔