کارگل میں احتجاجی مظاہرہ: یہ بھارت کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے اور کشمیری عوام اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے: اصغر علی کربلائی

بھارت کے جمّوں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف جمّوں و کشمیر کے علاقے کارگل میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

بدھ اکثریتی علاقے لداخ کی سرحد پر واقع مسلم اکثریتی علاقے کارگل میں نئی دہلی انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہندو قومیت پرست حکومت کو ملک کا سیاسی نقشہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کارگل کی دینی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے جاری کردہ بیان میں عوامی رائے لئے بغیر علاقے کے بارے میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کی مذمت کی گئی ہے ۔

بیان میں حکومت کے اس غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف علاقے بھر میں کاروباری مراکز اور اسکولوں کو بند کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

کارگل کے سابق اسمبلی ممبر اصغر علی کربلائی نے بھارت کے جمّوں و کشمیر سے متعلق فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ “یہ بھارت کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے اور کشمیری عوام اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے”۔

کربلائی نے کہا ہے کہ” لداخ کی کشمیر سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی لیھ قوم تھی ہم نہیں، کارگل ، دین، زبان اور علاقائی بنیادوں پر علاقے کی تقسیم کے خلاف ہے”۔

واضح رہے کہ بھارت نے نصف صدی سے طویل عرصے سے جاری جمّوں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی حامل آئینی شق نمبر 370 کو ختم کر کے علاقے کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔