اب جبکہ بی جے پی کے اتحاد میں قائم بھارتی حکومت نے بھارتی آئین کی دفعہ 370کی کامیابی سے تنسیخ کر لی ہے تو ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا مذکورہ آرٹیکل بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی ترقی میں رکاوٹ تھا یا نہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا کہ جہاں ملک ترقی کر رہا ہے وہ جموں کشمیر کے عوام غربت میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرٹیکل 370کی وجہ سے جموں کشمیر میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کا کوئی ماڈل نہیں تھا، صحت کا نظام مخدوش ہے اور بچوں کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں تھی۔
اس بحث کے ضمن میں بھارتی نشریاتی ادارے کی جانب سے بھارتی بیورو آف شماریات کی مدد سے کچھ اعداد و شمار جمع کئے ہیں، جن سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا جموں کشمیر ریاست اتنی بری طرح پرفارم کر رہے تھی جس طرح حکومت بیان کر رہی ہے یا نہیں۔ اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو بہت سارے کیسز میں ریاست کی قومی اوسط سے بہترپرفارمنس نظر آتی ہے۔
صحت انڈیکس میں جموں کشمیر کس مقام پر ہے؟
۱)۔ مجموعی ہیلتھ انڈیکس
جموں کشمیر نے مجموعی ہیلتھ انڈیکس میں بہتری ظاہر کی ہے، سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2014-15میں ریاست گیارہویں نمبر پر رہی، جبکہ 2015-16میں اس کی پوزیشن میں مزیدبہتری آئی اور وہ ساتویں نمبر پر رہی۔
سب سے نچلے درجوں پربہار، راجستھان اور اتر پردیش کی ریاستیں موجود ہیں۔
۲)۔بچوں کی شرح اموات
بچوں کی شرح اموات 2017کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں فی ہزار بچوں میں سے تینتیس ہے۔ جبکہ جموں کشمیر میں یہی اوسط 23ہے، جو قومی اوسط سے کہیں کم اور بہت ساری بھارتی ریاستوں سے بہتر ہے۔
ناگالینڈ، گوواہ اور کیرالہ بچوں کی شرح اموات کے اعداد و شمار میں سب سے نیچے ہیں۔

۳)۔متوقع عمر
متوقع عمر ایسا شماریاتی پیمانہ ہے جس کے ذریعے سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ایک شخص کی اوسط عمر کتنے سال ہو گی۔
بھارتی مردم شماری کے مطابق 1970-75بھارت میں اوسط عمر 49.7سال تھی، جو 2012-16کے دوران 68.7سال تک بڑھی ہے لیکن جموں کشمیر میں اوسط عمر 73.5سال ہے جو قومی اوسط سے ایک مرتبہ پھر بہت زیادہ ہے۔

فی کس گھریلو مصنوعات
فی کس گھریلو مصنوعات میں جموں کشمیر کی شرح 2016-17فی کس 78613روپے ہے جو بہت ساری ریاستوں سے بہتر ہے۔

غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کا تناسب
بھارتی پلاننگ کمیشن کے انڈیکس 2011-12کے مطابق انڈیا میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کا تناصب 21.9فیصد تھا جبکہ جموں کشمیر میں 10.35فیصد تناسب تھا۔

بیروزگاری کا ڈیٹا
بھارتی ادارہ شماریات کے مطابق بیروزگاری کی شرح ماہ جولائی 2019میں جموں کشمیر میں 17.4فیصدرہی۔

شرح خواندگی
بھارتی ریاستی اعدادو شمار کے مطابق 2011میں بھارت کی مجموعی شرح خواندگی کی اوسط 72.99فیصد رہی جبکہ جموں کشمیر میں یہ شرح 67.16فیصد رہی۔
راجستھان، بہار، اروناچل پردیش، اتر پردیش شرح خواندگی میں جموں کشمیر سے نچلے درجے پرہیں۔













25 تبصرے “کیا آرٹیکل 370 بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی ترقی میں رکاوٹ تھا۔۔۔۔۔؟ اعداد و شمار ملاحظہ کیجئے”