سری نگر میں پابندیوں کے باوجود احتجاجی مظاہرے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کے دارالحکومت سری نگر میں مسلسل تیسرے روز آج اتوار کو کرفیو کی پابندیاں نرم کر دی گئیں تاکہ لوگ عید الاضحیٰ منا سکیں۔

سری نگر شہر کے منتظم شاہد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہر میں 250 سے زائد اے ٹی ایم مشینوں نے کام شروع کر دیا ہے اور بینکوں کی شاخیں بھی کھلی ہیں تاکہ لوگ پیر کے روز منائی جانے والی عید الاضحیٰ سے قبل پیسے نکلوا سکیں۔

تاہم حکام کی طرف سے اس بات کی غیر جانبدار ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ لوگ مارکیٹوں میں عید کی خریداری کر رہے ہیں کیونکہ کشمیر میں تمام تر مواصلاتی رابطے اور انٹرنیٹ آج ساتویں روز بھی بند ہیں۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق نئی دہلی ٹیلی ویژن چینل نے جیپوں کی ویڈیو دکھائی ہے جن میں دوپہر کے وقت لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو فوراً واپس لوٹ جائیں اور دکانداروں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی دکانیں فوری طور پر بند کر دیں۔ بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق اس اقدام کی وجہ سری نگر میں کرفیو کی پابندی نرم ہونے کے بعد ہونے والی اکا دکا جھڑپیں ہو سکتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مکمل کرفیو کے باعث گذشتہ پیر کے روز سے اپنے گھروں میں محصور شہریوں کی طرف سے کسی رد عمل کے خدشے کے باعث حکام انتہائی محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔ کرفیو کی پابندیاں جمعہ کے روز نماز کی ادائیگی کیلئے مختصر وقت کیلئے اٹھائی گئی تھیں۔

تاہم نیوز ایجنسی رائیٹرز کا کہنا ہے کہ آج اتوار کے روز سری نگر میں پابندیوں اور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع رہنے کے باوجود سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جمعہ اور ہفتے کے روز پابندیوں میں قدرے نرمی کے باعث کچھ بیکریاں، میڈیکل سٹور اور پھل کی دکانیں کھل گئیں تاکہ عید الاضحیٰ سے قبل لوگ اشیا اور دوائیں خرید سکیں۔ تاہم اتوار کی دوپہر سے کرفیو کی پابندی دوبارہ عائد کر دی گئی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی واحد مسلم اکثریت والے اس علاقے کی آئین کی شقوں 370 اور 35A کے تحت دی گئی خود مختاری کو ختم کرتے ہوئے گذشتہ اتوار کے روز کرفیو عائد کر دیا تھا اور انرٹیٹ، سیل فون اور تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دئے تھے جس کی وجہ سے کشمیری شہریوں کے بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے مکمل طور پر ختم ہو گئے تھے۔ رائیٹرز کے مطابق اس دوران 300 کے لگ بھگ کشمیری رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رائیٹرز نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار کے روز ظہر کی نماز کے بعد سری نگر کی مسجد ثور کے قریب بہت سے کشمیری اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف نعرے لگائے۔

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 80 لاکھ کی آبادی کی وادی کشمیر کے شہری پچھلا پورا ہفتہ مکمل طور پر نظر بند رہے اور بھارتی فوج ہزاروں کی تعداد میں مسلسل علاقے کی سڑکوں پر گشت کرتی رہی۔ سڑکوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، سکول بند رہے، فوجیوں نے عمارات کی چھتوں پر مورچے بنا رکھے تھے اور انٹرنیٹ، موبائل فون سروس اور لینڈ لائنیں بھی مکمل طور پر بند رہیں۔ یوں وادی کشمیر بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے ضروری ہیں۔ تاہم نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے باوجود جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ نیو یارک ٹائمز نے ایک بھارتی فوٹوگرافر کی بنائی گئی چند تصاویر شائع کی ہیں جس نے پابندیوں کے باوجود وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے تصاویر ارسال کی ہیں۔ ان تصویروں میں سری نگر میں فوج کا گشت، سڑکوں کی جگہ جگہ ناکہ بندی اور کرفیو کی نرمی کے دوران چند شہریوں کو خریداری کرتے دکھایا گیا ہے۔

نیوز ایجنسی ’دا وائر‘ نے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ بہت سے کشمیری پیلٹ گن سے زخمی ہو کر سری نگر ہسپتال وارڈ میں علاج کیلئے پہنچے ہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: