تحریر: حارث قدیر
گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بعد ازاں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے خطاب کیا۔ بھارتی وزیراعظم کے خطاب سے متعلق پہلے ہی میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا تھا کہ وہ کشمیر سے متعلق کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں کریں گے جبکہ پاکستان وزیراعظم کی تمام تر توجہ اور میڈیا مہم کشمیر پر خطاب سے متعلق تھی، جس کیلئے نہ صرف پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کو خصوصی امیدیں دلائی گئی تھیں بلکہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کی انسانیت سوز صورتحال سے دو چار کشمیری عوام کو بھی ایک بار پھر اقوام متحدہ جیسے سامراجی ادارے میں پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے انکے حق میں اٹھائی جانیوالے آواز انکے دکھوں کا مداوا کرنے کا باعث بنے گی۔
ستائیس ستمبر کوجس وقت نریندر مودی نام لئے بغیر پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیکر اپنے آپ کو امن کا داعی قرار دیکر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے دعوے کر رہا تھا اس وقت بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں نو لاکھ افواج کی دہشت گردی اور اسی لاکھ آبادی کو عملاً جیل میں رکھے جانے کے علاوہ تیرہ ہزار بچوں اور چار ہزار سے زائد سیاسی کارکنوں کو ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنائے جانے کے عمل کو 53ایام مکمل ہو رہے تھے۔ بھارت میں موجود اقلیتوں پر ہونے والے مظالم، گائے کے محافظ جتھوں کی جانب سے اقلیتی نوجوانوں کو سرعام تشدد اورقتل کئے جانے کے واقعات کی سرکاری سرپرستی اور معاشی و سیاسی جبر و استحصال کی اندوہناک داستانیں اس کے علاوہ ہیں۔ نریندر مودی نے کشمیرمیں جاری مظالم سے متعلق کوئی وضاحت کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اور یہ عمل 1972ء کے معاہدہ شملہ کے بعد تواتر سے بھارتی حکومتوں کی جانب سے دہرایا جا رہا ہے۔
مودی کے خطاب کے کچھ ہی دیر کے بعد جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان خطاب کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پوڈیم پر تشریف لائے تو انہوں نے چار نکات پراپنے حریف کی سترہ منٹ کی تقریر کے جواب میں پچاس منٹ سے زائد کی تقریر کی۔ تقریر کا اکثریتی حصہ وہی تھا جس پر معاہدہ شملہ کے بعد گزشتہ سینتالیس سال سے پاکستانی وزرائے اعظم و وزرائے خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بات کرتے آئے ہیں لیکن اس پر نہ تو کوئی قرارداد منظور ہو سکی اورنہ ہی مزید بحث کی جا سکی۔ ماحولیاتی آلودگی، حکمرانوں کی لوٹ اور منی لانڈرنگ، اسلامو فوبیا اور کشمیر میں بھارتی جبر سے متعلق بات کرتے ہوئے ایٹمی جنگ کے خطرات سے دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ ماحولیاتی آلودگی میں ایبٹ آباد میں بھارتی فضائی حملے سے درختوں کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیا گیا، حالانکہ اپنے ہی زیر انتظام کشمیر میں دریاؤ ں کا رخ موڑے جانے کے منصوبوں کے علاوہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے اقدامات نہ ہونے کے باعث پھیلنے والی بربادی پر خود کبھی کوئی اقدام کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، اسلامی دہشت گردی کے نام پر یورپی ملکوں میں نسل پرستی پر تو انگلی اٹھائی گئی لیکن چند ہی روز قبل خود اسلام کے نام پر پاکستانی ریاست کی جانب سے امریکی آشیرباد سے دہشت اور وحشت کے کھلواڑ سے متعلق کئے جانے والے اعتراف کی جانب توجہ نہیں جا سکی۔ اسی طرح بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جاری مظالم پر ٹسوے تو بہائے گئے لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کشمیریوں کو اس حال تک پہنچانے کا جہاں بھارت ذمہ دار ہے وہاں اتنی ہی ذمہ داری ریاست پاکستان کی بھی ہے۔
جس اقوام متحدہ سے کشمیریوں کی امیدیں وابستہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد عالمی امن اور مسائل و تنازعات کو حل کرنے کیلئے عالمی ادارے ”لیگ آف نیشنز“ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جنوری1920ء میں قائم ہونے والے اس ادارے کے قیام کے بعد یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب جنگوں کے ذریعے انسانیت کے قتل عام اور بربادی کی بجائے تنازعات کو یہ ادارہ حل کیا کرے گا۔ انقلاب روس کے قائد ولادی میر لینن نے اس ادارے کو عالمی چوروں کا باورچی خانہ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل کے اس ادارے کے ذریعے کوئی تنازعہ حل کیا جاتا دوسری عالمی جنگ نے اس کی حیثیت اور اہمیت کو ہی پاش پاش کر دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اکتوبر 1945ء میں اقوام متحدہ کے نام سے پھر ایک عالمی ادارے کو قائم کیا گیا۔ گو اس ادارے کے قیام کے بعد کوئی عالمی جنگ تو نہ ہو سکی لیکن دنیا کی سامراجی بندر بانٹ سے طبقاتی، قومی، معاشی و سیاسی استحصال و جبر کی اندوہناک مثالیں ضرور قائم ہو چکی ہیں۔ بے شمار چھوٹی بڑی جنگیں، پراکسی جنگیں اور تباہی و بربادی پھیلائی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت اس جیسی دیگر عالمی تنظیمیں کہیں بھی انسانیت کو بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکیں بلکہ سامراجی ملکوں بالخصوص امریکی سامراج کے گھر کی لونڈی کا کردار ادا کرتے ہوئے ہر سامراجی درندگی کو قانونی جواز فراہم کرنے کا ہی کردار ادا کرتی آئی ہیں۔ سامراجیوں نے امن کے نام پر مشرق وسطیٰ سے ایشیاء اور افریقہ تک انسانیت کو تاراج کرنے کا عمل تاحال جاری رکھا ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بالخصوص فلسطین پرسامراجی پشت پناہی کی بنیاد پر اسرائیلی وحشت و بربریت کو روکنے کیلئے نام نہاد انصاف کے مندر اقوام متحدہ میں گزشتہ اکہتر سالوں کے دوران 187قراردادیں منظور ہو چکی ہیں لیکن نہ تو یہودی آبادکاری کو روکا جا سکا ہے، نہ فلسطینیوں کو انکی زمینوں پر دوبارہ آباد کیا جا سکا ہے اور نہ ہی فلسطینیوں کو آزادی مل سکی ہے، یہاں تک کہ فلسطینی غزہ کی پٹی پر عملاً جیل میں مقید ہیں اور انہیں زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر پر بھی اقوام متحدہ نے ابتدائی تئیس برسوں میں سترہ قراردادیں منظور کیں لیکن ان قراردادوں پر بھی عملدرآمد کروانے کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدام اٹھتے ہوئے نظر نہیں آیا۔ دوسرے لفظوں میں سامراجیوں کو جب بھی کسی خطے پر قبضہ کرنا ہو، کسی خطے کے وسائل لوٹنے ہوں یا پھر کسی خطے میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کوئی آواز اٹھ رہی ہو تو وہاں پر سامراجی یلغار کا اخلاقی جواز گھڑنے کیلئے ہی اقوام متحدہ جیسے ادارے کا استعمال کیا جاتا ہے۔
جن تنازعات اور قضیوں کا باقی رہنا سامراجی ملکوں کے تذویراتی و معاشی مفادات کے تحفظ کی ضمانت ہوتا ہے ان تنازعات کو بھی ان سامراجی اداروں کی بھول بھلیوں میں گھسیٹتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا عمل جاری رکھا جاتا ہے۔ جبکہ محنت کش طبقے کو جدوجہد کے راستے سے دور رکھنے کیلئے میڈیا، نصاب اور نام نہاد دانش وروں کے ذریعے سامراجی اداروں کے تقدس کو انکے ذہنوں پر اسی طرح سے سوار رکھا جاتا ہے۔ ہر چند سال بعد چند قراردادیں منظور کر کے سرمایہ دارانہ دانش کو مواد مہیا کیا جاتا ہے کہ جس کے ذریعے سے وہ انسانی اذہان میں غلاظت بھرنے کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں اور شاطر وکیلوں کی طرح محکوم و مظلوم عوام کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ بس اب کیس چند ہی تاریخوں میں انکے حق میں جانے والا ہے۔
جموں کشمیر کے مسئلہ کو اگر دیکھا جائے تو جہاں سامراجی بنیادوں پر برصغیر کے خونی بٹوارے کی جوازیت کو برقرار رکھنے کیلئے سامراجی اور مقامی حکمران طبقات اس تنازعے کو جوں کا توں رکھنے کے حوالے سے ابتداء ہی سے ایک متفق نظر آتے ہیں۔ وہاں اس خطے میں انسانیت کے ساتھ ہونے والے سامراجی کھلواڑ کا تماشہ دنیابھرمیں دکھوں کو فروخت کرنے کی صورت میں تو نظر آتا ہے لیکن تاحال نہ ہی بھارتی زیر انتظام جموں کشمیرمیں کرفیو، فوجی جبر، لاک ڈاؤن اور ریاستی دہشت گردی میں کمی لائی جا سکی ہے اور نہ ہی پاکستانی زیر انتظام کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں میں کوئی روک لگ سکی ہے۔
جس طرح سے برصغیر پاک و ہند کے حکمران اپنے داخلی تضادات سے توجہ ہٹانے کیلئے جموں کشمیر کے المیے کو استعمال کرتے آئے ہیں، موجودہ وقت بھی قومی شاؤنزم کو ہوا دینے اور اندرونی سنگین معاشی و سیاسی بحران سے توجہ ہٹانے کیلئے جموں کشمیر کے عوام کو ایک مرتبہ پھر قربانی کا بکرا بنادیا گیا ہے۔ حکمران طبقات اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہے بلکہ برصغیر پاک و ہند کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کیلئے اس مسئلہ کو کمال مہارت سے ہمیشہ سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جموں کشمیر میں کھیلی جانیوالی خون کی ہولی حکمرانو ں کیلئے وہ تماشہ ہے کہ جس کی جانب توجہ مرکوز کروا کر برصغیر پاک و ہند کے محنت کش طبقے پر حکمرانی اور سرمائے کے تسلط کو قائم رکھنے اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کا عمل گزشتہ بہتر سال سے جاری ہے۔
بھوک، ننگ، جہالت، دہشت گردی، قومی و طبقاتی استحصال کا شکار برصغیر پاک و ہند کے محنت کشوں کے مسائل بھی جموں کشمیر کے باسیوں سے کچھ الگ نہیں ہیں لیکن ان مسائل کے ذمہ دار ایک ہی ہیں۔ کشمیریوں کی دکھوں کا مداوا اور غلامی سے نجات کا راستہ کسی سامراجی ادارے اور حکمران طبقات کے دروازوں سے نہیں گزرتا بلکہ اس خطے کے محنت کش اور نوجوان ہی نہ صرف کشمیر بلکہ پورے برصغیر کے انسانوں کی حقیقی آزادی کے ضامن ہو سکتے ہیں۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ محنت کش طبقے کی نجات کا واحد ذریعہ محنت کش طبقہ خود ہے۔ جس طرح بھارتی پنجاب کے طلبہ، نوجوان اور کسان ”ساڈا درد سانجھا، ساڈا دشمن سانجھا“ کے نعروں پر مشتمل بینرز اٹھا کر سڑکوں پر نکلے ہیں، اسی طرح کشمیر کے پہاڑوں سے ابھرنے والی بغاوت کی پکار پورے برصغیر کو نہ صرف اپنی لپیٹ میں لے گی بلکہ محنت کشوں اور نوجوانوں کی عملی جڑت اپنے مشترکہ دشمن کو نیست و نابود کرتے ہوئے اس خطے کو انسانیت کیلئے امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کا موجب بنے گی۔












13 تبصرے “سامراجی ادارے میں قابضین کی تقاریر اور کشمیریوں کی آزادی”