مسئلہ کشمیر: بہتر سالہ تنازعے میں‌ کب کیا ہوا؟

دانش ارشاد
صحافی و کالم نگار

22 اکتوبر 1947 کو وجود میں آنے والا تنازعہ کشمیر اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ذیل میں‌بہتر سال کے دوران اس مسئلے کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو ترتیب کے ساتھ لکھنے کی کوشش کی گئی ہے:

تقسیم برصغیر کے فورا بعد ریاست جموں کشمیر کے مہاراجہ نے پاکستان اور ہندوستان کو معائدہ قائمہ کی درخواست کی جو پاکستان نے قبول کی اورہندوستان نے کوئی جواب نہیں دیا تھا. یوں پاکستان کا ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ معائدہ قائمہ (Stand Still agreement) ہوا.

پاکستان کی طرف سے 22 اکتوبر 1947 کو قبائلی کشمیر میں داخل ہوئے اور 24 اکتوبر 1947 کو سردار ابراہیم نے باغی حکومت کے قیام کا اعلان کیا اور ریاست کے چھوٹے سے ٹکڑے پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر کے صدر بن گئے۔

26 اکتوبر1947کو مہاراجہ ہری سنگھ نے قبائلی حملے کے خلاف ہندوستان مدد طلب کی اور بھارت کےساتھ الحاق کی دستاویز پردستخط کر دیئے۔


27 اکتوبر 1947 کو ہندوستان کی افواج سری نگر پہنچیں اور یوں ریاست جموں و کشمیر پاک و ہند کی پہلی لڑائی کا اکھاڑہ بنا۔

27 اکتوبر کو ہی جنرل گریسی نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا کشمیر میں افواج بھیجنے کا حکم ماننے سے انکار کیا تھا۔

29 اکتوبر کو پاکستان کی جانب سے قبائلیوں اور ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل دستے کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

31 اکتوبر 1947کو شیخ عبداللہ کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔

یکم نومبر 1947کو گلگت سے مقامی عوام نے ڈوگرہ فوج کو بھاگنے پر مجبور کیا اور آزادی حاصل کی۔

16 دن خود مختار حیثیت میں رہنے کے بعد 16 نومبر 1947 کو پاکستان کی جانب سے پولیٹیکل ایجنٹ خان محمد عالم نے گلگت کا انتظام سنبھالا۔

نومبر میں ہی جموں کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں، ہندووں اور سکھوں کا قتل عام ہوا۔

31 دسمبر 1947 کووزیر اعظم ہند جواہر لال نہروکشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گئے۔

یکم جنوری 1948 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کو مسئلہ کے طور پر تسلیم کیا۔

28 جنوری 1948 میں شیخ عبداللہ سلامتی کونسل میں جانے والے ہندوستانی وفد میں شامل کیے گئے۔

اگست 1948 میں بلتستان کے علاقوں نے مہاراجہ کی فورسز سے آزادی حاصل کی۔

اگست 1948 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر پر تصفیہ کیلئے رائے شماری تجویز کی جس کے مطابق کشمیری ہندوستان، پاکستان یا الگ ررہنے کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔(جنوری سے اگست تک سلامتی کونسل میں چھ مختلف قراردادیں پیش ہوئیں جن کے بعد 13 اگست1947 کو رائے شماری تجویز ہوئی)۔

یکم جنوری 1949میں کشمیر میں پاک و ہند کی جنگ بندی ہوئی۔

جنوری 1949 پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ رہنے تک محدود کر دیا۔ اور پاک و ہند کے زیر انتظام ریاست کے علاقوں میں انتظام چلانے کیلئے مقامی حکومتوں کے قیام کی اجازت دی۔

اپریل 1949 میں باغی حکومت اور حکومت پاکستان کے درمیان کراچی میں معائدہ ہوا جس میں باغی حکومت کو انتظامی حکومت کی حیثیت حاصل ہوئی اور اس حصے کو آزاد ریاست جموں و کشمیر کا نام دیا گیاجبکہ اسی معائدے میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ تسلیم کیا گیا تاہم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو الگ یونٹ کے طور پر رکھا گیا۔

جون 1949 کو مہاراجہ ہری سنگھ کو کشمیر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور کرن سنگھ کو ریاست کا صدر بنایا گیا۔

17 اکتوبر1949 کو ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی نے دفعہ 370 کی صورت ہندوستان کے آئین میں خصوصی حیثیت دی اور نیم خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔

مئی 1950 میں ڈکسن پلان سامنے آیا جو بحث و مباحثے کے بعد اگست 1950 میں ناکام قرار پایا۔

1950 میں حکومت پاکستان کی جانب سے سردار ابراہیم کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی صدارت سے معزول کئے جانے پر عوامی ردعمل سامنے آیا جسے دبانے کیلئے پنجاب کانسٹیبلری کو بھیجا گیا اور مزاحمت کو ختم کرنے کیلئے فورسز نے پونچھ میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور آبروریزی کی.

ستمبر،اکتوبر 1951 میں مقبوضہ کشمیر میں دستور ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ جس میں نیشنل کانفرنس نے یکطرفہ کامیابی حاصل کی اور تمام کی تمام 75 نشستوں پر نیشنل کانفرنس کامیاب قرار پائی۔

اسی دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی جس کے مطابق یہ انتخابات رائے شماری پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ یہ انتخابات مقامی انتظام کیلئے تھے۔

جنوری 1952 میں شیخ عبداللہ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات کی جس کے نتیجے حکومت کو خطرات لاحق ہو گئے اور جولائی میں دہلی ایگریمنٹ کرنا پڑا۔جس کے تحت مہاراجہ کی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے صدر ریاست کا عہدہ تخلیق کیا گیا تھا۔

مئی 1953 میں ایک مرتبہ پھر شیخ عبداللہ نے آزادی اور رائے شماری کی بات کی جس پر ان کو معزول کر کے گرفتار کر لیا گیا۔

فروری 1954 میں جموں کشمیر اسمبلی نے الحاق ہندوستان کی قرارداد منظور کی.

1954 میں ہی ہندوستان کے صدر نے صدراتی حکم نامے سے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں 35 اے کی صورت میں سٹیٹ سبجیکٹ کی توثیق کی۔

1955 میں شیخ عبداللہ ڈیل کے تحت رہا ہوئے۔

1956 میں بھارت کی جانب سے بھارتی کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ قرار دیا گیا۔

جنوری 1957 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہندوستان کے اس فیصلے پر قرارداد منظور کی کہ اس سے ریاست کی متنازع حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

1959 میں چین اور ہندوستان کی جنگ کے دوران لداخ کے کچھ علاقے چین کے پاس چلے گئے.

1960 میں کشمیر کے دریاؤں پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سندھ طاس معائدہ ہوا(حالانکہ یہ نہری پانیوں کا تنازع تھا اور یہی تقسیم کو برقرار رکھنے کی بنیاد ہے)۔

1960 میں ایوب خان نے بی ڈی نظام کے تحت گلگت بلتستان میں مقامی حکومتوں کے قیام کیلئے انتخابات کروائے.

1960 میں چناب فارمولا (تقسیم کشمیر کا پہلا فارمولا) پیش ہوا.

1963 میں شمالی علاقہ جات اور چین کی سرحد کی تقسیم ہوئی اور پاک چین معائدہ (سینو پاک ایگریمنٹ) ہوا۔

1964 میں ہندوستان نے اپنے آئین کا دائرہ کار کشمیر تک بڑھاتے ہوئے کشمیر کے صدر کو گورنر اور وزیر اعظم کو وزیر اعلی کا درجہ دیا۔

ستمبر 1965 میں پاکستان اور ہندوستان کی جنگ ہوئی۔جنوری 1966 میں تاشقند معائدہ ہوا۔

1970میں آزاد کشمیر میں ایکٹ کے ذریعے پہلے صدارتی انتخابات ہوئے۔

1971 میں گلگت بلتستان میں ایف سی آر کا خاتمہ ہوا.

1972 میں شملہ معائدے کے تحت سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا اور مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ کے بجائے دو ملکی تنازع بنا دیا گیا.

1974 میں آزاد کشمیر کو ایکٹ کے ذریعے پہلی اسمبلی وجود میں آئی اور عبوری آئین ملا۔

1975 میں اندرا شیخ ایکارڈ ہوا اور شیخ عبداللہ گیارہ سال بعد پھر کشمیر کا وزیر اعلی بنے۔

1975ء میں بھٹو نے نادرن ایریا(گلگت بلتستان) ایڈوائزری کونسل قائم کی جس میں آٹھ ممبران گلگت بلتستان سے تھے اور آٹھ وفاق کی جانب سے مقرر کردہ لوگ تھے.

ضیاالحق کا مارشل لاء آیا تو نادرن ایریاز کو E زون قرار دیا اور پھر 1981ء میں گلگت بلتستان میں پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کا نفاذ کر دیا۔

1984 میں مقبول بٹ شہید کو تہاڑ جیل دہلی میں پھانسی دی گئی.

1988 میں مقبوضہ وادی میں عسکری تحریک شروع ہوئی. ابتدا لبریشن فرنٹ نے کی بعد ازاں جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیمیں بھی اس تحریک کا حصہ بنیں.

1990 میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے لائن آف کنٹرول توڑنے کی کوشش کی جس میں کئی نوجوان شہید ہوئے.

1990 میں امان اللہ خان نے لندن میں ریاست جموں کشمیر کی باغی حکومت کے قیام کا اعلان کیا.

1992 میں لبریشن فرنٹ نے امان اللہ کی قیادت میں لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی.

1994 میں بے نظیر نے گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ گورنینس آرڈر دیا جس کے مطابق عدالتی اصلاحات اور دیگر تبدیلیاں ممکن ہو سکیں۔

1999 میں اعلان لاہور ہوا جس میں شملہ معاہدے کی طرح تمام مسائل کو باہمی بات چیت (bilateral ) حل کرنے پر اتفاق ہوا.

1999 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر فیصلہ دیا اور وہاں اصلاحات کا حکم دیا جن پر مشرف کے مارشل لاء کی وجہ عملدرآمد نہ ہو سکا.

2000 میں حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیز فائر کا اعلان کیا جسے دو دن بعد ہی اسلام آباد میں سید صلاح الدین نے پریس کانفرنس کر کے واپس لے لیا.

2003 میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مشرف نے چار نکاتی فارمولا پیش کیا جس پر پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی (اس سے قبل کسی موقع پر بھی کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کا تکلف نہیں کیا گیا تھا اور نہ اس کے بعد اب تک کسی نے یہ تکلف کیا).

2005 میں کشمیر کے منقسم خاندانوں کیلئے مظفرآباد تا سری نگر بغیر ویزہ بس سروس کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے.

2005 میں لائن آف کنٹرول پر بھاڑ (خاردار تاریں اور لائٹنگ ہوئی) لگائی گئی.

2005 میں گلگت بلتستان کے گورننس آرڈر میں اصلاحات لائی گئیں اور سپریم اپیلٹ کورٹ کا قیام عمل میں آیا.

2008 میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کا آغاز ہوا. جو کئی مرتبہ تعطل کے باوجود تاحال جاری ہے.

2009 میں گلگت بلتستان میں صدارتی حکم نامے کے تحت پارلیمانی نظام کا نفاذ ہوا اور گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل وجود میں آئیں.

2014 میں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا.

2016 میں برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں حالات مسلسل کشیدہ رہے.

2018 میں گلگت بلتستان کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ایک اور آرڈر دیا گیا جو تاحال نافذ نہیں ہو سکا.

2018 میں ہی آزاد حکومت کو تیرہویں ترمیم کے ذریعے کچھ مالی اختیارات دیے گئے اور کئی وفاقی اداروں کو آزاد کشمیر میں بالواسطہ اور بلاواسطہ مداخلت کی اجازت بھی دے دی گئی.

2019 میں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا جن کو یونین ٹیریٹری کا درجہ دیا گیا. اس سے ریاست کا آئین, جھنڈا, ٹکٹ سمیت سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کیا گیا ہے.

دانش ارشاد

اسلام آباد میں کشمیری اخبار کے ساتھ منسلک ہیں، مسئلہ کشمیر پر گہری نظر رکھتے ہیں، قومی و کشمیری اخبارات میں آر پار ان کے مضامین تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں۔تعلق راولاکوٹ سے ہے۔

مسئلہ کشمیر: بہتر سالہ تنازعے میں‌ کب کیا ہوا؟” ایک تبصرہ

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: