حارث قدیر
گزشتہ کچھ روز سے پاکستان میں دائیں بازو کے ریاستی وفادار دانشوروں نے حکومت پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دفاع کرنا شروع کر رکھا ہے، یہ وہ دانشور ہیں جو ہر عہد میں ریاست کی جانب سے اپنائی جانے والی پالیسیوں کو خدائی پیغامات کے طور پر پاکستانی معاشرے میں بسنے والے مظلوم و محکوم عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ پچاس کی دہائی کے مارشل لاءکے غیر جمہوری عمل سے بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں اور جماعتوں پر پابندیوں سے ذالفقار علی بھٹو کی پھانسی تک، ضیاءالحق کی مسلط کی گئی بنیاد پرستی، مذہبی جنونیت اور افغان ڈالر جہاد سے لیکر اسی جہاد کو دہشت گردی قرار دیئے جانے تک ان تمام سرکاری پالیسیوں، احکامات کو اس معاشرے پر مسلط کرنے میں صف اول میں شریک رہے، ہر غیر جمہوری عمل، ہر کالے قانون، ہر ریاستی دہشت گردی کا ڈھٹائی سے دفاع کرنے والے ان عناصر (بلکہ خود ساختہ عظیم دانشور صاحبان) نے مسئلہ کشمیر پر خاص کر پانچ اگست کو مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کو حاصل کچھ خصوصی اختیارات کو چھین کر مقبوضہ وادی کوکرفیو لگا کر عملاً جیل میں تبدیل کئے جانے کے عمل کے بعد پاکستانی اقدامات کے دفاع میں اپنی دانشوری جھاڑنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رکھا ہے۔
اس سلسلہ میں عامر ہاشم خاکوانی، امیر حمزہ،ڈاکٹر مشتاق احمد، آصف محمود، رﺅف کلاسرا سمیت دیگر شخصیات ایک مرتبہ پھر ریاستی اقدامات کو خدائی اقدامات کے قریب ترین رکھ کر لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کرنے میں پیش پیش ہیں، جبکہ ماضی میں ریاست کی جانب سے پالے گئے کچھ جنگجو حضرات غزوہ ہند لڑنے کےلئے پاکستانی ریاست کو آگے بڑھنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ مذکورہ احباب نے مسئلہ جموں کشمیر کی تاریخ کو بھی مطالعہ پاکستان کی تاریخ کی طرز پر درست کروانے کی کوشش کی ہے۔
مذکورہ احباب کا خیال یہ ہے کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کر کے بھارت کو سخت مشکلات سے دو چار کر دیا ہے اور عمران حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی لازوال خدمت ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پچاس سال بعد کشمیر کے مسئلہ پر خصوصی اجلاس بلوائے جانے سمیت دیگرحمایتی بیانات اور ہر جمعہ کو ایک گھنٹہ کشمیریوں کےساتھ یکجہتی کو بھی تاریخی اعلان قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ حقائق دیکھے جائیں تو نام نہاد مسلم امہ کے اتحاد سمیت سامراجی اداروں کی قلعی کھل کر تمام لوگوں پر عیاں ہو چکی ہے۔پاکستانی ریاست کی منافقانہ پالیسیوں پر مبنی موقف کو دنیا بھرمیں نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ انتہاﺅں کو چھوتے بھارتی مظالم کے باوجود سرمائے کی ہوس میں مبتلا دنیا بھر کے حکمران بھارت کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔تاریخی بحران کا شکار پاکستانی ریاست دنیا میں تنہاءاور امریکی سامراج کی احکامات کی بجاآوری میں مصروف نظر آرہی ہے۔ جبکہ کشمیری دونوں اطراف غلامی کی بدترین حالت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔
مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کے برطانوی اقدام ہی کی پیداوار ہے جسے برطانوی حکمرانوں نے اس خطے پر بالواسطہ سامراجی اقتدار کو جاری رکھے جانے کےلئے ایک ایسے رستے زخم کی طرح چھوڑ دیا تھا کہ جس کے ذریعے تقسیم کے زخموں کو نہ صرف ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے بلکہ تقسیم کو برقرار رکھنے اور محنت کش عوام پر حکمرانی کو جاری رکھنے کےلئے اس زخم کو کرید کرید کر دیگر تمام تکالیف کا اثر اس پر مرکوز کر کے اندرونی مسائل اور داخلی تضادات کو طوالت دینے میں حکمران طبقات کو آسانی میسر آتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی الیکشن کا موسم ہو، معاشی و سیاسی بحرانات ہوں مسئلہ کشمیر کی ہنڈیا کے نیچے آگ تیز کر دی جاتی رہی ہے، آپریشن جبرالٹر ہو یا براہ راست جہاد کے نام پر پراکسی جنگ، خصوصی حیثیت کے خاتمے کی بیان بازی ہو یا بھارتی آئین کے کشمیر سے متعلق آرٹیکل سے مستقل چھیڑ چھاڑ کے ذریعے احتجاج کی فضاءکو مسلسل برقرار رکھنے جیسا عمل ہو، وادی کو دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ بنانے جیسا بھارتی فوجی عمل ہو یا پھر دونوں افواج کی کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز فائرنگ سے دونوں اطراف کشمیریوں کا قتل عام ،اس طرح کے دسیوں اقدامات اس خطے کے باسیوں کی زندگیوں پر مسلط کرتے ہوئے داخلی تضادات سے توجہ ہٹانے کی کوششیں 72سال سے جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
آرٹیکل 370 اور کشمیر: تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور جدوجہد آزادی
بھارتی حکومت کے منظورکردہ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019ء کے بعد کیا ہوگا؟
پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ”ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک“ کا آغاز، ریاست گیر مظاہرے، ہزاروں افراد کی شرکت
پاکستانی دائیں بازو کے دانشوروں کا خیال ہے کہ صرف بھارت نے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، جبکہ بھارتی دائیں بازو کے دانشور بھی کچھ ایسا ہی سمجھتے ہیں، ان کے خیال میں صرف پاکستان ہی نے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیریوں پر مظالم صرف پاکستان ڈھا رہا ہے، جبکہ دونوں اطراف جب بھی کوئی بحرانی کیفیت سامنے آتی ہے تو کسی بھی دائیں بازو کے دانشور کا حوالہ نہیں دیا جاتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ارن دھتی رائے سے شہلا رشید تک اور سیتا رام یچوری سے انورادھا بھسین تک بائیں بازو کے ہی دانشوروں اور سیاسی رہنماﺅں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور تحریروں اور تقاریر کو پاکستانی میڈیا کی زینت بنا کر بھارتی مظالم کی اندرونی تصدیق حاصل کی جاتی ہے، جبکہ بھارتیوں کو بھی پاکستان سے بائیں بازو کے لکھاریوں اور سیاسی رہنماﺅں کی گفتگو ، تحریروں اور تقریروں کو استعمال کر کے پاکستانی مظالم کی مقامی تصدیق ظاہر کرنا پڑتی ہے۔ یہ دونوں حالتیں پھر بائیں بازو کے ترقی پسند لکھاریوں، سیاسی رہنماﺅں اور دانشوروں پر دونوں ریاستوں کی آشیرباد میں پلنے والے انتہاءپسندوں کے حملوں، لعن طعن، گالیوں اور تضحیک آمیز رویوںکا باعث بنتی ہیں۔
اب اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت کشمیر کے مختلف حصوں پر قابض ہیں، باشندہ ریاست قانون عملاً سب سے پہلے گلگت بلتستان(پاکستانی مقبوضہ) سے 1974ءمیں ختم کیا گیا، جبکہ بھارتی زیر قبضہ جموں ، کشمیر، لداخ سے یہ پانچ اگست2019ءکو ختم کیا گیا، تاہم دونوں اطراف باشندہ ریاست قانون کی خلاف ورزیاں 1947ءسے ہی جاری ہیں۔ دونوں ریاستوں کے حکمرانوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک نے ”اٹوٹ انگ “کے نام پر قبضہ کو جائز سمجھا اور دوسرے نے ”شہ رگ “کے نام پر اس خطے کے وسائل لوٹنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ پاکستانی ریاست ظاہراً کشمیریوں کےلئے حق خودارادیت کی مانگ کرتی آئی ہے لیکن سامراجی ادارے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے انتخاب تک کشمیریوں کے حق خودارادیت کو محدود کرنے کا عمل بھی پاکستانی ریاست کی جانب سے کیا گیا، آزادو خودمختار جموں کشمیر کا آپشن پاکستانی درخواست پر ختم کیا گیا تھا۔ جبکہ جن عالمی اداروں سے مسئلہ کشمیر حل کروانے کی بھیک مانگنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے انکے سامنے یہ بھی پاکستانی ریاست تسلیم کر چکی ہے کہ پہلے پاکستانی ریاست اپنے فوجیوں اور شہریوں کا جموں کشمیر سے انخلاءکرے گی، بھارتی فورسز کا محدود حصہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کےلئے ریاست جموں کشمیرمیں موجود رہے گا۔
حق خودارادیت تک دفاع، خارجہ امور اور کرنسی کے علاوہ تمام تر مالیاتی اور سیاسی اختیارات مقامی حکومتوں کے سپرد کئے جانے پر بھی دونوں ملکوں کے حکمران انہی سامراجی اداروں کے سامنے تسلیم کر چکے ہیں۔ لیکن پاکستان کی جانب سے 1950ءسے مسلسل آئینی، سیاسی، مالیاتی اختیارات پر شب خون مارنے کا سلسلہ جاری رہا، آخری وار گزشتہ سال ”ایکٹ 1974ءمیں تیرہویں آئینی ترمیم “اور گلگت بلتستان پر نافذ کئے گئے ”جی بی آرڈر 2018ء“کی صورت میں مارا گیا۔ دونوں مذکورہ مسلط کردہ سامراجی ایکٹ ہا میں پاکستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں سے تمام سیاسی، مالیاتی او ر آئینی حقوق چھین کر وزیراعظم پاکستان اور صدر پاکستان کو سونپ دیئے گئے ۔ مذکورہ حکم ناموں کے تحت کشمیری ،پاکستان کےساتھ الحاق کی شرط قبول کئے بغیر زندہ رہنے کا مجاز بھی نہیں ہے، چپڑاسی کی نوکری سے لیکر سیاسی جماعت کے قیام اور انجمن سازی کےلئے ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا حلف دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر دہشت گردی اور غداری جیسے مقدمات اور نوے روز تک بغیر کسی عدالت میں پیش کرنے کے سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار کئے جانے جیسے کالے قوانین مسلط کئے گئے۔ باباجان، افتخار کربلائی سمیت چودہ افراد کو نوے سال، ستر سال، چالیس سال کی سزائیں سنا کر جیلوں میں مقید رکھنا، سیاسی جدوجہد کرنے والوں کو شیڈول فور(جو دہشت گردوں کے خلاف بنائے گئے قوانین ہیں) میں شامل کر دینے جیسے اقدامات بھی پاکستانی ریاست ہی کر رہی ہے۔
دوسری طرف بھارتی حکومت جس نے پہلے پہل تو امریکہ اور سوویت یونین کی جانب سے دنیا کی تقسیم کے معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ماسکو کے احکامات کے پیش نظر شیخ عبداللہ کی اصلاحات کو ختم کرنے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں کی داخلی خودمختاری کو محدود کرنے کے جس عمل کا آغاز کیا تھا وہ بالآخرجموں کشمیر و لداخ کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے وفاق کے زیر اثر علاقوں میں تبدیل کر نے اور ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ آبادی کو عملاً جیل میں تبدیل کردینے پر منتج ہوا ہے، اس دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا، انسانیت سوز جنگی اور فوجی جرائم کی ایک اندوہناک تاریخ رقم کی گئی ہے۔ ہر پانچ سے سات افراد پر ایک فوجی کی تعیناتی اس خطے میں بسنے والے انسانوں کے ذہنی اور جسمانی کرب کے اظہار کےلئے شاید کافی ہے۔ یہ سب اقدامات ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو سامنے رکھ کر کئے جا رہے ہیں لیکن درحقیقت بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کی لوٹ مار کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے ۔بھارت کے اندرونی تضادات ناقابل مصالحت حد تک بڑھ چکے ہیں، بی جے پی کی فسطائی حکومت جن وعدوں اور اعلانات کے عوض الیکشن میں کامیاب ہوکر آئی تھی ان وعدوں اور اعلانات پر عملدرآمد کرنے میں مکمل ناکامی کی وجہ سے تمام داخلی تضادات کی توجہ ایک انسانی المیے پر مرکوز کرنے کےلئے کشمیریوں پر وحشت اور بربریت مسلط کر دی گئی ہے۔
کشمیری کسی صورت پاکستان یا بھارت کی ریاستوں کی طرف کوئی آس اور امید لگائے نہیں بیٹھے ہیں، دونوں اطراف میڈیا پر سخت پہرے، سنسر شپ اور ریاستی پروپیگنڈے میں کشمیر کے منقسم حصوں سے اٹھنے والی حقیقی آوازوں کو دبا لیا جاتا ہے۔ جس کی واضح مثال چھبیس اگست کو پاکستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر کے مختلف شہروں اور راولپنڈی میں منعقدہ احتجاج (جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی)اور لاہور لیفٹ فرنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی مارچ (جس میں سیکڑوں پاکستانی ترقی پسند خواتین و حضرات اور طلبہ نے شرکت کی)سمیت متعدد ایسے واقعات کو میڈیا سکرینوں سے غائب کر کے ایک مخصوص پروپیگنڈہ کو تواتر کے ساتھ تشہیر کی جا رہی ہے۔ بھارت نے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر رکھا ہے ، میڈیا کو رسائی نہیں مل رہی ہے اور ایک مستقل پروپیگنڈہ کی صورت جموں اور لداخ میں باشندہ ریاست قانون کی معطلی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو مکمل سنسر کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ بی جے پی کے اپنے رہنماﺅں نے جب اعتراضات کئے تو انہیں شو کاز نوٹسز جاری کئے جا رہے ہیں۔
کشمیری کسی سامراجی حمایت کے متمنی بھی نہیں ہیں، کشمیر کی جدوجہد آزادی کو کوئی پراکسی منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکتی ،نہ ہی پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والی کوئی جنگ کشمیریوں کو آزادی سے سرفراز کر سکتی ہے(پاکستان و بھارت ایک بڑی جنگ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے)۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کامیابی کا انحصار اگر کسی پر ہے تو وہ پاکستان اور بھارت میں بسنے والے محنت کشوں اور نوجوانوں کی اس نظام سرمایہ سے آزادی کی جدوجہد کے ساتھ عملی جڑت پر ہو گا، اس خطے میں بسنے والے تمام مظلوم، محکوم اور مجبور عوام کے دکھ مشترک ہیں، انکی اس حالت کے ذمہ دار اس خطے کے حکمران طبقات اور دونوں ریاستیں مشترکہ طور پر ہیں، اس لئے ان کی آزادی کی جدوجہد بھی مشترک ہے، ان ریاستوں کے خاتمے، اس خطے سے سرمائے کی لوٹ مار اور سامراجی جبر کے خاتمے اور حقیقی انسانی آزادی کے حصول کی اس جدوجہد کو مشترکہ بنیادوں پر ہی لڑا اور جیتا جا سکتا ہے۔ برصغیر کی تقسیم سے وجود پانے والی دونوں ریاستوں پر براجمان حکمران طبقات اگر کشمیر کے رستے زخم کو استعمال کر کے پونے دو ارب آبادی پر حکمرانی کو دوام بخشتے آئے ہیں تو پھر وہ وقت بھی دور نہیں جب ان پہاڑوں سے ابھرنے والی بغاوت کی چنگاریاں ان حکمران طبقات کو انکی ریاستوں کے سرمایہ دارانہ ڈھانچوں سمیت اکھاڑ پھینکتے ہوئے نسل انسانی کے آزاد اور حسین مستقبل کی بنیادیں رکھنے کا باعث بھی بنیں گی۔












12 تبصرے “جموں کشمیر سے متعلق میڈیا پروپیگنڈہ سے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش”