”آزادی مارچ و یکجہتی دھرنا“:عوامی جڑت کی ایک بے مثال داستان

رپورٹ : حارث قدیر

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام لائن آف کنٹرول کے تیتری نوٹ سیکٹر کی جانب ”آزادی مارچ“اور ”یکجہتی دھرنا“کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ہجیرہ تھانہ میں گرفتار اڑتیس کارکنان اور رہنماؤں کو غیر مشروط طو رپر رہا کرنے کیلئے حکومت اور انتظامیہ کو بارہ ستمبر تک ڈیڈ لائن دی گئی ہے، مطالبہ کی عدم منظوری کی صورت تیرہ ستمبر سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

شرکاء آزادی مارچ پرجوش نعرے لگاتے ہوئے ہجیرہ شہر میں داخل ہو رہے ہیں

Posted by Daily Mujadala on Tuesday, September 10, 2019

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے لائن آف کنٹرول کے تیتری نوٹ سیکٹر کی جانب سات ستمبر کو ”آزادی مارچ“کرنے اور کراسنگ پوائنٹ کے نزدیک غیر معینہ مدت تک ”یکجہتی دھرنا“دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔ لبریشن فرنٹ کے اس اعلان پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور نیشنل عوامی پارٹی کے ایک گروپ اور انکے طلبہ ونگ این ایس ایف کی جانب سے بھی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس مارچ کی حمایت تاجروں، ٹرانسپورٹرز، بار ایسوسی ایشنز اور دیگر سول سوسائٹی تنظیموں کی جانب سےبھی کی گئی  تھی۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام #آزادی_مارچ کے شرکاء کے ہجیرہ پہنچنے پر خواتین اور بچے پھولوں کی پتیوں سے استقبال کرتے ہوئے

Posted by Daily Mujadala on Wednesday, September 11, 2019

مقاصد کیا تھے؟
”آزادی مارچ“اور ”یکجہتی دھرنا“کا انعقاد مختلف مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ مطالبات میں پانچ اگست کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وہاں کرفیو، لاک ڈاؤن اور بھارتی فوج کے جبر کے فوری خاتمے کے علاوہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بھی فی الفور بحالی کا مطالبہ شامل تھا، دونوں افواج کے کشمیر سے فی الفور انخلاء کامطالبہ، کشمیریوں کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینے، کنٹرول لائن پر ہر دو اطراف سے ہونے والی فائرنگ کے خاتمے، گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی فوری بحالی، بھارتی و پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں گرفتار کئے گئے سیاسی اسیران کی فوری رہائی سمیت دیر مطالبات بھی شامل تھے۔ جبکہ بھارتی فوجی جبر کا سامنا کرنے والے جموں کشمیر کے عوام اور کنٹرول لائن پر ہر دو اطراف سے فائرنگ اور خوف کا سامنا کرنے والے کنٹرول لائن پر بسنے والے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کرنا بھی اس مارچ اور دھرنا کے مقاصد میں شامل تھا۔

آزادی مارچ کے شرکاء کی راولاکوٹ، ہجیرہ اور دوارندی میں ریلیوں اور دھرنے کی شکل میں مختلف تصویری جھلکیاں

Posted by Daily Mujadala on Tuesday, September 10, 2019

آزادی مارچ کا روٹ
سات ستمبر کو بڑے قافلے راولاکوٹ اور کوٹلی سے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی جانب روانہ ہونے تھے جنہیں ضلع پونچھ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہجیرہ شہر میں آپس میں ملنا تھا، باغ، دھیرکوٹ، ارجہ، مظفرآباد کے علاوہ راولاکوٹ کے نواحی علاقہ جات سے قافلے حسین شہید پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کے گراؤنڈ میں جمع ہوئے جہاں سے راولاکوٹ شہر میں پیدل جلوس کی شکل میں یہ قافلے ہجیرہ اڈہ کے مقام سے گاڑیوں پر سوار ہوئے، نواحی بازاروں کے قافلوں کو شامل کرتے ہوئے یہ قافلے ہجیرہ شہر پہنچے جہاں سے تیتری نوٹ کی جانب پیدل مارچ کا آغاز کیا گیا۔ جبکہ کوٹلی کے نواحی علاقوں سے قافلے کوٹلی شہر میں جمع ہوئے جہاں سے ہجیرہ کی جانب قافلے روانہ ہوئے۔شرکاء مارچ کشمیر کی آزادی، خودمختاری، غیر طبقاتی سماج کے حق میں اور غیر ملکی افواج کے کشمیر کے انخلاء سے متعلق نعرے بازی کر رہے تھے۔

آزادی مارچ کا جگہ جگہ پرتپاک استقبال
چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں ہزاروں کی تعداد میں قافلہ جب راولاکوٹ شہر میں داخل ہوا تو شہر بھر کے تاجروں نے کاروبار کو معطل کرتے ہوئے آزادی مارچ کے شرکاء کا استقبال کیا، انجمن تاجران آزادکشمیر کے مرکزی صدر و صدر انجمن تاجران راولاکوٹ سردار افتخار فیروز کی قیادت میں تاجروں نے آزادی مارچ میں بھی بھرپور شرکت کی، راولاکوٹ انجمن تاجران کے عہدیداران بھی قافلے کو الوداع کرنے کیلئے شہر کی حد تک جلوس میں شریک رہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں تاجران اور شہری مارکیٹوں اور دکانوں کی چھتوں پر کھڑے آزادی مارچ کے شرکاء کا استقبال کر رہے تھے، نواحی بازاروں چہڑھ، سروس اسٹیشن، چک اور کھائی گلہ میں بھی تاجروں نے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کرتے ہوئے آزادی مارچ کے قافلے کا بھرپور طریقے سے استقبال کیا۔ نواحی بازاروں سے سیکڑوں کی تعداد میں سیاسی کارکنان، عام شہری اور تاجران بھی قافلے کا حصہ بنتے گئے۔ ہجیرہ شہر میں انجمن تاجران کے صدر سردار الطاف کی قیادت میں تاجروں نے تمام شہر میں شٹر ڈاؤن کرتے ہوئے آزادی مارچ کے شرکاء کا والہانہ استقبال کیا۔ شرکاء مارچ کو پانی اور شربت پلانے کیلئے جگہ جگہ سبیلیں قائم کی گئی تھیں۔ جبکہ خواتین، بچے اور جوان مارکیٹوں اور مکانات کی چھتوں پر کھڑے شرکاء جلوس کا استقبال کر رہے تھے اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے۔ ہجیرہ سے جب پیدل جلوس کا آغاز ہوا تو شرکاء کی تعداد تیس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی، کوٹلی سے آنے والا جلوس پولیس کی جانب سے روکے جانے کے باعث ہجیرہ پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

پولیس اور کارکنان کے مابین تصادم
پولیس نے سہنسہ، کوٹلی پل اور دوارندی بازار سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر رکھی تھی۔ سہنسہ میں کارکنان اور پولیس کے مابین تصادم کے نتیجے میں پولیس اہلکاران کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم سہنسہ سے آزادی مارچ کے شرکاء کوٹلی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، کوٹلی سے چلنے والے مرکزی قافلے،جس میں پانچ سے سات ہزار کے قریب افراد شامل تھے،کو شہر سے دو کلومیٹر دور کوٹلی پل پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیا۔ شرکاء مارچ نے قیادت کی ہدایات کے مطابق پل پر ہی احتجاجاً دھرنا دے دیا۔ تاہم پولیس کی جانب سے کارکنوں کو اٹھانے کی کوشش میں کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم ہو گیا جو کئی گھنٹے جاری رہا، متعدد کارکنان اور پولیس اہلکاران زخمی ہوئے، جبکہ پولیس آزادی مارچ کے قافلے کو کوٹلی سے ہجیرہ کی طرف روان ہونے سے روکنے میں کامیاب ہو گئی، شرکاء مارچ نے کوٹلی شہر میں رات گئے تک احتجاجی دھرنا دیئے رکھا۔

آزادی مارچ کے شرکاء کو روکنے کےلئے تعینات پولیس کی بھاری نفری اور خاردار تاروں کے ذریعے راستے بند کئے جانے کی تصویری جھلکیاں

Posted by Daily Mujadala on Tuesday, September 10, 2019

ہجیرہ سے پیدل تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی جانب جانے والے آزادی مارچ کے مرکزی قافلے کو دوارندی بازار سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر خاردار تاریں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے روکا گیا، چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے وہیں احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر دیا، تاہم چند ہی لمحوں بعد پولیس کی جانب سے مجمع پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچنے سے متعدد کارکنان زخمی ہوئے، کارکنان کی ایک مخصوص تعداد نے مشتعل ہو کر پولیس پر جوابی پتھراؤ کیا جس کے باعث پولیس اہلکاران بھی بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔ پارٹی چیئرمین کی ہدایات پرشرکاء مارچ نے احتجاجی دھرنا کو دوارندی بازار میں منتقل کر دیا۔ تاہم مشتعل نوجوانوں اور پولیس کے درمیان تصادم کا سلسلہ چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔ شرکاء مارچ نے پولیس کے ساتھ تصادم میں ملوث نوجوانوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے مکمل طور پر پر امن رہنے کا اعلان کیا۔

اڑتیس گرفتار کارکنوں پر وحشیانہ تشدد کا الزام
دوارندی بازار سے شرکاء مارچ کو متبادل راستہ سے تیتری نوٹ پہنچانے کا اعلان کیا گیا اور بڑی تعداد میں کارکنان متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر قائم یکجہتی دھرنا میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ پولیس نے دوارندی بازار میں موجود باقی کارکنان پر دھاوا بولتے ہوئے اڑتیس کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار رہنماؤں کے مطابق ایس ایس پی پونچھ نے خود پولیس اہلکاران کے ساتھ مل کر گرفتار رہنماؤں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ جس کے باعث متعدد رہنماء شدید زخمی ہیں۔ گرفتار رہنماؤں میں محمد حمید، راشد حنیف، ساجد حسین ساکنان بھیکھ دھمنی، بلاول جمیل سکنہ کہوکوٹ، احمر انور سکنہ لنجگراں، حمزہ سکنہ تراڑ کھل، عبید الرحمن سکنہ رہاڑہ، کامران صدیق سکنہ بیرپانی باغ، محمد اسلم بائی بھیکھ، شمیر شہزاد سکنہ کوٹھیاں باغ، خواجہ انیس سکنہ حویلی، محمد اجمل سکنہ کہوکوٹ، محمد مبین سکنہ علی سوجل، محمد شفیق سکنہ دھمنی، جمال شہزاد سکنہ لنجگراں، عبدالرحمن سکنہ منگ بجری باغ، مظہر گلزار سکنہ بنجونسہ، نصیر احمد سکنہ دھڑے باغ، محمد آصف سکنہ کھائی گلہ، محمد بشارت سکنہ بھیکھ، محمد جاوید سکنہ چھوٹا گلہ، محمد خورشید سکنہ چھوٹا گلہ، نذر محمد سکنہ چھوٹا گلہ، بدردین سکنہ دریک راولاکوٹ، عمر نذیر سکنہ پوٹھی مکوالاں، شازیب سکنہ دریک، محفوظ سکنہ بنجونسہ، محمد حفیظ سکنہ دریک، ماجد علی سکنہ رہاڑہ، محمد فاروق سکنہ دوتھان، منصور سکنہ ہولدار کوٹیڑہ، حسام سکنہ رہاڑہ، ذوہیب سکنہ ہولدار کوٹیڑہ، شاہ میر سکنہ کہوکوٹ، اسامہ سکنہ ہولدار کوٹیڑہ، دانش گلفراز سکنہ علی سوجل، اسرار اویس سکنہ تھوراڑ، عبدالحفیظ سکنہ کہوکوٹ شامل ہیں۔گرفتار شدگان نے ہجیرہ تھانہ میں تشدد اور سہولیات فراہم نہ کئے جانے پر احتجاجاً بھوک ہڑتال کئے رکھی۔

تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے یکجہتی دھرنا کی تصویری جھلکیاں

Posted by Daily Mujadala on Tuesday, September 10, 2019

یکجہتی دھرنا تین روز تک جاری رہا
تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر کنٹرول لائن سے پچاس میٹر کے فاصلے پر احتجاجی دھرنا منعقد کیا گیا تھا، جس میں مقامی افراد کی کثیر تعداد کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ دھرنا سات ستمبر کو علی الصبح شروع کر دیا گیا تھا، چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ رات دو بجے کے قریب دھرنا میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ دیگر شرکاء آزادی مارچ صبح تین بجے سے نو بجے کے درمیان دوارندی سے براستہ عباسپور پیدل چلتے ہوئے تیتری نوٹ یکجہتی دھرنا میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ تین روز تک مختلف شہروں سے ریلیوں اور گروپوں کی شکل میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے یکجہتی دھرنا میں شرکت کی۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک گروپ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی، انکی اہلیہ محترمہ طاہرہ توقیر درجنوں کارکنوں کے جلوس کے ہمراہ دھرنا میں یکجہتی کیلئے پہنچے، آل آزادکشمیر انجمن تاجران کے صدر سردار افتخار فیروز ساتھیوں کے ہمراہ دھرنا میں پہنچے، انجمن تاجران ہجیرہ کے صدر سردار الطاف اپنے عہدیداران اور تاجروں کے ہمراہ دھرنا میں شریک رہے، انجمن تاجران تراڑکھل کے صدر سردار شبیر بھی عہدیداران اور تاجروں کے ہمراہ دھرنا میں یکجہتی کیلئے پہنچے، پی این پی کے چیئرمین راجہ ذوالفقار، نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار لیاقت حیات، چیئرمین لبریشن فرنٹ (رؤف گروپ) سردار صابر کشمیری، سابق چیف آرگنائزر لبریشن فرنٹ سردار قدیر خان، اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی احتجاجی دھرنا میں شرکت کی۔

دھرنے کے انتظامات اور سکیورٹی مثالی رہی
یکجہتی دھرنے کے انعقاد کیلئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر انصار احمد کی قیادت میں تیتری نوٹ کے لبریشن فرنٹ کے کارکنان، جے کے این ایس ایف کے مرکزی انچارج سٹڈی سرکل ارسلان شانی کی قیادت میں این ایس ایف کے کارکنان اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اہلیان تیتری نوٹ نے مثالی طریقے سے دھرنے کو آرگنائزر کیا۔ مقامی آبادی، اہلیان عباسپور، تاجروں، عام شہریوں نے دھرنے کے شرکاء کیلئے کھانے کا بندوبست کرنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت انتظامات کر رکھے تھے، ہزاروں کی تعداد میں شرکاء کو دو وقت کھانا مہیا کیا جاتا رہا، جبکہ لبریشن فرنٹ اور مقامی آبادی کے نوجوانوں پر مشتمل سکیورٹی دستہ چوبیس گھنٹے دھرنا کی سکیورٹی کے حوالے سے احاطہ کے چاروں اطراف مستقل تعینات رہا۔ دھرنے میں شرکت کرنے والی مختلف شخصیات نے کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ نقد چندہ کی شکل میں شرکاء دھرنا کی سہولیات کیلئے اپنا حصہ ڈالا۔

بچوں کی ریلیوں کی شکل میں دھرنا میں شرکت
تیتری نوٹ اور نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور بچیوں نے الگ الگ ریلیوں کی شکل میں یکجہتی دھرنا میں شرکت کی، دھرنے کے دوسرے روز تیس سے چالیس پانچ سے بارہ سال کی بچیوں نے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے پرچم اٹھائے ریلی کی شکل میں دھرنا میں شرکت ک، جبکہ دھرنے کے تیسرے روز پانچ سے بارہ سال کے بچوں نے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور لبریشن فرنٹ کے پرچم اٹھائے بشکل ریلی دھرنا میں شرکت کی اور شرکاء دھرنا سے اظہار یکجہتی کیا۔

جے کے ایل ایف کے زیر اہتمام آزادی مارچ کے ہجیرہ شہر سے گزرنے کے مناظر

Posted by Daily Mujadala on Monday, September 9, 2019

دھرنا سے مقررین کا خطاب اور دھرنا کا اختتام
یکجہتی دھرنا سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کے علاوہ لبریشن فرنٹ (یاسین) کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی،لبریشن فرنٹ کے زونل صدر انصار احمد، جے کے این ایس ایف کے مرکزی صدر ابرار لطیف، جے کے این ایس ایف کے سابق صدور بشارت علی خان، توصیف خالق، محترمہ طاہرہ توقیر، سینئر وائس چیئرمین لبریشن فرنٹ راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ، صدر انجمن تاجران آزادکشمیر سردار افتخار فیروز، صدر انجمن تاجران ہجیرہ سردار الطاف خان، اظہر احمد کاشر، سردار انور ایڈووکیٹ، سردار محمد قدیر خان، راجہ ذوالفقار احمد، سردار لیاقت حیات، سردار صابر کشمیری، سردار محمد شعیب خان، سکندر علی قمر، سردار شاہد شریف، ارسلان شانی، کامران خالد، ابرار عظیم، تصور موسوی سمیت دیگر متعدد رہنماؤں نے خطاب کیا۔ فقہ جعفریہ کے ماتمی جلوس کے تقدس کے پیش نظر شیعہ کمیونٹی کے اراکین کی درخواست پر چیئرمین لبریشن فرنٹ نے دیگر اتحادی تنظیموں اور پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد دس ستمبر صبح ایک بجے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ چیئرمین لبریشن فرنٹ نے اپنے خطاب میں انتظامیہ کو اسیر کارکنان کی رہائی کیلئے بارہ ستمبر تک کی ڈیڈ لائن دی۔ بصورت دیگر تیرہ ستمبر سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: