1972 سے اقوام متحدہ میں‌کشمیر تنازعہ پر کوئی قرارداد بحث یا ووٹنگ کےلئے پیش نہ ہو سکی

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کشمیر کے مسئلے پرطویل وقت تک بات کی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو نے اس موقع پر پاکستان اور بھارت کے مابین اس تنازعہ پر اقوام متحدہ ہونے والی بحث اور پیش کی جانیوالی قراردادوں‌سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے. مذکورہ رپورٹ قارئین کےلئے روزنامہ مجادلہ پر پیش کی جا رہی ہے.

سنہ 1972 سے پاکستان کو کشمیر کے تنازعے کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے کسی بھی فورم پر کسی بھی قرارداد کو ووٹنگ کے لیے پیش کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان اس مسئلے پر صرف تقریروں پر اکتفا کرتا رہا ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈیا کے اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد ہی جمع نہیں کرائی۔

حالانکہ کونسل کے اجلاس کے آغاز سے پہلے ہی اقومِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر میچل بیچیلیٹ نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمتی بیان جاری کیا تھا۔ ان کے اس بیان کو انڈیا نے مسترد کر دیا تھا۔

انسانی حقوق کی کونسل نے اس برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 2016 سے لے کر 2018 تک کے عرصے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی تھی۔ اسی کونسل نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ بھی جاری کی تھی۔

جنوری سنہ 1948 کا وہ اجلاس جس میں کشمیر پر پہلی قرارداد منظور ہوئی تھی۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی رائے ہے کہ ’پاکستانی حکام یا تو قرارداد جمع کرانا بھول گئے یا قرارداد کے حق میں حمایت کی کمی دیکھ کر اسے جمع کرایا ہی نہیں گیا‘۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر جیسے حساس معاملے پر پاکستان سے کوتاہی ہونا تقریباً ناممکن ہے اس لیے وہ اسے حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وکیل اور کشمیری رہنما مرزا افضل بیگ کے صاحبزادے مرزا صائب بیگ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اب تک یہ وضاحت نہیں دی ہے کہ اس نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں قرارداد پیش کیوں نہیں کی۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے جان بوجھ کے یہ قرارداد جمع نہیں کرائی تو اس سے صرف یہ نظر آتا ہے کہ 47 رکنی کونسل میں پاکستان 24 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ’کشمیری اقوامِ متحدہ سے آس لگائے بیٹھے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ ان کی آواز کوئی نہیں سن رہا ہے۔‘

اسی ماہ، یعنی ستمبر کی انیس تاریخ کو کشمیر پر قرارداد جمع نہ کرانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے 1994 میں بھی انسانی حقوق کی کونسل میں پاکستان نے قرارداد جمع کرائی تھی، لیکن اکثریتی حمایت نہ حاصل ہونے کی وجہ سے اُس قرارداد کو کونسل میں رائے شماری سے پہلے ہی واپس لے لیا گیا تھا۔

پاکستان اور انڈیا کے اس تاریخی تنازعے کی وجہ سے ان دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کبھی کم اور کبھی بڑھتی رہی ہے۔ اور یہی کشیدگی ان دونوں ممالک کے اندر کی سیاسی کشمکش کو متاثر کرتی رہی ہے۔ دونوں ملکوں میں کشمیر ان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے بعد اس وقت کے کشمیر کے وزیرِ اعظم شیخ عبداللہ روس کے سفیر آندرے گرومیکو کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اب وہ مرکزیت حاصل نہیں رہی ہے جو 60 کی دہائی تک رہی تھی۔ 60 کی دہائی کے بعد کشمیر کے تنازعے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، یا کسی ذیلی ادارے یا انسانی حقوق کی کونسل میں کوئی مذمتی قرارداد منظور نہیں ہوئی ہے۔

البتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہر برس کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کا نمائندہ چاہے وہ وزیرِ خارجہ ہو یا وزیرِ اعظم، وہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا ذکر خطاب میں ایک اہم جُزو کے طور پر ضرور شامل کرتا ہے۔ اور اسی طرح انڈیا جواباً کشمیر کو یا تو تنازعہ سمجھتا ہی نہیں یا کہتا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دوطرفہ معاملہ ہے۔

اقوام متحدہ میں سنہ 1998 میں بھی کشمیر کا ذکر آیا تھا جب سلامتی کونسل میں پاکستان اور انڈیا کی ایٹمی دھماکوں پر قرارداد منظور ہوئی تھی۔ قرارداد نمبر 1172 میں دونوں ملکوں سے جوہری سرگرمیاں روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔

قانون دان احمر بلال صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ انڈیا کے اقدامات کے بعد، جن کے نتیجے میں اس کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی آئی ہے، تنازعہ کشمیر چین کی حمایت کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خفیہ اجلاس میں شاملِ گفتگو ہوا۔ اس سے پہلے کشمیر کا تنازعہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، وہ بھی ضمناً، سنہ 1971 میں اٹھایا گیا تھا جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ جاری تھی۔

اقامِ متحدہ کے فوجی مبصرین جن کی جموں کشمیر تعیاناتی سنہ پچاس کے اوائل میں ہوئی تھی۔ یہ مبصرین اب بھی موجود ہیں لیکن انڈیا سنہ 1972 کے شملہ معاہدہ کے بعد انھیں جنگ بندی لائین کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ نہیں کرتا ہے۔
تنازعہِ کشمیر اقوام متحدہ میں سنہ 1948 میں انڈیا کے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو لے کر گئے تھے جب مبینہ طور پر قبائلیوں کے حملے کے بعد جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیا سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔

اس کے بعد تقریباً 23 برسوں میں یعنی سنہ 1971 تک اقوام متحدہ نے 17 قراردادیں منظور کیں اور ان سے متعلقہ ضمنی معاملات پر اجلاس طلب کیے۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ نے دیگر طریقوں سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرانے کی کوششیں بھی کیں۔

سنہ 1948 میں تنازعۂِ کشمیر پر چار قراردادیں منظور ہوئی تھیں۔ سنہ 1950 میں ایک قرارداد، سنہ 1952 میں ایک قرارداد، سنہ 1957 میں تین قراردادیں کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل میں منظور ہوئی تھیں۔ ان قراردادوں کے درمیان کئی مشنز تشکیل پائے، لیکن کشمیریوں کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔

اس کے بعد 1965 میں پانچ مختلف قراردادیں اور متلعقہ فیصلے منظور ہوئے۔ اور سنہ اکہتر میں دو قراردادوں میں تنازعۂِ کشمیر کا ذکر تھا۔ یہ قراردادیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں تھیں۔ دونوں مرتبہ اس وقت کے سویت یونین کے ویٹو کی وجہ سے کوئی بھی قرارداد کشمیریوں کی حمایت میں منظور نہ ہو سکی۔

اقوامِ متحدہ کی دستاویزات میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان زیر انتظام جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائین آف کنٹرول کو ایک متنازعہ لائن سمجھا جاتا ہے
سنہ 1965 کی پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد سویت یونین کی سرپرستی میں ہونے والے معاہدہِ تاشقند میں اقوامِ متحدہ کو عملاً مسئلہ کشمیر سے خارج کر دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر 307 جس میں کشمیر کا ضمناً ذکر ہے، وہ دراصل سنہ 1971 کی جنگ کے آغاز میں منظور ہوئی تھی اور اس وقت کشمیر جنگ کی وجہ نہیں تھا۔

سنہ 1972 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان شملہ معاہدہ طے پانے کے بعد انڈیا نے تنازعۂِ کشمیر کو مستقلاً سرد خانے میں ڈال دیا اور جب بھی پاکستان نے اس موضوع پر کسی بھی عالمی فورم پر بات کرنے کی بات کی تو انڈیا نے ہمیشہ جواب دیا کہ یہ معاملہ طے پا چکا ہے یا یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔

انڈیا نے اسی معاہدے کے بعد سے جموں و کشمیر میں تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو رپورٹ کرنا بند کردیا اور جنگ بندی لائن کو ‘لائن آف کنٹرول’ کا نام دے دیا۔ یہ نام اب پاکستان میں مستعمل ہے۔

بظاہر دنیا کی تمام لا تعلقیوں کے باوجود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی دستاویزات میں اب بھی ایک حل طلب تنازعہ ہے۔ اکثر کشمیری آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن انھیں اپنے مسئلے کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو ان کے مطالبات کو بین الاقوامی قانونی جواز فراہم کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: