بھارتی حکومت کے منظورکردہ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019ء کے بعد کیا ہوگا؟

تحریر: وکاشا سچدیو(لیگل ایڈیٹر کوئنٹ)
ترجمہ: حارث قدیر

بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کی دفعہ370کوغیر فعال کرنے کے ساتھ ہی مودی حکومت نے پیر پانچ اگست کو پارلیمنٹ میں ریاست جموں کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز(مرکز کے زیر کنٹرول علاقے)میں تقسیم کرنے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا۔
جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل2019ء بھارتی راجیہ سبھا (ایوان بالا)سے منظور کروا لیاگیا ہے اور جاری سیشن کے اختتام سے قبل ہی زیادہ امکان ہے کہ لوک سبھا(ایوان زیریں)سے بھی سات اگست کو منظور کروا لیا جائے گا۔
اگرچہ یہ بل سیدھا سادھا قانون سازی کا ایک ٹکڑا لگتا ہے لیکن یہ حکومت کے پیچیدہ ہتھکنڈوں کا حصہ ہے جیسے آرٹیکل 370کے خلاف حکم کی پیش گوئی تھی اور یہ ویلی اور اس کے عوام پر دو رس اثرات مرتب کرے گا۔ انہی مضمرات اور اثرات کومد نظر رکھتے ہوئے مقبوضہ وادی کی تقریباًتمام مین سٹریم لیڈرشپ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور متعدد دیگر قائدین شامل ہیں۔

یہاں ہم جائزہ لیں گے کہ کیسے وزیراعظم مودی اوروزیر داخلہ امت شاہ نے کیسے اپنے دیرینہ مقصد کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا اور اس کے بعد ریاست جموں و کشمیر (بھارتی زیر انتظام کشمیر) میں کیا تبدیلیاں آئیں گی۔۔۔۔؟

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے الیکشن 2019کے منشور میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے کا وعدہ کیا تھا، ایسا ہی وعدہ انہوں نے 2014کے انتخابات میں بھی کر رکھا تھا لیکن اس مرتبہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اس وعدے کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بل پیش کرنے سے قبل صدارتی حکم کے اجراء نے اس سب کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد پورا بھارتی آئین جموں و کشمیر پر لاگو ہو گیا(جو پہلے آرٹیکل 370کے میکینزم کے تحت لاگونہیں ہو سکتا تھا) اور یہ ممکن ہوا کہ جموں و کشمیرکو یونین ٹیریٹری قرار دیا جا سکے۔ صدارتی حکم نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370میں تبدیلی کی مجوزہ قرارداد پیش کرنے کی راہ ہموار کی۔

لداخ اورجموں و کشمیر کودو الگ الگ یونین ٹیریٹریز قرار دیئے جانے کے اسباب و موضوعات پر مبنی بیان کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔
٭ لداخ کیلئے استدلال یہ ہے کہ ”یہ لداخ کے لوگوں کا ایک طویل الالتواء مطالبہ رہاہے کہ لداخ کو یونین ٹیریٹری (مرکز کے ساتھ منسلک علاقہ) کا درجہ دیکر انکے احساس محرومی کا خاتمہ کیاجائے“
٭ جبکہ جموں کشمیر کیلئے امت شاہ نے وجہ بیان کی کہ”موجودہ ریاست جموں کشمیر میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی سے داخلی سکیورٹی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے ایسا کیا جا رہا ہے“۔ یہ بیان انتہائی متنازعہ بننے کا امکان ہے کیونکہ جموں و کشمیر کو وفاق کا پابند بنانے اور جموں و کشمیر کو غائب کرنے کیلئے اس طرح کا جواز ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا۔
لداخ کی یونین ٹیریٹری ضلع کارگل اور لیہ پر مشتمل ہو گی، جبکہ موجودہ ریاست جموں و کشمیر(بھارتی زیر انتظام کشمیر) یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر کہلائے گی۔ بھارتی منصوبہ کے مطابق یونین ٹیریٹریز کے نقشے بھی مختص کئے گئے ہیں، جن میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو بھی جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں دکھایا گیا ہے۔

یونین ٹیریٹری لداخ کی اپنی قانون ساز اسمبلی نہیں ہو گی جبکہ یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی۔ یہ یونین ٹیریٹریز اور ریاستوں کے مابین ایک بڑا فرق ہے کہ تمام ریاستوں کی اپنی قانون ساز اسمبلیاں ہیں جو ان کیلئے قانون سازی کرتی ہیں لیکن یونین ٹیریٹریز عام طور پر ایسا نہیں کر سکتیں بلکہ صدر مملکت کے ذریعے انکا انتظام چلایا جاتا ہے۔
٭یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر دہلی اور پدو چری کی یونین ٹیریٹریز کی طرز پر تیسری ٹیریٹری ہو گی جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ جبکہ یونین ٹیریٹری لداخ چندی گڑھ اور دیگر بھارتی یونین ٹیریٹریز کی طرح بنا اسمبلی کے ہی رہے گی۔
٭لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر (موجودہ ستیا پال ملک) دونوں لداخ اور جموں کشمیر کی یونین ٹیریٹریزکے گورنر تعینات کئے جائیں گے۔
٭بھارتی راجیہ سبھا میں ریاست جموں کشمیر کے موجودہ چار نمائندے اب جموں کشمیرکی نمائندگی کریں گے۔ لداخ کی اب پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں کوئی نمائندگی نہیں ہو گی۔
٭جموں کشمیر کے پانچ نمائندگان ایوان زیریں (لوک سبھا) کیلئے چنے جائیں گے، جبکہ لداخ کا ایک نمائندہ ایوان زیریں میں جائے گا، موجودہ ریاست جموں کشمیر(بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر) کے سات ممبران پارلیمنٹ لوک سبھا میں ہیں۔
٭جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی اور لوک سبھا کیلئے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی جو بل کے شیڈول میں متعین کر دی گئی ہیں۔ یہ بھی مودی اور امت شاہ کے دیرینہ پالیسی مقاصد کو ظاہر کرتا ہے۔

جموں کشمیر یونین ٹیریٹری (یوٹی جے کے)کی حکومت کیسے آپریٹ کریگی؟
یو ٹی جے کے حکومت دہلی طرز کی بجائے پدوچری طرز پرآپریٹ کریگی۔ قانون ساز اسمبلی اور وزراء کی کونسل قائم کرنے کیلئے آئین کا آرٹیکل339اے لاگو ہوگا۔ یو ٹی جے کے کی قانون ساز کونسل نہیں ہوگی، یعنی ایوان بالا کے بغیر ایک ہی ایوان پر مشتمل اسمبلی ہوگی۔

قانون ساز اسمبلی
٭یو ٹی جے کے کی قانون ساز سمبلی کل 107نشستوں پرمشتمل ہوگی، جو سابقہ اسمبلی سے چار سیٹیں کم ہو گی، سابقہ اسمبلی میں یہ تعداد 111تھی۔ مذکورہ نشستوں میں سے چوبیس نشستیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں سے متعلق ہونگی اوربدستور خالی رکھی جائیں گی۔موجودہ وقت میں بھی ایسے ہی خالی رکھی جا رہی تھیں۔لہٰذا نئی قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کیلئے 83نشستوں پر انتخابات ہونگے۔
٭ دو خواتین ممبران اسمبلی کو نامزد کرنے کا اختیار لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہوگا اگر وہ یہ محسوس کرے کہ خواتین کی نمائندگی موجود نہیں ہے جو سابقہ پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔
٭ اہم ڈویلپمنٹ یہ ہوئی ہے کہ اب نئی قانون ساز اسمبلی میں شیڈول کاسٹ اورشیڈول ٹرائب کیلئے نشستیں مختص کی جائیں گی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اس خطے میں تحفظ بڑھانے کے وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جو ملک کے باقی حصوں پر لاگو ہوگا ہے۔معاشی طور پر کمزور حصوں کیلئے دس فیصد کوٹہ مختص کرنے کا ایک علیحدہ سے بل بھی اسی روز پیش کیا گیا۔ جو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ایک اور دھچکا ہے۔
٭نئی قانون سازاسمبلی کے ممبران اسمبلی کی مدت پانچ سال ہو گی، جبکہ سابقہ حکومت میں ممبران قانون ساز اسمبلی کی مدت چھ سال تھی۔

وزراء کی کونسل اور لیفٹیننٹ گورنر
٭ یو ٹی جے کے میں وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں وزراء کی ایک کونسل ہو گی جو لیفٹیننٹ گورنر کوتجاویز اور مدد فراہم کرنے سے زیادہ کوئی اختیار نہیں رکھے گی۔
٭ بھارتی سپریم کورٹ نے 2018میں یہ قرار دیاتھا کہ اس طرز کی کابینہ کی تجاویزو مدد لیفٹیننٹ گورنر کیلئے لازمی ہونگی کے ان پرعمل کرے اور امید کی جا رہی ہے کہ ایسا ہی جموں کشمیر یونین ٹیریٹری میں بھی ہوگا، اگرچہ مرکزلیفٹیننٹ گورنر کیلئے بہت زیادہ صوابدیدی انداز میں پیش آنے میں محتاط رہا ہے غالباً اس لئے کہ اروند کیجریوال کی دہلی حکومت کے ساتھ پیش آنیوالی مشکلات اور مسائل جیسے حالات سے بچا جا سکے۔
٭بل میں مندرجہ ذیل مخصوص امور کی وضاحت کی گئی ہے جہاں لیفٹیننٹ گورنر کی صوابدید سے اسمبلی کو ختم کیا جا سکتا ہے:تمام انڈین سروسز اور انسداد بدعنوانی بیورو، دونوں دہلی حکومت کے ساتھ اہم نکات رہے ہیں اورعدالتوں میں بھی زیر بحث رہے ہیں۔
٭لیفٹیننٹ گورنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے منظور کردہ بلات سے اتفاق نہ کریں، یہ صدر کے زیرغور لائے جانے کیلئے محفوظ کر لیں۔ تنازعات کو صدر کی طرف ریفر کرنے کے حوالے سے یہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے مختلف ہے، کیونکہ یہاں لیفٹیننٹ گورنر کو زیادہ صوابدیدی اختیار دیا گیاہے۔

نئی یونین ٹیریٹریز میں کون سے قوانین لاگو ہونگے؟
٭پارلیمنٹ کو مکمل اختیار ہو گا کہ وہ یونین کے دونوں علاقوں کے لئے قوانین بنائے، عام طور پر مرکز ہی یونین علاقوں کیلئے قوانین بنانے میں بااختیار ہوتا ہے۔
٭ جموں کشمیر یونین ٹیریٹری کی قانون ساز اسمبلی آئین کے شیڈول سات میں موجود ریاستی فہرست اور ہم آہنگی فہرست میں موجود تمام امور پر قانون سازی کے ڈرافٹ بنا سکتی ہے۔ (پبلک آرڈر اور پولیس کو چھوڑ کر)۔البتہ ان میں سے کچھ امور مثال کے طور رپ تجارت اور تجارت سے متعلق قوانین بنانے میں یونین ٹیریٹریز بااختیار نہیں ہیں، یہی پابندیاں جموں کشمیر اور لداخ پر بھی عائد ہونگی۔
٭آرٹیکل 370کے تحت مراعات کے خاتمے کے بعد موجودہ بل کیوجہ سے جو بڑی تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین جو باقی پوری ملک میں لاگو ہوتے ہیں وہ اب ریاست جموں کشمیر میں بھی اسی طرح لاگو ہونگے۔ بل کے شیڈول پانچ میں موجود لسٹ کے مطابق ایک سو چھ مرکزی قوانین اب جموں اور کشمیر پر لاگو ہونگے، جبکہ ریاست کے 153قوانین منسوخ ہو جائینگے۔
٭بڑی تبدیلیوں میں انڈین پینل کوڈ کا نفاذ بھی شامل ہے جو کشمیر کے رنبیر پینل کوڈ (آر پی آئی) کی جگہ لے گا، ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ1882 ء کا نفاذ، جو ہ ریاست میں آرٹیکل35اے کے ذریعے خصوصی حیثیت کو ظاہر کرنے والے بنیادی قانون کی جگہ لے گا، مرکزی ذاتی تدوین کردہ قوانین، بشمول ہندو میرج ایکٹ کا نفاذ ہوگا اور مسلم میرج ایکٹ تحلیل ہو جائے گا جو ایک اور تنازعہ کی وجہ بن سکتا ہے۔
٭آئین کی کچھ دفعات جو پہلے جموں و کشمیر پر لاگو نہیں تھیں اب لاگو ہو جائینگی۔مثلاً آرٹیکل 360(مالیاتی ایمرجنسی کا نفاذ)۔ صدارتی راج اب دونوں یونین علاقوں پر نافذ کیا جا سکے گا۔ قبل ازیں جموں و کشمیر میں پہلے کچھ عرصہ گورنر راج نافذ کرنا ضروری تھا اس کے بعد ہی صدارتی راج نافذ کیا جا سکتا تھا۔
٭جموں و کشمیر کے شہریوں کا علیحدہ پاسپورٹ اب قابل عمل نہیں رہے گا اور جموں کشمیر کا آئین بھی اب مکمل طور پر غیر موثر کر دیا گیا ہے۔

کیا یہ سب قانونی طور پر درست ہے؟
جس طریقہ سے جموں کشمیر میں یہ تبدیلیاں متعارف کروائی گئی ہیں وہ اس عمل سے متعلق بہت سارے سوالات اٹھا رہی ہیں اوراگر یہ بل پارلیمنٹ سے پاس ہو جاتا ہے تو اسے چیلنج کرنے کیلئے بہت سا مواد موجود ہوگا۔
سب سے پہلے تو آرٹیکل370پر صدارتی حکم جاری کرنے کی وجہ سے بل پیش کیاجانا ممکن ہو سکا ہے۔ اس کے بغیر نئی یونین ٹیریٹریز پرمرکزی قوانین لاگو کرنا ممکن نہیں تھا، دوسری طرف خود صدارتی حکم چیلنج کرنے کے قابل ہے کیونکہ وہ آرٹیکل 370کی روح کے مطابق نہیں ہے۔
مزید برآں، جموں کشمیر کی نوعیت اس بات سے اندرونی طور پر جڑی ہوئی ہے کہ اس کے عوام اور اسکے نمائندوں نے انڈیا سے الحاق کے وقت جس پر اتفاق کیا تھا۔ الحاق کی دستاویز کے علاوہ 1952کا دہلی اگریمنٹ اور جموں کشمیر کی آئین ساز اسمبلی سے متعلق طویل غورو خوض کے بعد ہونے والے فیصلوں میں کہیں بھی جموں کشمیر کو یونین ٹیریٹری کی حیثیت سے تصور نہیں کیا گیا تھا۔یہ تمام صورت و غور و خوض اسی لئے تھا کہ یہ ایک خصوصی حیثیت والی ریاست ہو گی، لہٰذا یہ دیکھنا مشکل ہے کہ اس سب سے کسی طور بھی موافق نہیں ہے۔ملک کے وفاقی ڈھانچے پر حملہ کرنے اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنے والی چیزوں کی خلاف ورزی پر بھی یہ بل چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
اورپھر یہ بھی ہے کہ اس میں سے کوئی بھی عمل جموں و کشمیر کے لوگوں کی رضا مندی سے نہیں کیا گیا۔ اس کی بجائے مقامی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اب تک مواصلات کا سلسلہ مکمل معطل ہے اور فوجی دستوں کے ذریعے علاقے کو کنٹرول کیا گیا ہے۔
(نوٹ:مذکورہ جائزہ بھارتی نشریاتی ادارے کوئنٹ نے شائع کیا جسے (کچھ لفظی ترامیم کے ساتھ)ہو بہوترجمہ کیا گیا ہے)

بھارتی حکومت کے منظورکردہ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019ء کے بعد کیا ہوگا؟” ایک تبصرہ

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: