”ہمارا دکھ ایک ہی ہے“: پنجاب نے کشمیر کیلئے جدوجہد کیوں جاری رکھی ہوئی ہے؟

تحریر: آدتیہ مینن/ ترجمہ: حارث قدیر

نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کئے اور اسے دو خطوں میں تقسیم کر کے مرکز کے ساتھ شامل کئے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا ہے۔ تاہم آرٹیکل 370کے خاتمے اور کشمیر میں طویل ترین لاک ڈاؤن کے خلاف ہمسایہ ریاست پنجاب میں موجود غم و غصہ میں کمی نہیں آرہی ہے۔

بائیں بازو اور مذہبی گروپوں کی جانب سے ریاست گیر مظاہرے منعقد کرتے ہوئے مودی کی زیر قیادت حکومت کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

پنجاب بھر میں احتجاج
پندرہ ستمبر کو درجن بھر تنظیموں جن میں کسان گروپ، ٹریڈ یونینز اوربائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں شامل ہیں نے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے موہالی کی طرف ایک بڑا مارچ منعقد کیا۔ احتجاج کو پنجاب کی کشمیری قومی سنگرش سمیتی نے مربوط کیا تھا۔
تاہم موہالی انتظامیہ نے احتجاج کی اجازت نامہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے شہر کے متعدد داخلی راستے بند کر دیئے تھے۔ جس کے نتیجے میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے مارچ کرنے والے مظاہرین نے جہاں جہاں انہیں انتظامیہ کی طرف سے روکا گیا وہا ں احتجاج کئے۔
https://twitter.com/dialecticsoupy/status/1173466059749261312
اطلاعات کے مطابق پنجاب کے چودہ اضلاع میں یہ احتجاج منعقد کئے گئے تھے۔ متعدد قومی و ریاستی ہائی ویز کو مظاہرین نے بند کر رکھا تھا۔

خاص طور پر مالوا خطے کے اضلاع جن میں بٹینڈا، برنالہ، مانسہ اور سنگرور وغیرہ شامل ہیں، میں احتجاج شدید تھا جہاں کسانوں اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کا اثر و رسوخ مضبوط ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے شرکاء نعرے بازی کر رہے تھے، نعروں میں ”کشمیر کشمیری لوکاں دا“ اور ”اسی کھڑے کشمیریاں نال، 370کرو بحال“ شامل تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب میں بائیں بازو کی تنظیمیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ملک کے دیگر حصوں میں اپنے ہم منصبوں کی نسبت زیادہ سرگرم احتجاج کر رہی ہیں۔
https://twitter.com/iKatar_Koshur/status/1173875538173276160
مودی کے دورہ امریکہ کے دوران احتجاج

سکھوں کی متعدد مذہبی تنظیموں جن میں دل خالصہ، سمرنجیت سنگھ مان کی شرومانی اکالی دل (امرتسر) اور یونائیٹڈ اکالی دل شامل ہیں نے تامل کارکنوں کے ساتھ مل کر چھبیس ستمبر کو دہلی میں کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

مذکورہ تنظیمیں جو سکھ ڈایاسپورہ کے اندر بھی موجود ہیں نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دور ہونے والے بائیس ستمبر کے احتجاج میں بھی حمایت کی تھی۔

سمرنجیت سنگھ مان نے کہاکہ ”کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس سے پریشان ہیں۔ کشمیریوں کی آوازوں کو دبایا جا چکا ہے۔ نہ سپریم کورٹ اور نہ ہی میڈیا انکی آواز کو سننے کیلئے کچھ کر پایا ہے۔ ہم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کیلئے احتجاج کریں گے“۔

دل خالصہ کے پوسٹرمیں لکھا گیا نعرہ”پنجاب بنے گا کشمیر دی آواز“ احتجاج کے پیچھے موجود جذبات کا اظہار کر رہا تھا۔

ایک اور پوسٹر استعمال کیا جا رہا ہے جس میں کشمیر اور پنجاب کا اکٹھا نقشہ کھینچا جا کر ”ساڈا درد سانجھا، ساڈا دشمن سانجھا“ کے الفاظ لکھے گئے ہیں۔

اگرچہ بائیں بازو کی تنظیموں اور سکھ مذہبی تنظیموں کے درمیان کشمیر سے متعلق احتجاج کے حوالے سے کوئی رسمی رابطہ کاری نہیں کی گئی ہے، چند مواقعوں پر مذکورہ تنظیموں کے ارکان انفرادی طور پر آپس میں جڑ گئے۔ مثال کے طور پر، سابق پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی صدر کانوپریہ جو بائیں بازو کی طلبہ تنظیم سٹوڈنٹس فار سوسائٹی کی رہنما ہیں نے ایس اے ڈی (اے)، دل خالصہ اور یونائیٹڈ اکالی دل کے پندرہ اگست کے احتجاج میں شرکت کی۔

سینئرصحافی پرابھجیت سنگھ لکھتے ہیں کہ ”پنجاب میں بائیں بازوں کی تنظیموں اور سکھ تنظیموں نے ریاست میں عسکریت پسندی سے متعلق ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات میں تین دہائیاں گزاریں لیکن آج ایک مقصد پر متفق ہیں: وہ مقصد جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دینے کے مرکز کے فیصلے کی مذمت ہے۔“

تاریخی تعلق

بہت سارے مبصرین نے تاریخی وجوہات کا حوالے دیا ہے جو پنجاب کو انڈیا کی ان چند جگہوں کے طور پر منفرد کرتی ہیں جہاں کشمیر سے متعلق احتجاج ہو رہا ہے۔

سینئر اور تجربہ کار صحافی جگتار سنگھ کے مطابق،”پنجاب کے کشمیر کے ساتھ اس تاریخی تعلق کو سمجھنے کیلئے تاریخ میں پیچھے جانا پڑے گا۔ سکھوں کے نویں پیشوا گرو تیغ بہادر نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کیلئے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔ یہ ایشو نہیں تھا کہ وہ پنڈت تھے یا مسلم۔ ریاست ایک جیسا سلوک کرتی ہے۔ انہوں نے دہلی میں اپنے شہادت دی۔ وہ آنند پورصاحب میں قیام پذیر تھے جب کشمیریوں نے ان سے انکے انسانی حقوق کے تحفظ کی درخواست کی تھی۔“

سمرانجیت سنگھ مان نے بھی سکھوں کے چھٹے گرو ہرگوبند کا حوالہ دیا جو کشمیرمیں سکھ ازم کولائے تھے۔

جگتار سنگھ اور متعدد دیگر نے یہ حوالہ بھی دیا کہ کشمیر سکھ سلطنت کا حصہ تھا، اور دوسری اینگلو سکھ جنگ کے بعد 1849ء میں ڈوگروں کو دیا گیا تھا۔

مزید یہ کہ متعدد سکھ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو پنجاب میں 1984کے آپریشن بلو سٹار کی صورتحال سے مشابہہ قرار دیتے ہوئے دونوں جگہوں پر اقلیتی کمیونٹی کی شعوری تذلیل کئے جانے کی دلیل دیتے ہیں۔

نشریاتی ادارے ”کوئنٹ“ نے قبل ازیں رپورٹ شائع کی ہے جس میں واضع کیا گیا ہے کہ کس طرح سکھ آرٹیکل 370کی تنسیخ کو تاریخ کے اپنے آپ کو دہرانے کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن کو ایک مخمصے کا سامنا ہے

پنجاب میں کشمیر سے متعلق بڑے پیمانے پر غم و غصے نے حکمران جماعت کانگریس اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی اپوزیشن جماعتوں کو بھی مخمصے کا شکار کر دیا ہے۔

کانگریس نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف ووٹ دیا، اور اسکے آنندپور صاحب سے منتخب ممبر پارلیمنٹ منیش تیواری نے لوک سبھا سے خطاب بھی کیا۔ تاہم، پارٹی کے متعدد رہنماؤں جن کا تعلق ہندی سرزمین سے ہے نے بعد میں حکومتی اقدام کی حمایت کر دی تھی۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کپٹین امریندر سنگھ نے غیر واضح انداز میں کشمیر ایشو پر حکومت کی مخالفت کی لیکن ساتھ ہی احتجاجوں کو روکنے کا بھی فیصلہ کیا، انتظامیہ کی طرف سے موہالی میں ہونے والے احتجاج کا اجازت نامہ منسوخ کر کے واضح بھی کردیا۔

شمرومانی اکالی دل کو حکومت کی حمایت کرنے اور 1967ء کے الیکشن میں آنند پور صاحب قرارداد جس میں پنجاب کیلئے خصوصی حیثیت کا مطالبہ کیاگیا تھا کے خلاف جانے پر تمام حلقوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عام آدی پارٹی نے پارلیمنٹ میں حکومت کی حمایت کی لیکن لوک سبھا میں انکے اہم ممبر بھگوت مان کشمیر پر بحث سے فاصلے پر رہے۔ پارٹی پنجاب میں اس مسئلے کو اٹھانے میں بھی محتاط ہے کیونکہ اس سے دہلی میں پارٹی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

ایک سیاستدان جو حکومت کی کشمیر پالیسی کے خلاف بیانات دیتے آئے ہیں وہ سابق اپوزیشن لیڈر اور پنجابی ایکتا پارٹی کے سکھپال سندھ کھیراہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ:

”جموں اور کشمیر عملاً انڈین حکومت کیلئے یونین ٹیریٹریکے طور پر ہی تھا۔ فوجی وہاں حکمرانی کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ عملاً مرکز کی طرف سے تعینات کیا جاتا رہا۔۔۔۔۔ لیکن ریاستی حکومت کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے یونین ٹیرٹری تک محدود کرنے کے پیچھے حکومت کا مقصد کشمیریوں کی تذلیل کرنا اور انکے زخموں پر نمک پاشی کرنا تھا“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”یہ حکومت کا اقلیتوں کو یہ بتانے کا طریقہ ہے کہ ان کیلئے اب یہاں کوئی جگہ نہیں ہے“۔