این سی وفد کی مودی سے ملاقات: حالات کی خرابی کا سبب بننے والے اقدام سے گریز کرنے کی اپیل

نیشنل کانفرنس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ ریاست میں ایسا کوئی اقدام کرنے سے گریز کیا جائے جس سے صورتحال بگڑنے کا اندیشہ ہو۔
پارٹی صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی میں3رکنی وفد نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقی ہوا ۔وفد نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے پر چھڑی بحث کے تناظر میں وزیر اعظم سے کہا کہ عدالتیں زیر سماعت کیسوں کا فیصلہ کریں گی اور باقی معاملوں کو منتخب حکومت حل کرے گی۔
وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’’بہت ہی خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، ہم نریند مودی صاحب کے مشکور ہیں کہ وہ آج ہمارے ساتھ ملاقی ہوئے‘‘۔وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے بعد عمر عبداللہ نے نامہ نگاروں کو بتایا’’ہم نے تو وزیر اعظم صاحب سے صرف اتنی ہی گزارش کی کہ جموں وکشمیر کے جو حالات ہیں بڑی مشکل سے قابو میں آتے ہیں اور بہت آسانی سے ان کو بگاڑا جاتا ہے، ہماری تو ان سے یہی مانگ رہی کہ سیاسی یا قانونی طور پر کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس کی وجہ سے وہاں کے حالات دوبارہ بگڑ جانے کا خطرہ پیدا ہو، وزیر اعظم صاحب نے ہمیں ایک اچھے ماحول میں سنا، انہوں نے اپنے کچھ خیالات بھی ہمارے سامنے رکھے‘‘۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا’’دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 جیسے معاملات کو چھیڑنے سے حالات میں خرابی پیدا ہوگی، ہم بہت ہی مطمئن ہوکر وزیر اعظم کے کمرے سے باہر آئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’فاروق صاحب نے بحیثیت صدر اتوار کو سری نگر میں پارٹی کا اجلاس بلایا ہے،آگے کا لائحہ عمل اسی میں طے کیا جائے گا‘‘۔اس دوران پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا’’نیشنل کانفرنس کا ایک وفد آج نئی دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقی ہوا۔ وفد کی قیادت پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کررہے تھے جبکہ اُن کے ہمراہ نائب صدر عمر عبداللہ اور پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ جسٹس (ر) حسنین مسعودی بھی تھے’۔
ترجمان کے مطابق نیشنل کانفرنس وفد نے وزیر اعظم کے ساتھ خوشگوار ماحول میں ہوئی میٹنگ میں گذشتہ دنوں کے دوران ریاست میں فورسز کی اضافی تعیناتی، راشن کا ذخیرہ کرنے، ریلوے ملازمین کے اہل خانہ کو وادی سے باہر بھیجنے، مساجد کے اماموں اور منتظمین کی تفصیلات جمع کرنے، جیسے حکم ناموں کے ذریعے لوگوں میں پھیلی تشویش، بے چینی اور غیر یقینیت کے بارے میں آگاہ کیا۔وفد نے وزیر اعظم سے کہا کہ اگرچہ وادی کے حالات میں سدھار آرہا ہے، امرناتھ یاترا اچھی طرح سے جارہی ہے، ایک ماہ سے کم وقت میں 3لاکھ سے زائد یاتریوں نے گپھا پر حاضری دی، سیاحوں کی آمد اگرچہ بہت اچھی نہیں تاہم قدرے بہتر ہے لیکن حالیہ اقدامات سے ماحول پر منفی اثر مرتب ہوا۔انہوں نے وزیر اعظم کو ریاست خصوصاً وادی کی زمینی صورتحال سے تفصیلاً آگاہ کیا۔فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر میں جلد سے جلد الیکشن کا انعقاد کرکے لوگوں کو ایک جوابدہ حکومت دی جائے کیونکہ ریاست میں گذشتہ ایک سال سے گورنر راج نافذ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حوصلہ افزا انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: