پاکستانی کشمیر میں محکمہ جات کی نجکاری کا منصوبہ: ملازم رہنماؤں کی جبری برطرفیاں شروع، تنظیموں نے دفاتر کی تالا بندی کا اعلان کردیا

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے سرکاری محکمہ جات کی نجکاری کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر سب سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے والے دو محکمہ جات کی نجکاری کیلئے راہیں ہموار کی جائیں گی، ان دو محکمہ جات میں محکمہ برقیات اور محکمہ صحت شامل ہیں۔
محکمہ جات کی نجکاری(نجی شعبہ کی تحویل میں دینے) کے عمل کیلئے ابتدائی طور پر ملازمین کی ایسوسی ایشنزکا زور توڑنے اور ایسوسی ایشنوں کے قائدین کو جبری طور پر ریٹائر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر محکمہ برقیات کے غیر جریدہ فنی ملازمین کی تنظیم کے مرکزی صدر اعجاز شاہسوار کو جبری طور پر ریٹائر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ جبکہ محکمہ برقیات سے ہی تعلق رکھنے والے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن آزادکشمیر (ایپکا)کے چیئرمین سردار امتیاز خان کو بھی جبری ریٹائر کرنے کیلئے چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔ اسی طرح محکمہ صحت کے ملازمین کی تنظیم ہیلتھ ایمپلائز کی قیادت کو بھی جبری ریٹائر کرنے کیلئے چارج شیٹس تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ملازم رہنما اعجاز شاہسوار کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم جاری، ناظم برقیات کےخلاف کارروائی نہ ہوسکی، ملازمین کا احتجاج
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے ایک سینئر آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرروزنامہ مجادلہ کو بتایا ہے کہ محکمہ برقیات، محکمہ صحت کے بعد محکمہ تعلیم کو بھی نجی شعبے کی تحویل میں دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، اور اس عمل کیلئے ابتدائی طور پر ملازم تنظیموں پر پابندی عائد کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں سے اس فیصلے کو تحفظ دلوایا گیا تھا لیکن اس سب کے باوجودملازم تنظیموں میں منظم ملازمین کی بڑی تعداد کی جانب سے ممکنہ رد عمل کو دیکھتے ہوئے ملازم تنظیموں کا زور توڑنے کیلئے حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ جس کے تحت ابتدائی طو رپر محکمہ برقیات اور محکمہ صحت کے ملازمین کی قیادتوں میں شامل ملازموں کو جبری طور پر ریٹائر کیا جائے گا۔ جبکہ محکمہ تعلیم میں قائدین کو کارکردگی اور نتائج سے مشروط کرتے ہوئے جبری ریٹائر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔


ایپکا کے چیئرمین کیلئے جاری کی گئی چارج شیٹ میں کیا ہے
ڈی جی کمرشل برقیات مظفرآباد کی جانب سے چیئرمین ایپکا سردار امتیاز کیلئے چارج شیٹ جاری کی گئی ہے، سردار امتیاز خان کو چارج شیٹ جاری کرنے سے قبل ہی معطل کر دیا گیا تھا، چارج شیٹ کے مطابق سردار امتیاز پر کل چار الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
٭آپنے بحیثیتسرکاری ملازم غیرقانونی ہڑتال کرواتے ہوئے بجلی کے نظام کو ماہ جنوری2019ء تا اپریل 2019تک مفلوج بنائے رکھا۔ اس عرصہ میں بلات بجلی کی تقسیم کا نظام بھی متاثر کروایا جس کی وجہ سے صارفین کو بروقت بلات کی اجرائیگی نہ ہو سکی اور محکمہ کی ساکھ متاثرہوئی۔ نیز محکمہ ہذاکو بروقت بلنگ نہ ہونے کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
٭ آپ نے اپنی سروس کے دوران محکمہ ہذا اور دیگر محکمہجات کے نو سے زیادہ افسران کے ساتھ جھگڑے،بدتمیزی، بدکلامی اورگالم گلوچ کے مرتکب بھی پائے گئے ہیں۔ قانونی کارروائی کی وجہ سے متعدد بار آپ کو گرفتار بھی کیا گیا۔
٭آپ قانونی اور اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے حکومت وقت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں جو آپ کی اخلاقی پستی کو ظاہر کرتا ہے۔
٭آپ کے اس رویہ اور عمل سے سرکل راولاکوٹ کے تمام افسران کو سرکاری امور کی انجام دہی میں دشواری کا سامنا ہے۔
لہٰذا آپ درج بالا عائد شدہ الزامات کا جواب اندر معیاد سات ایام انکوائری افسر کے روبرو معہ دستاویزی ثبوت پیش کریں۔ جواب تسلی بخش نہ ہونے کی صورت میں آپ کے خلاف سپیشل پاور ایکٹ 2001کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

کمشنر پونچھ نے دو الگ الگ مکتوب لکھ کر ناظم برقیات کے خلاف کارروائی کی تحریک کر رکھی ہے

اعجاز شاہسوار کے خلاف کارروائی اور ناظم برقیات کے اقدامات
اسی طرح رواں سال جنوری میں محکمہ برقیات کے ملازمین کی تنظیم غیر جریدہ فنی ملازمین کے مرکزی صدراعجازشاہسوار کو بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کر کے سپیشل پاور ایکٹ کے تحت نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا، بعد ازاں ملازمین کی ہڑتال اور سروس ٹربیونل کی جانب سے سپیشل پاور ایکٹ کے تحت برطرفی کا نوٹیفکیشن معطل کئے جانے کے بعد گزشتہ ماہ اعجاز شاہسوار کو محکمانہ کمیٹی کی انکوائری کے بعد جبری ریٹائرکرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تھا۔جبکہ دوسری طرف ناظم برقیات سردار الطاف خان کی جانب سے وزیراعظم کی بجلی بند کروانے کی سازش کرنے اورالزام ملازمین پر عائد کرنے جیسے عمل اورکمشنر پونچھ کی جانب سے لکھے گئے دو خطوط کے باوجود ناظم برقیات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ انکی جانب سے کی گئی مبینہ انتقامی کارروائی پرعملدرآمد کرتے ہوئے محکمہ کے اعلیٰ حکام نے ملازم رہنما کو ہی جبری ریٹائر کر دیا۔ ناظم برقیات پر یہ الزام بھی ملازمین کی جانب سے عائد کیا گیا ہے کہ وہ ملازمین سے زبردستی اضافی یونٹوں کی بلات جاری کروا کر اضافی ریونیو پیدا کر کے دیتے ہیں اس لئے محکمہ کے اعلیٰ حکام ان کے خلاف کسی بھی نوعیت کی کارروائی سے گریزاں رہتے ہیں، جبکہ دو حکومتی وزراء بھی ناظم برقیات کی پشت پر کھڑے ہیں۔


ملازمین اتحاد ایکشن کمیٹی کا رد عمل
ملازمین اتحاد ایکشن کمیٹی (جس میں ضلع پونچھ کی تمام ملازم تنظیمیں شامل ہیں) نے اعجاز شاہسوار کی جبری ریٹائرمنٹ، سردار امتیاز کے خلاف انتقامی کارروائیوں اورناظم برقیات کے ملازم دشمن اقدامات کے خلاف پانچ اگست سے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ ملازمین نے احتجاجی پروگرام کا نوٹس سردار افتخار شاہین کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری کیا ہے۔ ملازمین نے چار نکاتی مطالبات پر عملدرآمد کی مانگ کرتے ہوئے چار اگست تک کی ڈیڈ لائن دی ہے، عملدرآمد نہ ہونے کی صورت پانچ اگست سے دفاتر کی تالا بندی کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملازمین کے مطالبات میں اعجاز شاہسوار اور سردار امتیاز کے خلاف انتقامی کارروائیاں واپس لینے، کمشنر پونچھ کی انکوائری کی روشنی میں لکھے گئے ناظم برقیات کے خلاف خط پر عملدرآمد کرنے، سپیشل پاور ایکٹ کو پاکستان کی طرز پر ختم کرنے اور سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق محکمانہ انکوائری کے ذریعے ملازمین کو انتقام کا نشانہ بنانے سے گریز کئے جانے جیسے مطالبات شامل ہیں۔
ملازمین نے مطالبات کی عدم منظوری کی صورت عیدالاضحی کے بعد انیس اگست کو ڈویژن بھر کے ملازمین کا اجلاس بھی طلب کیا ہے اور اکیس اگست کو پورے ڈویژن میں دفاتر کی تالہ بندی اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان بھی کیا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: