ٹیکسز کیخلاف شٹر ڈاؤن کی کال: آزادکشمیر کے تاجروں نے حمایت کا اعلان کردیا، ایف بی آرکا متنازعہ خطہ میں داخلہ قبول نہیں، سردارافتخار فیروز

آ ل آزاد کشمیر انجمن تاجران کے صدر سردار افتخار فیروز نے کہا ہے کہ 15اور 16اگست کو آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر پاکستان میں شٹر ڈاون کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے تاجران بھی پندرہ اور سولہ اگست کو مکمل شٹر ڈاؤن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاجران پر بے جا ٹیکس لگا کر ظلم وزیادتی کی گئی ہے،ایسا ظالمانہ اور بے جا ٹیکسز کو تاجران کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار ا نجمن تاجران آزاد کشمیر کے صدر سردار افتخار فیروز، جنرل سیکرٹری انجمن تاجران راولاکوٹ حاجی سردار اعجاز حنیف، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سردار طاہر فاروق، چیف آرگنائزر عرفان اشتیاق، سیکرٹری مالیات آصف اشرف، قاضی کامران شریف نے گزشتہ روز غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر کا دائرہ کار آزاد کشمیر تک بڑھایا گیا اور بے جا ٹیکسز کے نام پر تاجران کو زدوکوب کرنے کی کوشش کی گئی تو تاجران اس اقدام کی بھرپور مذمت کریں گئے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے پورئے آزاد کشمیر میں غیر معینہ مدت تک شٹر ڈاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو نئے رولز بناکر تاجران کے لیے مسائل پید ا کیے جا رہے ہیں یہ قابل قبول نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک متنازعہ او ر آفت زدہ علاقہ ہے،یہاں کے تاجران پر بے جا ٹیکسز کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے اور تاجران کے ساتھ سر اسر زیادتی و ناانصافی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تاجران کے حقوق کے لیے پہلے بھی جنگ لڑ چکے ہیں اور آئندہ بھی تاجران کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
انہو ں نے کہاکہ تاجران پہلے ہی جو ٹیکسز ادا کررہے ہیں ان کی ہی کوئی سہولت انہیں فراہم نہیں کی جارہی ہے، آئے روز تاجران پر نئے نئے ٹیکسز عائد کر کے انہیں زیر بار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔تاجران کو سہولیات فراہم کی جائیں،اس کے بعد تاجران سے ٹیکس کا مطالبہ کیا جائے، نئے ٹیکسز لگنے سے مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے جس سے براہ راست عام آدمی متاثر ہورہا ہے، حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اور اس کا نزلہ تاجران پر گرانا چاہتی ہے۔تاجران حکومت کے کسی بہکاوے میں نہیں آئیں گے اور اپنے حقوق کیلئے مل کر جدوجہد کریں گے۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ یہ مشترکہ جدوجہد ہے، تمام لوگ اگر مل کر اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیر بار نہیں کر سکتی، ٹیکس جو بھی تاجروں پرلگائے جا رہے ہیں وہ پھر عوام غریب عوام سے وصول کئے جانے ہیں۔ اس لئے یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے حقوق کا ادراک کرتے ہوئے مل کر ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد کریں۔
انہوں نے مزید کہاکہ راولاکوٹ شہر میں ٹریفک کا نظام مکمل درہم برہم ہے،کئی بائی پاس سڑکیں بننے کے باوجود شہر میں ٹریفک کا ہجوم رہتا ہے جو کہ ضلعی انتظامیہ کی ناقص پالیسی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹر اور تاجر ا گر مل کر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں تو ان کے مسائل بہتر طریقے سے حل ہوسکتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس تاجران اور ٹرانسپورٹروں کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے تاکہ تاجران بھی مناسب انداز میں کارو بار کر سکیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: